ماحولیاتی آلودگی : کرے کوئی، بھرے کوئی


ایک قومی روزنامے میں حکومت پنجاب کا ایک بڑا سا اشتہار دیکھا۔ جس میں لکھا تھا ”لاہور میں 83 فیصد ماحولیاتی آلودگی کی وجہ آپ کی گاڑیاں اور موٹر بائیکس ہیں۔“ اس دعوے کے بعد سرکاری ناصح نے فرمایا ہے کہ ”فوری اپنی گاڑیوں اور موٹر بائیکس کے انجن اور سائلنسر مرمت کروائیں اور پبلک ٹرانسپورٹ اور کار پولنگ یا رائیڈ شیئرنگ کو ترجیح دیں ؛گاڑیوں اور موٹر بائیکس کا استعمال کم سے کم کریں“ ۔ بظاہر اس اشتہار میں کچھ بھی برا نہیں ہے لیکن ظاہری سطح سے ذرا ہٹ کر دیکھا جائے تو اس دعوے پر افسوس ہونے لگتا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے یہ اشتہار اخبارات میں دیا گیا ہے۔ اخبار ہو گا تو کاغذ بھی ہو گا اور کاغذی کارروائی بھی۔ کاغذی صنعت اس وقت دنیا میں توانائی کھپانے والی پانچویں بڑی صنعت ہے اور یہ عالمی توانائی کا چار فیصد استعمال کرتی ہے۔ آبی، زمینی اور فضائی آلودگی میں اس کا حصہ بقدر جثہ ہے۔ کئی خطرناک اور مہلک کیمیائی مادے اور گیسیں کاغذی صنعت کی عطا ہیں۔ کاغذ ساز کارخانے ہر سال کتنی لکڑی کھا جاتے ہیں اور درخت کاٹ کر کتنے بڑے ماحولیاتی خطرے کو دعوت دیتے ہیں اس کا اندازہ شاید قاری کو ہے نہ لکھاری کو۔ ہاں جنہیں احساس ہے وہ ”ایکو۔ فرینڈلی فونٹ“ یعنی ماحول دوست فونٹ بھی بنا رہے ہیں اور اشتہاروں سے بھی دور جا رہے ہیں۔

فرض کریں کسی تحقیق میں کسی نے لکھ دیا ہے کہ 83 فیصد ماحولیاتی آلودگی سفید پوش عوام کی کاروں اور موٹر سائیکلوں کے سبب ہے تو بھی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اس پر مزید گہری تحقیق کرے اور اصل وجوہات جاننے کی کوشش کرے۔ لیکن اس کے بجائے کاروں اور موٹر سائیکل سواروں کو احساس جرم میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح کل کلاں کوئی بندہ کہہ دے کہ فضائی آلودگی گدھوں کے پادنے سے بھی ہوتی ہے تو یقیناً سرکار کو غصہ آئے گا۔

آلودگی ایک عالمی اور پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن اس مسئلے کی اصل وجوہات ختم کرنے اور اسے حل کرنے کے بجائے اس کا الزام دوسروں پر ڈالا جا رہا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں نے صنعتی اور سرمایہ دارانہ ترقی کی انتہاؤں کو چھونے کے جنون میں دنیا کو دوزخ بنا ڈالا ہے، زمینی وسائل جلا پھونک کر خاکستر کر دیے ہیں اور اپنی ترقی کا حلوہ کھا کر اب کہتے ہیں یہ راکھ سمیٹنا سب انسانوں کا مساوی فرض ہے۔ ترقی کے ثمرات سے لطف اندوز ہونے کے بعد جب اس کے نتائج سامنے آئے ہیں تو مساوات کا ڈھول پیٹ کر شور کی آلودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

پہلی دنیا کے ممالک تیسری دنیا کے ملکوں کو ترقی کی قیمت چکانے کے لیے آوازیں دے رہے ہیں اور تیسری دنیا کی اشرافیہ عوام الناس کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے۔ ترقی کے مزے لوٹنے والوں میں اتنی اخلاقی جرات تو ہونی چاہیے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کی مہلک صنعتوں کے مہلک نتائج تسلیم کریں۔ یہ گاڑیاں اور موٹر سائیکل کس نے بنائے ہیں اور انہیں بیچ کر اربوں کھربوں کس نے کمائے ہیں؟ اصل مجرم تو کارپوریشنیں اور سرمایہ دار سیٹھ ہیں لیکن ان کی طرف توجہ دینے کی بجائے عام افراد کے رویوں کو خرابی کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایسے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ اس کی صحیح تشخیص بھی نہ ہو پائے گی۔ ماحولیاتی تباہی کے اصل مجرم کارپوریشنوں کی بجائے عوام کو ذمہ دار ٹھہرانے کا بیانیہ بذات خود ظلم اور سفاکیت ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، نظاماتی یعنی سسٹم کا مسئلہ اور معاشی و سماجی نا برابری کا نتیجہ ہے۔ ذرا گاڑی بنانے کمپنیوں کو نوٹس دیا جائے کہ آپ کی ”مصنوعات“ اتنے فیصد آلودگی کا باعث بن رہی ہیں، اس کی قیمت ادا کی جائے یا بائیک اور کار سازی بند کی جائے۔ پھر پتہ چلے گا کون کتنے پانی میں ہے۔

سرکار نے پبلک ٹرانسپورٹ کا سبق تو دے دیا ہے لیکن شاید جوش نصیحت میں یہ یاد نہیں رہا کہ پبلک تو ہے ٹرانسپورٹ کہاں ہے؟ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ چین میں ماحولیاتی آلودگی نے جینا دوبھر کیا تو چینی حکومت نے سمارٹ ٹرانسپورٹ پر توجہ دی اور پبلک ٹرانسپورٹ کا ایسا شان دار نظام بنا دیا کہ ماحولیاتی آلودگی گھٹنے ٹیک گئی۔ یہ کام کرنے کے ہوتے ہیں اور کر کے دکھانے پڑتے ہیں۔ چینی حکمران اور سرکاری اہل کار اپنا عمل اور کردار عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

وہ عوام کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ اور ہم کیا ہیں؟ ہم وہ ہیں جو ایک طرف تو ڈبل سواری پر پابندی لگاتے ہیں دوسری طرف رائیڈ شیئرنگ کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جنہیں ایک موٹرسائیکل پر لدے چار بندے آلودگی کے مجرم نظر آتے ہیں اور ہم ایک وی آئی پی کے پروٹوکول میں غٹاغٹ پٹرول پینے والی درجنوں گاڑیوں کا قافلہ لے کر اس عام بندے کی موٹرسائیکل کے خلاف اشتہار چھپوانے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS