مائی بختاور: بلوچ انقلابی خاتون
مائی بختاور کو برصغیر کی تقسیم سے عین قبل نوآبادیاتی ہندوستان میں ایک المناک واقعہ پیش آنے سے پہلے بہت سے لوگ نہیں جانتے تھے۔ جب برطانوی استعماری حکومت ہندوستان پر قابض ہوئی تو اس نے ان با اثر قبائلی سرداروں کو زرعی زمینیں اور بڑی بڑی جاگیریں عطا کیں جو جنگ آزادی میں یا اس پہلے ان کے بڑے وفادار رہے تھے۔ برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی یہ خصوصیت رہی تھی کہ اس نے ہندوستان میں مستقل اور نجی زمین کی ملکیت کے تصور کو متعارف کرایا۔ کیونکہ، اس سے پہلے ہندوستان پہ حکومت کرنے والے کسی بھی بادشاہی نظام کے تحت زرعی زمینیں کسی کی مستقل اور نجی ملکیت تصور نہیں ہوتی تھیں۔ مگر برطانوی استعماری حکومت نے برصغیر میں مستقل آبادکاری کی پالیسی متعارف کروائی جسے سب سے پہلے بنگال میں 1793 کا مستقل آباد کاری ایکٹ کے نفاذ سے شروع کیا گیا جو بعد میں آہستہ آہستہ پورے برطانوی برصغیر میں نافذ ہوا۔
تاہم، مغلیہ دور حکومت میں ’منصبداری نظام‘ رائج تھا۔ منصب دار کو بادشاہ نے سول یا فوجی خدمات میں کوئی عہدہ دیا ہوتا تھا۔ زرعی لحاظ سے ہر منصب دار کو بادشاہ کی طرف سے ایک مخصوص مدت کے لیے زمینیں جاگیر کے طور پر دی جاتی تھیں۔ وہ اس مخصوص اسٹیٹ پر زمین کی آمدنی اور فوجی بندوبست کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ اس کے برعکس، برطانوی حکومت نے مستقل اور نجی ملکیت کی بنیاد پر زمین کے مختلف انتظامات متعارف کرائے۔ اسی طرح برطانوی حکومت نے برصغیر میں سیمی فیوڈل یا فیوڈل نظام کو تقویت بخشی۔
کسانوں کو صرف زمینداروں کے لیے کام کرنا پڑتا تھا لیکن انہیں کوئی خاطر خواہ مالی فائدہ حاصل نہیں ہوتا تھا۔ زمین کی اس غیر مساوی تقسیم نے کسانوں کے سماجی و اقتصادی حالات پر گہرے اثرات چھوڑے تھے۔ انہیں زمین کی ملکیت سے بالکل محروم کر دیا گیا تھا۔ نتیجتاً، ہاریوں کے حقوق ملکیت کے لئے سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید نے 1930 میں ”سندھ ہاری کمیٹی“ کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں، اس تنظیم کی قیادت حیدر بخش جتوئی نے سنبھالی۔
دوسری طرف، پنجاب میں ’پنجاب کسان کمیٹی‘ بے گھر کسانوں (مزارعین) کی زمین کی ملکیت کے لیے جدوجہد کر رہی تھی۔ بٹوارے کے وقت زمین کے انتظامات میں بڑے پیمانے پر تضاد اور ناہمواری تھی۔ کے، کے، عزیز کے مطابق، جنہوں نے اپنی کتاب ”Party Politics in Pakistan ( 1947۔ 1958 )“ میں پنجاب میں زمین کی تقسیم کے بارے میں کچھ حقائق اور اعداد و شمار کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”تقریباً 3 کروڑ ( 30 ملین) ایکڑ کی کل زرعی زمین میں سے 60 فیصد صرف 3 فیصد مالکان کے پاس ہے اور 34 فیصد زمین 97 فیصد چھوٹے کسانوں کی ملکیت میں ہے۔“ اسی طرح کے حقائق اور اعداد و شمار سید اکبر حسین زیدی (ڈائریکٹر آئی، بی، اے کراچی) نے اپنی کتاب (Issues in Pakistan ’s Economy: A Political Economy Perspective) میں بھی تفصیل سے پیش کیے ہیں۔
تاہم، تقسیم کے بعد پاکستان کے چھوٹے کسانوں، مزارعین اور ہاریوں کے لئے زرعی زمین کی ملکیت کے لیے جدوجہد کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔ آل انڈین مسلم لیگ نے 1945۔ 46 کے انتخابات سے پہلے اپنے منشور میں زرعی اصلاحات کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، اس مقصد کے لیے حیدر بخش جتوئی کی قیادت میں ’سندھ ہاری کمیٹی‘ جدوجہد کر رہی تھی۔ 22 جون 1947 کو جب ٹنڈو بگو، ضلع بدین کے گاؤں ”دودو خان“ کے تمام مرد ہاری کانفرنس میں شامل ہونے کے لیے گئے ہوئے تھے۔ گاؤں میں مرد اراکین کی عدم موجودگی میں جاگیردار چوہدری سعید اللہ جو کہ اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان کے بھتیجے تھے، نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گاؤں پر حملہ کر دیا۔
کیونکہ، دو دو خان گاؤں کے مرد اور عورتیں سعید اللہ کی زمینوں پر کام کرتی تھیں اور اب ان کے درمیان ”بٹائی سسٹم“ یعنی فصل کی تقسیم پر جھگڑا ہو گیا تھا۔ گاؤں والے فصل میں سے آدھا سے زیادہ حصہ دینے کو تیار نہیں تھے۔ سعید اللہ اور اس کے ساتھی آدھے سے زیادہ حصہ لینا چاہتے تھے۔ ایسے میں مرد حضرات کی غیر موجودگی میں گاؤں کی خواتین اور زمیندار کے حواریوں کے درمیان تصادم ہو گیا۔ ان میں اس ایک مائی بختاور نامی خاتون گولی لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔ یہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گئی۔ بائیں بازو کے رہنماؤں اور اخبارات نے اسے زبردست کوریج دی۔
تاہم، اسی وجہ سے، حکومت پاکستان نے تقسیم کے فوراً بعد زرعی اصلاحات کے لیے ایک ورکنگ کمیٹی تشکیل دے دی۔ اگست 1949 کو اس کمیٹی نے زرعی اصلاحات کی تجویز پیش کی۔ اس کے علاوہ سندھ میں 1947 ء میں ”ہاری انکوائری کمیشن“ تشکیل دیا گیا جس کی رپورٹ دسمبر 1948 ء کو غیر موثر زرعی اصلاحات کی سفارشات کے ساتھ شائع ہوئی۔ مسعود کھدر پوش، ایک تجربہ کار سول سرونٹ، جو کمیشن کے رکن بھی تھے، نے اپنا اختلافی نوٹ لکھا جس میں انہوں نے ہاریوں سے ہونے والی زیادتیوں کو اجاگر کیا اور ہاریوں کے لئے زرعی زمین کی ملکیت کو ترقی کے لئے ناگزیر قرار دیا۔
اس وقت کی سندھ حکومت نے ان کا یہ اختلافی نوٹ شائع نہیں کیا مگر جب یہ بات عوام تک پہنچی تو کسانوں اور ہاریوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔ یہاں تک کہ سخت عوامی دباؤ میں حکومت نے جون 1949 کو ان کا اختلافی نوٹ شائع کر دیا۔ تاہم، زمینداروں اور مذہبی طبقے کی طرف سے زرعی اصلاحات کی سخت مخالفت کی گئی۔ علماء نے فتویٰ دیا کہ زرعی اصلاحات شریعت کے منافی ہیں۔ اس عمل میں مولانا عبدالحامد نے سولہ دیگر علماء کرام کے ساتھ ایک پمفلٹ پر فتویٰ جاری کیا۔ لیکن، مسعود کے اختلافی نوٹ نے حکومت سندھ کو 1950 میں ٹننسی ایکٹ نافذ کرنے پر مجبور کیا۔ حکومت کے اس عمل سے ہاریوں کی کسی حد تک اشک شوئی ہوئی۔
مائی بختاور کا تعلق لاشاری بلوچ قبیلے سے تھا اور سندھ میں اٹھنے والی کسانوں کی تحریک کی پہلی خاتون شہید کہلاتی ہے۔ ان کی قربانی برطانوی ہندوستانی حکومت اور بعد میں پاکستان میں ہاری جدوجہد کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ مزید برآں، پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم مائی بختاور لاشاری سے بہت متاثر ہوئیں۔ اس لیے بینظیر بھٹو نے اپنی بڑی بیٹی کا نام بختاور رکھا۔ تھر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ضلع تھرپارکر میں مائی بختاور انٹرنیشنل ائرپورٹ کا نام دیا گیا۔ نواب شاہ میں ایک گرلز کیڈٹ کالج بھی ان کے نام سے منسوب ہے۔ فلم ”مائی بختاور“ بھی سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت نے پروڈیوس کی ہے جس کی تحریر اور ہدایت کاری شاہ نواز بھٹی نے کی ہے۔ سندھ کی سرزمین کو مائی بختاور نے اپنے خون سے سیراب کر کے ہاریوں کے حقوق کے لئے اپنی جان تک دے دی۔ مگر بدقسمتی سے آج تک ریاست پاکستان چھوٹے کسانوں، مزارعین اور ہاریوں کے لئے زرعی ملکیت کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اصلاحات نہیں کر سکی۔


