کیا حجاب عورت کا ہیلمٹ ہے؟


فرمایا گیا ہے کہ پردہ ویسے ہی ضروری ہے جیسے روڈ پر اگر آپ موٹر بائیک چلائیں گے تو آپ کو ہیلمٹ کی ضرورت بھی ہے اور قانونی مجبوری بھی ورنہ حادثہ کی صورت میں آپ کی جان بھی جا سکتی ہے اور آپ کو قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

عرض یہ ہے کہ پردہ تو صرف خواتین پر آپ لازم کر رہے ہیں مگر روڈ پر اگر موٹر بائیک مرد چلائے گا یا عورت تو ہیلمٹ کی پابندی تو دونوں کے لئے ہے۔ اب کیا اس دلیل سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ پردہ بھی ہیلمٹ کی طرح مرد و عورت دونوں پر لازم ہے یا پھر دونوں مستثنیٰ ہیں؟

ہر وہ قانون جو مساوات اور انصاف کے اصولوں کی پابندی نہیں کرتا وہ ناجائز ہے۔ اگر ایک لڑکی کو آپ پردہ کے سبب پانچ نمبر اضافی دیں گے تو دوسری صورت میں وہ لڑکی جو پردہ نہیں کرتی اس کے رائج سٹینڈرڈ کی رو سے باپردہ لڑکی کے موازنہ میں پانچ نمبر کٹ جائیں گے۔ اسی طرح ایک لڑکا جو امتحان میں باقی لڑکے لڑکیوں سے مقابلہ میں ہوتا ہے اسے ایسا کیا ظاہر کرنا ہو گا کہ وہ بھی پانچ نمبر لے سکے؟

اگر آپ کے خیال میں حجاب مذہب کی رو سے یا تمدن کی رو سے اتنا ہی لازمی ہے کہ اسے قانونا نافذ کردیا جائے تو باقی مذہبی یا تمدنی فرائض کیوں نہیں لاگوکیے جاتے؟ پھر آخر طالبان کی حکومت میں کیا حرج ہے جب وہ بے پردگی پر اور داڑھی نہ رکھنے پر کھلے عام کوڑے مارتے تھے؟ پھر آپ کا اصل میں طالبان سے اختلاف کیا ہے؟

میری رائے میں تو لباس ہر فرد کا ذاتی حق انتخاب ہے۔ مذہب یا ثقافت کے نام پر فرد کو اس کے اس حق انتخاب سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ آپ ایک عورت کو (اگر وہ آپ کو اپنی ذاتی زندگی میں مشورے کا حق دیتی ہے تو ) یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ لباس کے چناؤ میں ثقافت کا خیال رکھے۔ عمومی صورتحال میں بھی یہی ہوتا ہے کہ اگر ایک خاتون سوسائٹی میں پرسکون رہنا چاہتی ہے تو وہ لباس کے چناؤ میں ہمیشہ ثقافتی اقدار کو ہی ترجیح دیتی ہے۔ دوسرا یہ کام والدین پر چھوڑ دیں کہ اگر وہ ضروری سمجھتے ہیں تو وہ اپنی بچیوں کو حجاب کروائیں ورنہ انہیں کوئی اعتراض نہیں تو کسی کو کیا اعتراض ہے؟ تیسرا اپنی ماں بہن اور بیٹیوں پر اعتماد رکھیں، کوئی بھی عریاں نہیں ہونا چاہتی۔ پھر جس طرح آپ کو اپنے گھر کی خواتین پر اعتماد ہے یقین رکھیں باقی خواتین بھی ویسے ہی قابل اعتماد ہیں۔ دماغ کے اس شافی و کافی علاج کے بعد یقین کریں آپ راحت محسوس کریں گے۔

ریاست کا کام انتظامی ہے۔ پردہ کے جبر سے بڑھ کر اہم کام حکومت و سماج کے لئے یہ ہے کہ مرد و عورت جب اپنے گھر سے باہر نکلیں تو گھر واپسی تک وہ جان و مال اور عزت نفس کے اعتبار سے محفوظ ہوں۔ چونکہ یہ کام بہت مشکل ہے اس لئے آسان کام چن کر نمبر بنا لینا شاید حکومتی کارندوں کو آسان لگتا ہے۔

Facebook Comments HS

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 167 posts and counting.See all posts by zeeshan