جنگ ستمبر: تم نے کیا مزا پایا
ماہِ ستمبر کو وداع ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں گزرے۔ اس بار 6 ستمبر ہماری ریاستی ٹکسال سے ایک نئے یادگاری سکے کے نام سے ہمارے درمیان آیا۔ اب اسے یومِ دفاع کی بجائے یومِ شہداء کا نام دیا گیا۔
میں نے، جس کی عمر ارضِ پاکستان سے بس نو سال کم ہے، اس سرزمین میں گردشِ مہ و سال کے دوران آسمان تو آسمان، زمین کو بھی کئی رنگ بدلتے دیکھا ہے۔
ہم 65 ء کی جنگ کے کچھ عرصہ بعد ہی پنڈی میں آ کے بسے تھے۔ محلہ ہو یا سکول ہر جگہ یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ اس جنگ میں ہم نے فتح پائی۔ بلکہ حوصلوں کا یہ عالم تھا کہ کون ہو گا جسے یہ مصرعے گنگناتے نہ پایا ہو۔
مہاراج ایہہ کھیڈ تلوار دی اے،
جنگ کھیڈ نہیں ہوندی زنانیاں دی۔
( مہاراج، جنگ عورتوں کے بس کی بات نہیں کہ یہ تلوار سے لڑی جاتی ہے )
اس دور میں چونکہ صنفی تعصب کے اشو کو ابھی صنفِ نازک نے اتنا سیریس بھی نہیں لیا تھا جتنا وہ ساس کے طعنوں کو لیتی تھیں لہذا اس گیت پہ اہلِ دانش نے تنقید کی کمند بھی نہ پھینکی۔
دوسری طرف عمر کے ساتھ ساتھ ذہنی پختگی اور مطالعے کے زیرِ اثر اس جنگ کے حوالے سے ذہن میں ایسے ایسے سوالات ابھرتے رہے جن کا میرے پاس اب بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے۔
میں یہ سمجھتا ہوں ایوب خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بہت سی قباحتوں کے باوجود ہماری قومی زندگی نے درست سمت میں سفر اختیار کر لیا تھا۔ اس رستے میں اگر کوئی واقعہ کھائی بن کر ہمیں اوندھے منہ گرانے کا باعث ہوا تو وہ یہی جنگ تھی۔
یہ بات اب پہیلی نہیں رہی کی اس کھائی میں ہمیں دھکیلنے والوں میں ایک وزیرِ خارجہ، ایک سیکریٹری خارجہ اور ایک آرمی چیف شامل تھے اور اس ایڈونچر کا مقصد ایوب خان کو کمزور کر کے وزیرِ خارجہ کے اقتدار کے سنگھاسن کی آخری گدی پہ براجمان ہونے کے ارمان کو پورا کرنے کا سامان کرنا تھا۔
اقتدار کو حاصل کرنے کے لیے حشر بپا کرنے کی مسلمانوں کی تاریخ کی کئی گواہیاں بھی تو انہیں حوصلہ دینے کو پہلے سے موجود تھیں۔
ایک بات جو میرے لیے سب سے زیادہ حیران کن ہے وہ صدر ایوب کا اس ٹولے کے سامنے بے بس ہو جانا تھا۔ قدرت اللہ شہاب کے بقول 62 ء میں چین بھارت جنگ کے موقع پر جب میں نے صدر صاحب کو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیر پر حملے کا مشورہ دیا تو انہوں نے مجھے ان الفاظ کے ساتھ ڈانٹ دیا کی جنگ ایسا سادہ معاملہ نہیں کہ اس کے حق میں یوں فیصلہ کر لیا جائے۔
کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس ٹولے نے انہیں اپنی ہاں میں ہاں ملانے کو آمادہ کرنے کے لیے ایسی ایسی دلیلیں گھڑ رکھی تھیں کہ انکار مشکل ہو گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ 65 ء کے دھاندلی زدہ انتخاب میں جیت کے بعد اب وہ ویسے مضبوط نہ رہے ہوں۔
علاوہ ازیں اپنے قد کاٹھ اود مردانہ وجاہت کے مقابلے میں لعل بہادر شاستری کی بظاہر ماٹھی شخصیت اور ان کا ہندؤں کے حوالے سے جسمانی کمتری کا مجموعی تاثر ممکن ہے گو اہیڈ دینے کا موجب بنا ہو۔ ایسا تاثر جسے انڈین کے ساتھ ساتھ بنگالیوں کے حوالے سے بھی قبولِ عام کا درجہ حاصل تھا۔
وجہ کچھ بھی ہو جو کچھ ہوا ایوب خان کے آشیر باد سے ہی ہوا۔
اس جنگ میں اگر ہماری کوئی کامیابی تھی تو بس اتنی کہ ہم نے دشمن کے اندازوں کے بر خلاف اپنا دفاع حیران کن انداز میں بڑے بہتر انداز سے کیا۔
کامیاب دفاع اگرچہ مکمل طور پر فوجی کامیابی تھی لیکن ہمارے قصہ گوؤں نے ایسے ایسے فسانے گھڑے جو آج بھی ڈنکے کی چوٹ پہ بغیر کسی شرمندگی کے بیان کرتے ہیں کہ اس جنگ کی جیت کا اصل کریڈٹ ان بابوں کو جاتا ہے جو قبروں سے اٹھ کر سبز چوغے پہنے محاذوں پہ پہنچے اور انڈیا کی طرف سے داغے گئے بموں کو روکتے ہوئے ہاتھوں میں لے کر یوں ناکارہ بناتے گئے کہ بم ڈسپوزل والے بھی عش عش کر اٹھے۔
یہ جنگ بہرحال ایک ایسا امتحان تھی جس می بحیثیت قوم ہم اچھے نمبروں سے پاس ہوئے۔ قوم تو بڑی ستائش کی حقدار ٹھہرتی ہے کہ اس نے اس بات کی بھی پرواہ نہیں کی کہ ہمیں جس مشکل کا سامنا ہے وہ ہمارے اپنے پنگے کا ردِ عمل ہے۔ یہ بھولے بادشاہ ایوب خان کی تقریر کے الفاظ کو دل پہ لے کر تن، من، دھن وطن کی نذر کرنے اٹھ کھڑے ہوئے۔ چنانچہ ایثار اور قربانی کے ایسے ایسے واقعات دیکھنے کو ملے کہ بیان کرنے بیٹھو تو لفظ کم پڑ جائیں۔
اس جنگ کا ایک بڑا روشن پہلو اس موقع پر لکھے گئے وہ ملی ترانے اور گیت تھے جو اپنی مثال آپ مانے جاتے ہیں۔ ان کے لکھاری، کمپوزر، گلوکاران اور پیش کاروں نے انہیں ایسا پرجوش بنایا کہ ان کی رنگینی اور چمک نصف صدی گزرنے کے باوجود بھی قائم ہے۔
جانثاروں کی اس تحسین کی بس ایک مثال ملاحظہ کرتے جائیے۔
جس کے ہر قطرے میں خورشید کئی
جس کی ہر بوند میں اک صبح نئی
دور اس صبحِ درخشاں سے اندھیرا ہو گا
رات کٹ جائے گی گلرنگ سویرا ہو گا
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو
تنویر نقوی۔


