سر سلیم اور سر خالد سعید، باقی سب خیریت
ملتان میں میرا پہلا سکول گھر سے دو گلیاں چھوڑ کر تھا۔ نام تھا لٹل سکالرز سکول۔ گھر کی شفٹنگ کے دوران ایک مرتبہ پرانے ڈبے کھولے تو نرسری پریپ کے رزلٹ کارڈ نکلے۔ بچوں کی تعداد لکھی تھی 35۔ نیچے اپنی پوزیشن کے ڈبے میں دیکھا تو الحمدللہ وہاں بھی 35 ویں ہی لکھا پایا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ شکر ہے میں بچپن سے ہی مستقل مزاج تھا۔ اس کے بعد بس پانچویں کلاس اور پھر فضائی میزبانی کا کورس پاس کرتے وقت تیسری پوزیشن حاصل کر پایا وہ بھی معلوم نہیں کیسے۔ لٹل سکالر سکول میں مس ممتاز نے نرسری سے لے کر ٹو کلاس تک پڑھایا۔ شفیق خاتون تھیں۔
پھر سکول بدل گیا۔ ابدالی روڈ ملتان پر واقع تھا۔ نام تھا ہیپی ہوم سکول۔ تیسری جماعت سے پانچویں جماعت تک وہاں تعلیم حاصل کی۔ وہاں کے اساتذہ میں صرف مس بلقیس یاد ہیں کیوں کہ تیسری کلاس میں سب کے سامنے ان سے تھپڑ کھایا تھا۔ وجہ یقیناً انگریزی یا حساب کا کوئی سوال ہی ہو گا۔ ویسے ان دونوں مار کٹائی عام بات تھی کیوں کہ ان دنوں ”پیار نہیں مار“ کا نعرہ زبان زدِ عام تھا۔
چھٹی کلاس سے میٹرک تک کے لیے نشاط سکول میں قدم رنجہ فرمایا۔ یہاں مس بلقیس کے کافی نعم البدل موجود پائے۔ یہاں سر اعظم جارج نے ہاتھوں سے انگریزی سکھائی لیکن میری اردو بہتر ہو گئی۔ سر نذر عباس نے سٹیل کے فٹے سے میتھ سکھایا لیکن آج بھی اگر دکان دار 410 کا بل بننے پر 510 روپے لے کر مجھے 100 روپے واپس کرتا ہے تو ذرا پریشانی ہو جاتی ہے۔ پھر انگریزی کے لیے آٹھویں جماعت میں سر ظہیر آ گئے۔ ان کی مہربانی سے میری اے بی سی کچھ بہتر ہو گئی۔ ان کا ایک پسندیدہ پیراگراف تھا جس کو اردو سے انگریزی میں ترجمہ کرنا ہوتا تھا۔ اس کی شروع کی لائن تھی کہ ”امجد کے والد بچپن میں وفات پا گئے تھے“ ۔ میں پوچھ بیٹھا کہ سر پھر امجد کہاں سے آیا۔ پھر گھنٹہ کھڑے ہو کر ترجمہ کیا تو پتہ چلا امجد کے والد کے ساتھ کیا بنی۔
یہیں مطالعہ پاکستان پڑھانے والے سر سلیم بھی تھے۔
اداکار عرفان خان جیسی لال آنکھیں۔ سانولا رنگ۔ سادہ قمیص شلوار میں ملبوس۔ لمبا قد۔ فوجی کٹ گھنگھریالے بال۔ کمر ہمیشہ سیدھی۔ کان ایسے مروڑتے جیسے بس اب ملتان آٹو پلازہ سے نئے ہی خریدنے پڑیں گے لیکن پیریڈ کے آخری دس منٹ بچا کر وہ زندگی کے سبق دیتے تھے۔ عملی زندگی کیسی ہو گی، ذمہ داریوں کا چکر کیا ہوتا ہے، نماز اور وضو کا طریقہ اور ایسی ہی دوسری باتیں ڈسکس کرتے۔ فرقوں کے جھنجھٹ میں پڑے بغیر ضروری اور بنیادی باتیں بتاتے۔ انھوں نے سمجھایا کہ تعلیم ہی کافی نہیں ہوتی، تربیت بھی ضروری ہے۔ علم کا مطلب نصابی کتابیں ہی نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ بھی کتابیں پڑھنے پر زور دیتے۔
ایف ایس سی اور بی ایس سی میں اچھے اساتذہ ملے جن میں میرا دوست ناصر وقار بھی شامل ہے۔ وہ مجھے ڈیٹا سٹرکچر نہ پڑھاتا تو میرا سال ڈی۔ سٹرکچر ہو جاتا۔ اس کے بعد ایم بی اے کرنے کے لیے پنجاب کالج میں داخلہ لیا۔ میتھ خراب تھا تو اکاؤنٹس کے کورس پلے نہ پڑتے۔ تھیوری ٹھیک لگتی تھی۔ یہاں صرف خالد سعید صاحب کی سمجھ آتی تھی جو Human Behavior کا مضمون پڑھانے آتے تھے۔ تقریباً سفید بال اور اتنی ہی سفید مونچھیں۔ اکثر آدھی آستین کی ہی شرٹ۔ کالج میں داخل ہوتے ہیں تو سگریٹ سلگاتے ہیں اور دو مکمل کش لے کر اسے ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد لیکچر شروع ہوتا ہے۔ مسلسل بولتے ہیں اور ہم سنتے ہیں۔ دل چاہتا تھا باقی مضامین بھی وہی پڑھا دیں۔
اسی دوران فضائی میزبان بننے کے لیے دی گئی درخواست منظور ہو گئی اور کچھ انٹرویو بھی ہو گئے۔ کراچی کا بلاوا آ گیا اور تربیتی کورس شروع ہو گیا۔ مس نسیم سحری ہماری انسٹرکٹر ٹھہریں اور ایک نئی دنیا سے آشنائی کا آغاز ہوا۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سے آئے بیس لڑکوں کو مس نسیم سحری نے آپس میں رہنا اور ایک دوسرے کو برداشت کرنا سکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اب تک ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔ انھوں نے اس نوکری کی اونچ نیچ کے بارے میں ہم سب کو تربیت دی کہ جہاز کے بند کیبن کے مصنوعی ماحول میں اپنے اور مسافروں کے رویوں کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔ یہ تربیت اس نوکری کے علاوہ زندگی میں بھی بہت کام آئی اور آ رہی ہے۔
زندگی میں بہت کم ایسے اساتذہ ملتے ہیں جو نصابی کتابوں کے علاوہ زندگی کی کتاب کے سبق بھی پڑھائیں۔


