ماں جیسی ریاست


پچھلے دنوں ایک سروے کا کافی چرچا رہا جس کے مطابق ملک کے 90 فیصد سے زائد باشندے ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ان میں اکثریت یقیناً نوجوانوں کی ہے۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟ نوجوان کسی بھی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہی مستقبل میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہوتی ہے۔ ان کے قوت بازو پر ہی ملک کے استحکام کا دار و مدار ہوتا ہے۔ اب وہ نوجوان یہ ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ بہت سارے جا بھی چکے ہیں۔

”ریاست ماں جیسی“ کا نعرہ بہت دلفریب اور خوش نما لگتا ہے۔ اور یہ ہے بھی حقیقت کہ یہ ریاست ہماری ماں جیسی ہی ہے۔ اس کی گود میں ہم پل کر جوانی اور پھر بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچتے ہیں اور پھر اسی کی مٹی کی چادر اوڑھ کر ابدی نیند سو جاتے ہیں۔ ہم کہیں بھی چلے جائیں، وطن کی یاد ہماری زندگی کا سرمایہ ہوتی ہے۔ لیکن دوسری طرف انسانی ضروریات اور خواہشات بھی ایک ٹھوس حقیقت ہیں۔ بدقسمتی سے اس ریاست کو ایک مخصوص طبقے نے اپنے لیے مخصوص کر لیا ہے۔ وہ باوسائل طبقہ ضروریات زندگی کے لیے کسی کا محتاج نہیں کیونکہ وہ یہ سب کچھ زبردستی چھین لیتا ہے۔ ریاست کے سارے وسائل اس کی دسترس میں ہیں۔ عالمی ساہوکاروں سے لیا جانے والا سودی قرضہ بھی اس طبقے کے اللوں تللوں کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اس نے اپنی کئی نسلوں کا مستقبل سنوار لیا ہے۔ یہ طبقہ شرفاء (جسے عرف عام میں ایلیٹ کلاس کہا جاتا ہے ) ہمیشہ اقتدار میں رہتا ہے۔ محض نام اور شکلیں بدل جاتی ہیں۔

عالمی ساہوکاروں کی فرمائش پر حکومتی اخراجات میں کمی کے نام پر ملک میں ملازمتیں نہیں دی جا رہی ہیں۔ یہ نہیں کہ ملازمتیں موجود نہیں۔ ملازمتیں موجود ہیں لیکن دی نہیں جاتیں۔ مثال کے طور پر صرف پنجاب میں محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بے شمار سیٹیں خالی ہیں لیکن 2018 ء کے بعد گورنمنٹ سکولوں میں اساتذہ کی بھرتی کی ہی نہیں گئی۔ یہی حال دوسرے محکموں کا بھی ہے۔ دوسری طرف ہمارے تعلیمی ادارے تھوک کے حساب سے ڈگری ہولڈرز پیدا کر رہے ہیں۔ اب وہ ڈگری ہولڈرز اپنی ڈگریوں کا کیا کریں؟ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ڈاکٹروں اور انجینئروں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ملازمتوں سے محروم ہے۔ ایک صورت پیدا ہوئی تھی کہ پڑھے لکھے نوجوان فری لانسنگ کے ذریعے اپنی روزی روٹی کمانا شروع ہو گئے تھے اور یہ بہت اچھی پیش رفت تھی۔ اس سے ایک طرف سرکاری ملازمتوں پر انحصار کم ہو گیا تھا اور دوسری طرف ملک میں ڈالر آنا شروع ہو گئے تھے۔ اب ہوا یہ کہ ملک میں انٹرنیٹ کو ہی تمام مسائل کی جڑ سمجھ کر اس سے چھیڑ خانی شروع کردی گئی ہے۔ بڑوں کی آپس کی جنگ میں سارا نزلہ نوجوانوں کے روز گار پر گرا۔ اب اکثر انٹرنیٹ تعطل کا شکار رہتا ہے۔ جہاں کہیں ایک مخصوص سیاسی جماعت کے جلسے کا اعلان ہوتا ہے، انٹرنیٹ بند کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک عام شہری کا کیا قصور ہے؟ وہ نوجوان جو فری لانسنگ کے ذریعے روزگار حاصل کر رہا تھا، آپ نے اس کے بھی ہاتھ باندھ دیے۔ خود آپ اسے ملازمت دینے کو تیار نہیں، اگر وہ اپنے بل بوتے پر اپنے خاندان کی ذمہ داری جیسے تیسے کر کے پوری کر ہی رہا تھا، آپ نے اسے اس سے بھی محروم کر دیا۔ اب وہ نوجوان کیا کریں؟ من و سلویٰ تو اب اترتا نہیں۔ پہنے کے لیے لباس کی بھی ضرورت ہے اور بجلی و گیس کے ہیبت ناک بلوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ اب وہ ان تمام ضروریات کے لیے کہاں سے پیسے لائیں؟ ریاست کے بڑوں نے ان کے لیے سوائے ہجرت کے کوئی راستہ چھوڑا ہی نہیں۔

ہم ریاست کے ”بڑوں“ سے صرف عرض ہی کر سکتے ہیں کہ ایک عام شہری کے مسائل پر بھی نظر ڈال لیں۔ بالخصوص نوجوانوں کو اس ملک سے متنفر نہ کریں۔ ملازمتیں نہیں دے سکتے تو دوسرے ذرائع تو ان کے لیے بند نہ کریں۔ انھیں یہ ملک چھوڑنے پر مجبور نہ کریں۔ سیاست و حکومت کا بلاشک آپ کو ازلی و ابدی حق ہے اور آپ کو ہی مبارک لیکن اس سانپ سیڑھی کے کھیل میں عام شہری سے نوالہ تو نہ چھین لیں۔ ریاست سب کے لیے ماں جیسی ہوتی ہے۔ خدارا! ماں سے اس کے بچے نہ چھینیں۔ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں بھی اٹھا لیا جائے اور ہمارے ضعیف والدین ہماری بازیابی کے بینرز اٹھائے سٹرکوں پر ذلیل و خوار ہوتے رہیں۔

Facebook Comments HS