مصنوعی ذہانت: انسانی ترقی اور جمہوری اقدار کا فروغ یا نئے عالمی آمرانہ نظام کی بازگشت؟


انسانی تاریخ میں معلومات یا انفارمیشن کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ خاص کر ملکوں، مقتدرہ اور ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے لئے معلومات یا انفارمیشن کی بہت اہمیت تھی اور ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ دنیا میں چاہے کوئی چھوٹے سے چھوٹا ملک ہو یا بڑی سے بڑی سلطنتِ، بادشاہت، ڈکٹیٹرشپ، ملوکیت، یا جمہوری نظام حکومت غرض ہر ایک نظام انفارمیشن کے حصول کے لئے بے پناہ وسائل اور افرادی قوت استعمال کرتے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ معلومات کے حصول کے لیے باقاعدہ ادارے بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جاسوسی کے لیے خفیہ ایجنسیوں اور پرائیویٹ مخبروں کی مدد حاصل کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کی نقل و حرکت، ان کی پسند اور ناپسند، سیاسی وابستگی، سماجی اثر و رسوخ، دولت و وسائل اور حتیٰ کہ نجی زندگی پر نظر رکھی جائے۔ انفارمیشن کو اکٹھا کر کے اس کا تجزیہ کر کے اپنے اقتدار کی طوالت اور لوگوں کو کنٹرول کرنے کی پالیسیاں بنائی جاتیں ہیں۔ جب سے انسان نے کمپیوٹر ایجاد کیا اور برق رفتار ترقی کی۔ ٹیلیفون، انٹرنیٹ اور جدید سوشل میڈیا کا استعمال شروع کیا تو حکومتوں کے لئے لوگوں کی معلومات اکٹھی کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ جدید دور میں معلومات اور ٹیکنالوجی کا کردار ایک مرکزی موضوع بن چکا ہے اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نے دنیا کے تمام شعبوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جہاں ایک طرف انسانی زندگی کو آسان بنانے کا وعدہ کرتی ہے۔ وہیں دوسری طرف آمریت اور پاپولسٹ حکمرانوں کے کنٹرول کو مضبوط کرنے کا خطرہ بھی پیدا کر رہی ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم دیکھیں گے کہ کیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایک بہترین سہولت کے ساتھ ایک چیلنج بھی بن سکتی ہے؟

آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو کئی ماہرین انسان کی ترقی، اور جمہوریت، قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے ایک امید سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس کے ذریعے عوامی معلومات تک آسان رسائی ممکن ہو گئی ہے اور شہریوں کو سہولتیں میسر ہو رہی ہیں۔ تاہم اسی اے آئی کے ساتھ ہی ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے کہ کیا یہ جمہوریت کو مزید مضبوط کرے گا یا عالمی اور علاقائی آمرانہ حکومتوں اور پاپولسٹ حکمرانوں کو دوام بخشنے کا ٹول بنے گا؟ پاپولسٹ حکمران اور آمرانہ طرز حکمرانی والے اکثر عوام کی توجہ اصل مسائل سے اٹھانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی، اور میڈیا ہاؤسز کو اپنے ٹول کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اور جھوٹی معلومات کی تشہیر کرتے ہیں۔ لوگوں کو کبھی دہشت گردی، کبھی امیگریشن کا خوف دلا کر اور کبھی مذہبی فرقہ واریت اور کبھی علاقائی ازم کا پرچار کر کے عوام کو تقسیم در تقسیم اور کنفیوژن کا شکار کر کے اقتدار پر قبضہ جمائے رہتے ہیں۔ اس سارے کھیل میں جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کو استعمال کیا جاتا ہے۔

اسرائیل سے تعلق رکھنے والے مشہور مصنف نوال یوال حریری کی کتاب ”Nexus“ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مستقبل کا سیاسی نظام ڈیٹا اور معلومات پر مبنی ہو گا۔ جہاں حکومتی اور کارپوریٹ ادارے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کو کنٹرول کر سکیں گے۔ اگر یہ معلومات مخصوص افراد یا اداروں تک محدود ہو جائے تو جمہوریت کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اے آئی کی جدید ترین صلاحیتیں انسانی جذبات، رویوں اور خیالات کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اگر اس کا غلط استعمال آمریت کے ہاتھ میں چلا گیا تو طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ یعنی جس کے پاس جتنا زیادہ ڈیٹا ہو گا اور جدید ٹیکنالوجی ہوگی۔ وہ مستقبل کا عالمی نظام یا ورلڈ آرڈر چلائے گا۔

نوال حریری نے تاریخی تناظر میں بتایا کہ ہمیشہ سے حکومتیں معلومات کے کنٹرول کو اپنی طاقت کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ آج کے دور میں، جب خبروں اور اطلاعات کا بہاؤ تیز تر ہو چکا ہے، پاپولسٹ اور آمریت پسند حکومتیں بھی اس سے بہت فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ سوشل کریڈٹ سسٹم کے تحت شہریوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔ ان کے روزمرہ کے امور اور ذاتی اور نجی زندگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اور ان کی زندگیوں پر کنٹرول قائم کیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جمہوری معاشروں میں آزاد میڈیا اور معلومات تک رسائی عوامی رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ سوشل میڈیا نے عام آدمی کو اظہار رائے کی آزادی دی ہے۔ اور حکومتوں کے میڈیا ہاؤسز اور حکومتوں کی سرپرستی میں چھپنے والے اخبارات کی اجارہ دری سے نجات دلائی ہے۔ لیکن جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ذریعے حکومتیں میڈیا کو فلٹر کر سکتی ہیں۔ فائر وال لگا کر آپ کی خبروں کو روک سکتی ہیں۔ اور ان خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کر سکتی ہیں۔ اور اپنی مرضی کا بیانیہ عوام تک پہنچا سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف معلومات کی رسائی محدود ہو جاتی ہے بلکہ آمریت پسند حکومتیں اپنی طاقت کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس صحت کے شعبے میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص، جینیاتی تحقیق اور روبوٹک سرجری جیسے کام اے آئی کے ذریعے ممکن ہو چکے ہیں۔ جس سے مریضوں کے علاج میں تیزرفتاری اور بہتری آئی ہے۔ تعلیم میں اے آئی ذاتی نوعیت اور جدید تعلیم کو فروغ دے رہا ہے۔ تحقیق میں اساتذہ اور طلبہ کی کارکردگی کے مطابق مواد تیار کیا جاتا ہے۔ یہ محققین اور طلبہ کو ان کے متعلقہ شعبوں اور ضروریات کے مطابق سیکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی صنعتی عمل اور ترقی کو خودکار بنا رہی ہے۔ جس سے پیداوار میں اضافہ اور جدت اور نقائص میں واضح کمی ہو رہی ہے۔ روبوٹکس اور مشین لرننگ کا استعمال لاگت کو کم کرنے اور وقت کی بچت میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ اے آئی جدید بینکنگ اور مالیات کے شعبوں میں فراڈ کی روک تھام، سرمایہ کاری کی پیش گوئی، اور مارکیٹ کے رجحانات کا تجزیہ کرنے میں مدد کر رہی ہے۔ جس سے بہتر مالی فیصلے ممکن ہو رہے ہیں۔

ان ان گنت فوائد کے باوجود مصنوعی ذہانت پاپولسٹ اور آمریت پسند حکومتوں کے لیے ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ جس میں شہریوں کی ہر حرکت کو مانیٹر کرنا انھیں جدید طرز پر محفوظ کرنا اور ان کے طرز عمل کو کنٹرول کرنا اور عوامی سوچ اور رجحانات کے تحت پالیسی بنانا۔ لوگوں کی ذاتی اور نجی زندگی کے متعلق آڈیوز اور ویڈیوز کو لیک کرنا اور بلیک میل کرنا۔ اور پھر میڈیا کے ذریعے جھوٹی معلومات کی تشہیر کر کے اپنے اقتدار کو طول دینا شامل ہے۔ اے آئی کے ذریعے حکومتیں جعلی خبریں پھیلانے اور پروپیگنڈا کرنے میں زیادہ کامیاب ہوتی ہیں۔ اس سے عوام کی رائے کو متاثر کر کے حکومتیں اپنے مخالفین کو خاموش کر سکتی ہیں۔

آرٹیفشل انٹیلی جنس کا استعمال جنگی ہتھیاروں میں بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ جیسے ڈرون اور خودکار ہتھیار۔ لیکن اے آئی کی غلطیوں یا انسانی کنٹرول کے بغیر فیصلے بڑی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جن میں malware یا وائرس کی وجہ سے ایٹمی، ہائیڈروجن اور مہک کیمیائی ہتھیاروں کے سسٹم میں خرابی کا پیدا ہونا اور خودکار طریقے سے چلنا شامل ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کے ساتھ ایک طرف ترقی کے بے شمار مواقع ہیں۔ اور اس کا استعمال عصر حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی عالمی آمریت کے بڑھنے کے خطرات بھی موجود ہیں۔ آئندہ دنیا میں یہ طے کرنا ہو گا کہ ہم اے آئی کو انسانیت کی بہتری کے لیے استعمال کریں گے یا اسے آمریت کے ہاتھ میں دے کر جمہوریت کو کمزور کریں گے۔ اور انسانی حقوق کو پامال کریں گے۔

آج کے دور میں حکومتیں، خفیہ ادارے، اور بڑے کارپوریشنز عوام کی معلومات کو اکٹھا کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں، جس میں سمارٹ فونز، کمپیوٹرز، سوشل میڈیا، ای میلز اور ذاتی پیغامات شامل ہیں۔ ماضی میں جب حکومتیں اور خفیہ ایجنسیاں لوگوں کی معلومات اکٹھی کرتی تھیں تو انہیں نہ صرف بے پناہ وسائل اور افرادی قوت کی ضرورت ہوتی تھی۔ بلکہ یہ کام ایک خطرناک مشن کے طور پر جانا جاتا تھا۔ جاسوسوں کو مختلف ملکوں میں سفر کرنا پڑتا تھا۔ جو اکثر گرفتاری، حادثات، یا معلومات کے ضائع ہونے جیسے خطرات سے دوچار ہوتے تھے۔ تاہم ٹیکنالوجی کے جدید دور نے یہ کام انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ کمپیوٹرز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے یہ ادارے بڑی تعداد میں معلومات کو باآسانی اور تیزی سے اکٹھا کر سکتے ہیں۔ پہلے حکومتیں اپنے جاسوس عوامی اجتماعات، کانفرنسوں، میٹنگز، ریستورانوں، ہوٹلوں، پبلک مقامات اور گھروں میں بھیجا کرتی تھیں۔ تاکہ خفیہ معلومات حاصل کی جا سکیں۔ لیکن اب سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے یہ تمام معلومات باآسانی دستیاب ہیں۔

آج کے دور میں ہر شخص پہلے میں پہلے میں کی دوڑ میں خود اپنی زندگی کی اکثر تفصیلات کو عوامی طور پر شیئر کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی، مثلاً ناشتے، دوپہر کے کھانے، اور رات کے کھانے اور کب اور کہاں ویکسین لگوائی کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔ یہ ذاتی تشہیر ایک ایسے معاشرتی رجحان کی عکاس ہے جہاں ہر کوئی اپنی زندگی کے لمحے لمحے کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کی دوڑ میں آگے نکلنا چاہتا ہے۔ خاص کر کسی بھی شخص کی لوکیشن شیئر کرنا ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جس میں اکثر ملکوں کی خاص دلچسپی ہوتی ہے۔ حکومتیں اور خفیہ ادارے بھی ان عوامی معلومات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عوامی اجتماعات، عالمی اور علاقائی کانفرنسوں کی تشہیر اور وہاں ہونے والی گفتگو اور لوگوں تک پہنچنا بہت آسان ہو چکا ہے۔ جس کے ذریعے ان اداروں کو معلومات حاصل ہوتیں ہیں۔ سمارٹ فونز، سی سی ٹی وی کیمرے، اور مختلف ایپلیکیشنز کی مدد سے لوگوں کی ہر حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

ایپلیکیشنز (Apps) اکثر صارفین سے کیمرے، مائکروفون، اور فون میں موجود ڈیٹا یعنی تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزات تک رسائی مانگتی ہیں۔ یہ رسائی اس لیے ضروری قرار دی جاتی ہے کہ صارف ایپلیکیشنز کا استعمال کر سکے۔ اس کے علاوہ سمارٹ فونز پر فیشیل یا چہرے کی شناخت اور فنگرز پرنٹ درحقیقت یہ ذاتی معلومات تک پہنچنے کا ایک ذریعہ بن جاتیں ہیں۔ اس جدید دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے جہاں مواصلات کو آسان بنایا ہے۔ وہیں پرائیویسی اور سیکیورٹی کے سنگین چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔ خفیہ مشنز پر مامور افراد کو کھانے کے لئے، ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے لئے، سونے کے لئے اور اپنے روزمرہ امور سر انجام دینے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے، وسائل درکار ہوتے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ لاکھوں نہیں، کروڑوں نہیں بلکہ اربوں انسانوں کی ہر وقت اور ہر ایک شخص کی نگرانی یا جاسوسی کی جا سکے۔ لیکن کمپیوٹر اور اے آئی کو نہ ہی بھوک لگتی ہے، نا نیند آتی ہے۔ اور نہ ہی صحت کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ اور نہ زیادہ معلومات حاصل کرنے اور محفوظ کرنے اور بار بار جانچ پڑتال کرتے ہوئے آنکھیں چندھیاتی ہیں۔ نہ تھکاوٹ ہوتی ہے، اور نہ ہی سر درد ہوتا ہے۔ اگر خدا نخواستہ پاور سپلائی معطل یا فیل ہو جائے۔ تو اکثر خودکار جنریٹر چل پڑتا ہے۔ اور اگر جنریٹر نہ ہو اور سسٹم مکمل بند بھی ہو جائے۔ تو معلومات نہ صرف اس کمپیوٹر بلکہ مرکزی کمپیوٹر سرور میں محفوظ ہوتی ہیں۔ اور دوبارہ سسٹم آن ہونے پر تمام معلومات تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔

محترم قارئین کرام ایک بات تو طے ہے کہ ٹیکنالوجی خود میں اچھی یا بری نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کا استعمال کرنے والے اس کے مقاصد طے کرتے ہیں۔ اگر ہم آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا صحیح استعمال کرتے ہیں تو یہ انسان کو ترقی کی حقیقی معراج پر پہنچا سکتی ہے۔ اور جمہوریت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ قانون کی حکمرانی اور بالادستی اور انسانی حقوق کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے اسے پاپولسٹ حکمرانوں اور آمرانہ نظام اور سوچ پروان چڑھانے کے لیے استعمال ہونے دیا تو یہ آزادیوں کو محدود کر سکتی ہے۔ اور غلامی اور محکومی کے جدید طرز کو جنم دے سکتی ہے۔ جو کہ انسان اور انسانیت کے لئے ایک بہت بڑا المیہ ہو گا۔

Facebook Comments HS