کیا آپ باچا خان کی خدمات سے واقف ہیں؟


جب ہم باچا خان کی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم ان کی سات دہائیوں پر پھیلی سماجی کاوشوں اور سیاسی کوششوں اور ان کی جماعت خدائی خدمتگار کی پختونوں کے لیے قربانیوں کو بڑی آسانی سے تین خانوں میں بانٹ سکتے ہیں۔

1۔ باچا خان ایک سماجی رہنما
2۔ باچا خان تعلیم کے علم بردار
3۔ باچا خان ایک سیاسی لیڈر

سماجی رہنما کی حیثیت سے باچا خان پختون سماج میں بہت سی مثبت تبدیلیوں کا محرک بنے۔ صدیوں سے پختون قوم میں بھی ہندو قوم کی طرح اعلیٰ و ادنی کی تقسیم و تفریق ہو چکی تھی۔ زمینوں کے مالکوں کو وہ حقوق و مراعات حاصل تھے جن سے کسان اور مزدور محروم تھے۔ جو پختون افغانستان سے ہجرت کر کے آئے تھے انہیں چھوٹے اور بڑے قبائل کے افراد ہونے کی وجہ سے کم زیادہ زمینیں دے دی گئی تھیں۔ اس دور میں بہت سی زمینیں مذہبی رہنماؤں کو بھی مل گئی تھیں۔

باچا خان نے مزدوروں اور کسانوں کی مدد کی۔ انہیں عزت نفس سے خوددار بن کر زندہ رہنا سکھایا۔ باچا خان نے رنگ اور نسل سے بالا تر ہو سب پختونوں کو اپنی خدائی خدمت گار تحریک میں شمولیت کی دعوت دی۔ اس تحریک میں امیر غریب سب برابر تھے۔ ایک وہ زمانہ تھا جب مالدار خان چارپائی پر اور مزدور کسان زمین پر بیٹھتے تھے۔ باچا خان نے سب کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا اور اعلیٰ ادنیٰ کا فرق مٹایا۔ بقول اقبال

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

باچا خان نے پختونوں میں برابری ’مساوات اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دیا۔
باچا خان نے عورتوں کو بھی دعوت دی کہ وہ بھی سماجی کارکن بن کر معاشرتی بہتری ’فلاح اور ارتقا کی جدوجہد میں برابر کی شریک ہوں۔ باچا خان نے اصرار کیا کہ عورتوں کو بھی وراثت میں حصہ دیا جائے تا کہ وہ بھی معاشی اور سماجی طور پر آْزادی و خودمختاری کے پھل چکھ سکیں۔ باچا خان نے عورتوں کو خدائی خدمتگار بنایا تا کہ وہ سیاسی طور پر فعال ہو سکیں۔ اسی لیے خدائی خدمتگاروں کے جلسوں میں عورتوں کی خدمات کو سراہا جاتا تھا۔ باچا خان عورتوں کو قرآن کی وہ آیات پڑھ کر سناتے تھے جن میں ان کے حقوق کا ذکر کیا گیا ہے تا کہ ان کا سماجی شعور بڑھ سکے۔ باچا خان نے نہ صرف اپنی بیٹی مہر تاج کو تعلیم دلوائی بلکہ سب پختون لڑکیوں اور عورتوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب بھی دی۔

باچا خان سب بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم کے حامی تھے۔ انہوں نے انجمن اصلاح افغانیہ کے پرچم تلے سب پختونوں کو جمع کیا اور سب سے پہلے اپنے گاؤں اتمان زئی میں ایک سکول کھولا جس کا نام آزاد سکول رکھا گیا۔ جب ان کا اپنے گاؤں کا تجربہ کامیاب رہا تو پھر انہوں نے دوسرے دیہات اور شہروں میں آزاد سکول کھولے۔
باچا خان کے سکولوں کے پروگرام سے برطانوی حکومت اتنی خوفزدہ ہو گئی کہ اس نے نہ صرف باچا خان کی کوششوں کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کیں بلکہ ان کو پابند سلاسل بھی کیا لیکن اس سے باچا خان کا عزم کم ہونے کی بجائے اور بڑھ گیا
بقول شاعر

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

جب خیبر پختون خواہ میں خدائی خدمت گاروں کی حکومت قائم ہوئی تو باچا خان نے اپنے آزاد سکولوں کے خواب کو دوبارہ شرمندہ تعبیر کیا۔ باچا خان اپنی آزمائشوں کی وجہ سے خود تو اعلیٰ تعلیم نہ حاصل کر سکے لیکن انہوں نے اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کا انتظام کیا۔

جہاں تک سیاسی زندگی کا تعلق ہے باچا خان نے اس میں بھی کامیابیاں حاصل کیں۔ باچا خان کی خدائی خدمت گاروں کی تحریک نے موہن داس گاندھی کے ساتھ مل کر ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں فعال کردار ادا کیا۔

باچا خان ایک امن پسند سیاسی رہنما تھے اسی لیے انیس سو سینتالیس کی تقسیم کے دوران مسلمانوں ’ہندوؤں اور سکھوں کے فسادات میں بہت سی معصوم جانوں کے ضائع ہونے سے وہ بہت دکھی ہوئے۔

باچا خان اپنی مادری زبان پشتو کے بہت دلدادہ اور پرستار تھے۔ ان کا موقف تھا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جائے۔ اپنی مادری زبان اور اس زبان کے ادب کی جان کاری سے بچے اپنی شناخت اور اپنی ثقافت پر فخر کرنا سیکھتے ہیں۔ باچا خان نے پختو زبان کی ترقی اور ترویج کے لیے۔ پختون۔ نامی ایک مجلے کا اجرا کیا۔ اس مجلے نے خدائی خدمت گاروں کی کامیابی اور مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اس رسالے میں باچا خان کے بیٹے غنی خان کی شعری و نثری تخلیقات باقاعدگی سے چھپتی تھیں۔ غنی خان اس مجلے میں۔ لونے فلسفی۔ دیوانے فلسفی۔ کے فرضی نام سے لکھتے تھے۔

[غنی خان پشتو کے ایک معزز و محترم ’مستند و معتبر شاعر ہیں جن کی پشتو نظموں کا انگریزی میں ترجمہ کینیڈا کی ڈاکٹر خالدہ نسیم نے کیا ہے]

باچا خان نے افغانستان کے قائد امان اللہ خان کو قائل کیا کہ وہ دری کی بجائے پختو کو اپنی قومی زبان بنائیں۔

باچا خان نے خیبر پختون خواہ اور افغانستان میں طرحی مشاعروں کا اہتمام و انتظام کیا تا کہ عوام و خواص جدید پختون شاعروں سے متعارف ہو سکیں۔ ان مشاعروں نے نہ صرف بہت سے نئے شاعر پیدا کیے بلکہ پختون اپنی زبان اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت پر بھی فخر کرنے لگے۔

باچا خان ساری عمر اپنی قوم کے مردوں اور عورتوں ’جوانوں اور بوڑھوں میں سماجی اور سیاسی شعور کو بڑھاوا دیتے رہے۔

باچا خان کی خدائی خدمت گار پارٹی کی کوکھ سے سیکولر نیشنل عوامی پارٹی نے جنم لیا جس کی مقامی اور قومی سیاست میں ان کے بیٹے ولی خان ’ان کی بہو نسیم ولی خان اور پوتے اسفند یار ولی خان نے فعال کردار ادا کیا۔ اس پارٹی نے صوبے کا نام۔ شمال مغربی سرحدی صوبےNORTH WEST FRONTIER PROVINCE سےبدل کر خیبر پختون خواہ رکھا۔

باچا خان ایک امن پسند انسان دوست سماجی و سیاسی رہنما تھے جو ساری عمر رنگ ’نسل‘ زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی بے لوث خدمت کرتے رہے اور اس خدمت کے لیے اتنی قربانیاں دیتے رہے کہ انہوں نے نیلسن منڈیلا کی طرح ربع صدی سے زیادہ جیل کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن پھر بھی ایک دانا رہنما کی طرح مسکراتے رہے۔

باچا خان کا موقف تھا کہ ہم سب مل جل کر رہ سکتے ہیں اور قتل و غارت ’جنگ و جدل‘ شدت و تشدد سے اپنے بھائی بہنوں کی خون کی ندیاں بہانے کی بجائے پرامن مکالمے سے اپنے سماجی ’مذہبی اور سیاسی مسائل حل کر سکتے ہیں۔

باچا خان پاکستان کے ایک اہم سیاسی لیڈر تھے۔ ہماری قوم کو ان کے پرامن انسان دوستی کے فلسفے کی آج کے سماجی و سیاسی بحران میں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

باچا خان جیسے رہنما ہر صدی میں دو چار ہی پیدا ہوتے ہیں

باچا خان کی خود نوشتہ سوانح عمریBACHA KHAN: MY LIFE AND STRUGGLE کے مترجم امتیاز احمد صاحب زادہ کے اختتامیہ کا ترجمہ اور تلخیص۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail