پی ٹی وی ادا کار مظہر علی کا سانحہ ارتحال
پی ٹی وی کے مشہور اداکار مظہر علی آج کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ ناظم آباد کی ایک مسجد میں ادا کی گئی۔ مظہر علی امریکی شہر ہیوسٹن میں مقیم تھے۔ ان کے دیگر اہل خانہ کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے دل اور پھیپھڑوں کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ آج کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں اسی عارضے کے باعث وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔
مظہر علی نے این ای ڈی کراچی سے انجینئرنگ کی سند حاصل کی تھی۔ وہ پی ٹی وی کے سنہرے دور کے مشہور و معروف اداکار تھے جنہوں نے کئی طویل دورانیے کے ڈراموں، سیریل اور سیریز میں ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ افشاں، عروسہ، شاہین، کالی دیمک، کانچ کی گڑیا ان کے مشہور ڈرامے ہیں۔
ان کا ایک طویل دورانیے کا آرٹ ڈرامہ، اب میرا انتظار کر ، قابل ذکر اور دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ڈرامہ ایک مفلوک الحال مغلیہ خاندان کے متعلق ہے۔ محمود صدیقی مخبوط الحواس مغل شہزادے کے روپ میں جلوہ گر ہیں۔ مظہر علی سی ایس ایس کی تیاری کرنے کے لیے ان کے گھر کرائے پر رہتے ہیں۔ بشریٰ انصاری ایک خوددار مغل شہزادی سے ان کی محبت ہو جاتی ہے اور وہ شادی کا وعدہ کر کے چلے جاتے ہیں۔ مظہر علی سی ایس ایس کر کے انتظامی عہدوں پر براجمان ہو جاتے ہیں اور بشریٰ انصاری اپنی غربت کے باعث در بدر ہوتے ہوئے ایک مزار پر بھکارن بن کر بیٹھ جاتی ہے۔ مظہر علی اس مزار پر دعا مانگ کر واپس آتے ہیں تو بشریٰ انصاری بھیک مانگتی ہے دے اللہ کے نام پر ، مظہر علی بغیر دیکھے اس کی جھولی میں چند سکے پھینک دیتے ہیں اور اس سے متصل ہی ٹی وی سکرین پر ایک جملہ نمودار ہوتا ہے اور ڈرامے کا اختتام ہو جاتا ہے۔ "اب میرا انتظار کر“۔
رب کریم ان کی مغفرت کرے اور اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا کرے۔

