مثبت سوچ کی طاقت

جان سی میکسویل لکھتے ہیں کہ ”انسان کو اتنا بڑا (یعنی اتنا ظرف والا) ہونا چاہیے کہ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کر سکے، اتنا سمجھدار ہونا چاہیے کہ ان سے فائدہ اٹھا سکے اور اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ اپنی کی گئی غلطیوں کو سدھار سکے۔“ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب ہماری سوچ مثبت ہو گی۔
یہ حقیقت ہے کہ ہمیں اپنی غلطیاں نظر نہیں آتی بلکہ تمام برائیاں اور عیب دوسروں میں ہی نظر آتے ہیں۔ ہم خود کو سنوارنے کی بجائے دوسروں کو نصیحتوں سے نوازتے رہتے ہیں۔ یہ ہماری سوچ ہی ہوتی ہے جو ہمیں اپنے حصار سے باہر نکلنے ہی نہیں دیتی۔
جیسے دنیا میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح ہماری سوچ بھی مثبت اور منفی ہوتی ہے۔ منفی سوچ کے حامل لوگوں کو ہر بات اور چیز میں مسائل نظر آتے ہیں جن کا حل نہیں ہوتا۔ وہ بس صرف خود کو اپنی قسمت کو کوستے رہتے ہیں۔ زندگی سے نالاں رہتے ہیں۔ اپنی ناکامیوں کا، غلطیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ جبکہ مثبت سوچ رکھنے والے مختلف زاویے سے مسائل کو دیکھتے ہیں۔ وہ مشکلات کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتے بلکہ سینہ تان کر ان مسائل کا نہ صرف مقابلہ کرتے ہیں بلکہ حل بھی تلاش کرتے ہیں۔ اپنی اسی مثبت سوچ کی وجہ سے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی راہیں ہموار کرتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم ہر وقت خود کو مثبت نہیں رکھ سکتے۔ اکثر زندگی کے اتار چڑھاؤ ہمیں توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ مشکلات، مصائب کچھ اس طرح ہمیں اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں کہ ہم سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہتے لیکن یہی تو ہماری آزمائش ہوتی ہے اور یہی وہ پل ہوتا ہے جہاں سے ہم خود اپنی سوچ کی بدولت اپنی قسمت بدلتے ہیں۔ اپنے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔
مشکلات زندگی کا حصہ ہیں۔ دنیا میں ہر انسان ان مسائل کا شکار ہوتا ہے لیکن ان سے باہر نکلنے میں وہی کامیاب ہوتے ہیں جو مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے ہیں اور اپنی سوچ کو اپنی گرفت میں رکھتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ہماری مثبت سوچ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ ایک بُرے دن کو قابلِ انتظام یعنی مناسب، گزارے لائق دن، اور ایک اچھے دن کو مزید بہتر بنا سکے۔ کیونکہ جب ہم کوئی کام شروع کرتے ہیں تو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کام کوئی بھی ہو، جیسا بھی ہو کرنے سے پہلے آسان نہیں ہوتا۔ کئی خدشات ہوتے ہیں، کئی ان دیکھی رکاوٹیں ہوتی ہیں جن کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ لیکن اگر مشکلات کا سوچ کر کام شروع ہی نہ کیا جائے تو ہم اپنی زندگی میں کچھ کر ہی نہیں سکیں گے۔
بقول ارسطو ”جب کسی کام کا آغاز کریں اور وہ آدھا یا نصف انجام پا جائے تو سمجھیں کہ کام مکمل ہو گیا ہے“ کیونکہ پہلا قدم اٹھانا ہی مشکل ہوتا ہے پھر رستے کھلتے چلے جاتے ہیں اور قدم آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کام کا آغاز کر لیتے ہیں اور شروعات میں تو بہت پُر جوش ہوتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ دلچسپی کھو دیتے ہیں یا مشکلات سے گھبرا کر ہمت ہار بیٹھتے ہیں، امید چھوڑ دیتے ہیں، رستہ بدل لیتے ہیں یا پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ایسے میں سوچنا چاہیے کہ ہمارا مقصد کیا تھا وہ کیا چیز تھی جس نے ہمیں پہلا قدم اٹھانے پر مجبور کیا تھا۔ ہم اپنے موٹیویٹر خود ہوتے ہیں کیونکہ کوئی دوسرا ہمارے خوابوں کو سمجھ ہی نہیں سکتا اور نہ ہمیں ہمت دے سکتا ہے۔ یہ ہم خود ہی ہیں جو اپنی سوچ کی بدولت اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔ ہماری سوچ، ہمارا مقصد ہمیں تھکنے اور رکنے نہیں دیتا۔
ہمیشہ یاد رکھیں کہ جب بھی ہم کوئی کام کرتے ہیں تو آغاز میں ہی ہمیں اس کے مثبت نتائج ملنا شروع نہیں ہو جاتے۔ پھر ہر کام کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، ایک مدت ہوتی ہے اور کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں لہذا ہمیں صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اپنے تمام عناصر کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین حکمتِ عملی کے تحت کام کرنا چاہیے۔ اگر نتائج ویسے نہیں ملتے جیسا ہم نے سوچ رکھا تھا تو اس میں گھبرانے کی بات نہیں ہوتی بلکہ اپنی منصوبہ بندی، لائحہ عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی جلدی میں یا بے دھیانی میں کچھ معاملات یا اہم نقطۂ ہم دیکھ نہیں پاتے یا نظر انداز ہو جاتا ہے تو دوبارہ سے نئی ہمت اور توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم اپنے کام کا آغاز کر سکتے ہیں۔ ،
ہم انسان ہیں اور غلطیاں ہم سے سرزد ہوتی ہیں، اس کے علاوہ ہم جلد باز بھی ہوتے ہیں اور خوش فہم بھی اس لیے بہت ساری باتوں پر غور کرنا بھول جاتے ہیں پھر جب ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو بوکھلا جاتے ہیں۔ ہمیں اپنے مقاصد کو کاغذ پر یا کمپیوٹر میں لکھ لینا چاہیے تاکہ روز اپنی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں۔ سب سے بڑھ کر آج کے کام کو کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے اُسے اسی وقت کر لینا مناسب ہوتا ہے کیونکہ وقت تو بادشاہوں کے لیے بھی کبھی واپس نہیں آیا۔ وقت کی خوبی ہے کہ یہ اچھا ہو یا بُرا گزر جاتا ہے۔ لیکن گزرا وقت ایک سبق، ایک تجربہ ضرور دے کر جاتا ہے۔ ہمیں اپنی مثبت سوچ کی بدولت اس سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے اور اس تجربے کی وجہ سے بہتر فیصلہ کرنا چاہیے۔ اگر ہم رونے دھونے میں وقت گزاریں گے تو ساری زندگی روتے ہیں رہیں گے۔
نائجیل کمبرلینڈ لکھتے ہیں کہ ”ان چیزوں کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں جو آپ کے اپنے اختیار میں نہیں ہیں“ یعنی ہمیں اپنا کردار نبھانا چاہیے، اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے، اپنی بھرپور توانائیوں کا استعمال کرنا چاہیے نتائج کا سوچ سوچ کر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
جو چیز ہمارے اپنے ہاتھ میں یا اختیار میں ہے وہ ہماری اپنی سوچ ہے جس پر کام کر کے ہم نہ صرف خود کو بدل سکتے ہیں بلکہ اپنے مستقبل کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جیسا گمان ہوتا ہے ویسا ہی ہمارے ساتھ ہوتا ہے لہذا اچھا سوچیں، اچھا ہی ہو گا۔ بُری اور منفی سوچ ہمیشہ تھکا دیتی ہے اور حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ اس منفی سوچ کی وجہ سے ہم قابلیت اور صلاحیت ہونے کے باوجود کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔
ایک بار سوچ کر دیکھیں کہ کیسے ہم اپنے آج کو بہتر بنا سکتے ہیں، سوچ کو مثبت رکھیں، مناسب حکمتِ عملی اور لائحہ عمل تیار کریں، ماضی کو بھول جائیں، تجربات کو یاد رکھیں، کی گئی غلطی کو دوبارہ نہ دہرائیں اور مستقبل کے بارے میں پریشان ہونا چھوڑ دیں۔

