ڈاکٹر ذاکر نائیک سے اتنی ناراضی کیوں؟
بھارتی نژاد مذہبی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک آج کل حکومت پاکستان کی دعوت پر وطن عزیز کے دورے پر ہیں۔ مختلف مقامات پر ان کے لیکچرز کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان لیکچرز میں لوگوں کی اچھی خاصی تعداد شریک ہوتی ہے۔ سوالات و جوابات کا موقع میسر ہوتا ہے۔ موصوف کی و جہ شہرت تقابل ادیان کے حوالے سے ہے۔ فرنگی لباس زیب تن کیے یہ دہائیوں سے بھارت میں تقابل ادیان کے حوالے سے لیکچرز دیتے رہے ہیں اور ان کا چینل پیس peace اس سلسلے میں خاصی شہرت کا حامل ہے۔ ایک اچھی خاصی تعداد ان سے متاثر بھی ہوئی ہے۔ مختلف وجوہ کی بنا پر انھیں بھارت سے ملائیشیا منتقل ہونا پڑا۔
اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ جیسے ہی پاکستان میں ان کے دورے کی خبر پھیلی، ملک میں ایک ہیجان سا برپا ہو گیا۔ مختلف مکاتب فکر کے پیروکاروں اور علماء کا ردعمل مختلف رہا۔ ماضی میں اپنے کچھ بیانات کی وجہ سے یہ کچھ مکتبہ فکر کے علماء اور پیروکاروں کو ناراض کرچکے ہیں۔ تصوف اور حضرت امام حسینؓ اور یزید وغیرہ کے حوالے سے ان کے کچھ بیانات نے ان کی شخصیت کو کچھ لوگوں کے ہاں ناپسندیدہ بنا دیا ہے۔ بلاشبہ ان بیانات پر بحث اور تنقید ہونی چاہیے۔ کسی بھی شخصیت کو دوسرے مسلک کے عقائد کے بارے میں منفی یا متشدد رویے کا عوامی سطح پر اظہار کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ مزید براں، ہماری لبرل کلاس کو بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک کی پاکستان آمد ایک آنکھ نہیں بھائی۔
یہی بات ہماری آج کی بحث کا موضوع ہے۔ مذہب پر بحث ہمارا شعبہ ہرگز نہیں اور نہ ہی ہم خود کو کسی طور اس قابل سمجھتے ہیں۔ اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خیالات سے کلی طور پر متفق بھی ہم ہرگز نہیں اور نہ ہی ان کے آنے سے ہمیں کوئی خوشی یا دکھ ہوا ہے۔ آج کے دور میں کسی کے خیالات سے مکمل طور پر متفق ہونا نہ ضروری ہے اور نہ ممکن۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر ہم میں برداشت نہیں ہے۔ وطن عزیز میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی، خوف اور دہشت کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ یہ انتہاپسندی صرف مذہبی طبقے تک ہی محدود نہیں بلکہ ہمارالبرل طبقہ بھی اس رو میں بہتا جا رہا ہے۔ ماضی میں ایسا ہرگز نہیں تھا۔ لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے گنجائش تھی۔ دوسرے مذاہب کے تہواروں میں بھی لوگ شریک ہو جایا کرتے تھے۔ بین المسالک شادیاں بھی کوئی انوکھی بات نہیں ہوتی تھی۔ لیکن اب تو لوگ ایک دوسرے کا گلہ کاٹتے پھرتے ہیں۔ ”آدم بو، آدم بو“ کی آواز لگاتے شکار ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ کوئی بھی طبقہ انتہاپسندی سے مبرا نہیں رہا۔ ہر طبقے میں یہ زہر سرایت کرچکا ہے۔ جدھر دیکھیں نفرت کا سمندر بہہ رہا ہے۔ اس سمندر میں ہماری روایات جو احترام انسانیت اور رواداری پر مشتمل تھیں، غرق ہو رہی ہیں۔ بدتہذیبی کا لبادہ ہم نے اوڑھ لیا ہے۔ ہم جب بات کرتے ہیں تو ہمارے منہ سے جھاگ نکلتی ہے۔ ہماری رگیں تن جاتی ہیں، ہمارے چہرے پر نفرت اور بیزاری کی مہر لگی ہوتی ہے۔ زبان سے زہر اگل رہے ہوتے ہیں۔ خدارا! یہ ہم کیا کر رہے ہیں؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نظریات و عقائد اور خیالات پر کوئی قدغن نہ لگائے تو ہمیں دوسروں کے لیے بھی یہ خواہش رکھنی ہوگی۔ مسالک کے اختلافات نئی بات نہیں۔ تقریباً چودہ سو سال سے امت ان کا سامنا کر رہی ہے لیکن ان میں شدت اب آئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے لوگ قابض ہوئے جنھوں نے اپنے سامعین و ناظرین کی تعداد بڑھانے کے لیے ان اختلافات کو مرچ مصالحوں سے مزین کر کے بڑھاوا دیا۔ دوسری طرف ہمارے ہاں لبرل کلاس بھی کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ چاہے آپ کسی سے متفق ہوں یا نہ ہوں لیکن دوسروں کے لیے گنجائش رکھنا ہوگی۔ اپنے نظریات دوسروں پر مت ٹھونسیں۔ یہ مفت مشورہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے چاہنے والوں کے لیے بھی ہے اور ان کے ناقدین کے لیے بھی۔ بلکہ ہر فرد کے لیے ہے۔ ہم بہت غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ ہم وہی بات پسند کرتے ہیں جو ہمارے کانوں کو بھلی لگتی ہے۔ ہم دوسروں کا نقطہ نظر سننے اور برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مجموعی طور پر ہمارے پورے معاشرے کا یہ رویہ بن چکا ہے۔ اصل مسائل سے ہٹ کر ہم فروعی اور غیر ضروری مسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ لوگوں کے پاس روزگار نہیں۔ غربت کا دیو ہمیں کھانے کے کے لیے بے تاب ہے۔ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ اصل مسائل تو یہ ہیں۔ ان کا حل پیش کریں۔ لیکن ان مسائل پر کوئی بات ہی نہیں کرتا۔ فروعی اور مسلکی اختلافات پر ہی لڑے جا رہے ہیں۔ لڑانے والوں کی روٹیاں پک رہی ہیں اور وہ مہنگی مہنگی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں اور لڑنے والے اپنے روزی روٹی کے مسائل کو بھول کر ان کی چنگل میں پھنستے جا رہے ہیں۔ اللہ ہمیں عقل سیلم عطا فرمائے۔

