جنٹل مین
آخر کون ہوتا ہے یہ جنٹل مین؟ کیا وہ سوٹِڈ بوٹِڈ سی ایس ایس افسر جو کہنے کو تو عوام کا خادم یعنی پبلک سرونٹ ہوتا ہے، مگر در حقیقت گردن میں سریا فٹ کیے ہوئے عوام پر حاکم بنا ہوتا ہے اور اپنے لامحدود اختیارات کو عوام کے حقوق غصب کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے؟ یا جنٹل مین وہ وردی والا پولیس کا افسرِ اعلیٰ ہوتا ہے جو یوں تو قانون کی پاسداری اور قانون کے نفاذ اور معاشرے سے جرائم اور بدمعاشی ختم کرنے کا پابند ہوتا ہے، مگر اصل میں جابر حکمرانوں کا پالتو غلام بن کر ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ کا عملی مظاہرہ کرتا ہے، مجرموں کی پشت پناہی کرتا ہے، اور افسرانِ بالا یا حکمران طبقے کے مخالفین کو جعلی پولیس مقابلوں میں مروا دیتا ہے؟ یا پھر جنٹل مین قومی لباس اور شیروانی میں ملبوس وہ جاگیردار، کاروباری، یا صنعت کار سیاست دان ہوتا ہے جو ویسے تو سیاست میں عوام کی خدمت کا نعرہ لگا کر آتا ہے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد قومی وسائل کی لوٹ مار سے اپنے بینک بیلنس اور جائیدادوں میں اس قدر اضافہ کر لیتا ہے کہ اس کی آنے والی سات نسلوں تک کو کچھ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی؟
کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ کبھِی کوئی بہ ظاہر غنڈہ نظر آنے والا شخص اندر سے ایک جنٹل مین ہو جو اس گلے سڑے اور متعفن سسٹم سے بے زار ہو اور جیسے تیسے اس کا صفایا کرنا چاہتا ہو؟
گرین اینٹرٹینمنٹ چینل کے حالیہ ختم ہونے والے ڈرامے ”جنٹلمین“ کا تانا بانا انہیں سوالات کے گرد بنا گیا ہے یہ ڈرامہ اپنی عمدہ کاسٹ، بہترین اداکاری، اور پاکستانی تناظر میں حقیقتِ سے قریب ترین کہانی ہونے کی بنا پر گرین چینل کی کامیاب ترین سیریلز میں سے ایک شمار کیا جا سکتا ہے۔ ڈرامے میں ایکشن ہے، سیاست ہے، غنڈہ گردی ہے، سازش ہے، حسد اور جلن ہے، انتقام ہے اور محبت، بلکہ شدید ترین محبت بھی۔ مکالمہ نگاری چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہے کہ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر ہے۔ یوں تو ہمیں خلیل الرحمان سے ان کے مساجنسٹ خیالات کی بنا پر شدید ترین نظریاتی اختلاف ہے، مگر تحریر کی داد نہ دینا بد دیانتی ہو گی۔ قمر کے ڈراموں کے مکالمے، کاٹ دار، برجستہ اور بسا اوقات دل کو چھو لینے والے ہوتے ہیں۔ ”ذرا یاد کر“ ، ”بنٹی آئی لو یو“ ، اور ”صدقے تمہارے“ جیسے مشہور ڈرامے ان کے اس منفرد اسلوب کی چند خوب صورت مثالیں ہیں۔
جنٹلمین نے ابتدائی اقساط سے ہی ناظرین کی توجہ حاصل کر لی تھی۔ اعلیٰ معیار کی ہدایتکاری، پروڈکشن اور اداکاری نے آغاز سے ہی ناظرین کو گویا اپنے ساتھ باندھ لیا تھا۔ یہ ڈرامہ ایک ایسی خاتون صحافی (حمنا زیدی بطورِ زرناب) کی ڈائری میں قلم بند یادداشتوں پر مشتمل ہے، جو انتہائی بے باک، نڈر، اصول پرست اور با اعتماد پروفیشنل ہے۔ ڈرامے کی کہانی کراچی کے غنڈوں اور اشرافیہ کے درمیان تصادم کے گرد گھومتی ہے۔ جس میں اعلی سرکاری افسروں، پولیس، اور سیاستدانوں اور ان کے غیر قانونی کاموں کو سرانجام دینے والے گینگسٹرز کے گٹھ جوڑ کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی فرضی کہانی ہے جو وطنِ عزیز کے تناظر میں ایک بہت بڑی زمینی حقیقت ہی ہے۔ ڈرامے میں دکھایا جاتا ہے کہ کیسے سیاست دان اقتدار اور پیسے کی خاطر غنڈوں کو پالتے ہیں۔ ان غنڈوں کو ایریاز بھی الاٹ کیے جاتے ہیں جہاں وہ اتنے با اختیار ہوتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر اور اعلی پولیس افسران بھی ان کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔ ڈرامے میں یہ بھی دکھلایا گیا ہے کہ اکثر پولیس انکاؤنٹرز کی اصل حقیقت کیا ہوتی ہے۔ کیسے سیاست دان اور پولیس والے اپنے ناپسندیدہ افراد کو جعلی پولیس مقابلوں میں مروا دیتے ہیں۔ پوری کہانی کے لئے آپ کو خود ڈرامہ دیکھنا پڑے گا۔
اس ڈرامے کے اکثر اداکار ہمارے پسندیدہ ہیں۔ یمنیٰ زیدی، زاہد خان، عدنان صدیقی، اور عثمان پیرزادہ کی اداکاری کی صلاحیتوں سے کسے انکار ہو سکتا ہے۔ اس ڈرامے میں انہوں نے اپنی جاندار اداکاری کے جوہر دکھلا کر ڈرامے کی خوب صورتی میِں گویا چار چاند لگا دیے۔ ان کے علاوہ ہمایوں سعید، سہائے علی ابڑو، خالد انعم اور دیگر تمام اداکاروں کی پرفارمنس بھی بہترین تھی۔ خاص طور پر ہمایوں سعید، جنہوں نے اکثر جگہوں پر صداکاری کی بجائے محض اپنے چہرے کے تاثرات اور باڈی لینگوئج سے اپنے جذبات کا اظہار اس خوب صورتی سے کیا کہ ناظر عش عش کر اٹھتا ہے۔
ہمیں اس ڈرامے میں سب سے زیادہ زرناب (یمنی زیدی) اور مِفرا (سوہائے علی ابڑو) کے کردار پسند آئے جو دو خود مختار، مضبوط اور اعتماد سے بھرپور خواتین کے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ خلیل الرحمان قمر نے اس ڈرامے میں یہ دونوں کردار ایسے تخلیق کیے جو ان کی اصل سوچ سے بالکل مختلف ہیں۔ اصل زندگی میں وہ خود مختلف مواقع پر ایسی خود مختار خواتین کے حوالے سے کافی زہر اگل چکے ہیں۔ مگر مقامِ شکر ہے کہ ڈرامے میں انہوں نے ان کرداروں کو مثبت اور رول ماڈل کے طور پر ہی پیش کیا۔
ڈرامے میں زرناب کا اپنے باپ (خالد انعم) کے ساتھ تعلق بھی بہت غیر روایتی اور دوستانہ دکھلایا گیا ہے۔ بالکل ایسا، جیسا ایک بیٹی کے اپنے باپ کے ساتھ حقیقت میں ہونا بھی چاہیے۔ یہ بھی ڈرامے کے کئی مثبت سماجی پیغامات کی طرح ایک نہایت خوب صورت پیغام ہے۔
ڈرامے کا ایک اور پہلو جو ہمیں بہت پسند آیا، یہ ہے کہ اس کا اختتام کوئی فلمی نہیں بلکہ اصل زمینی حقائق کے مطابق ہی رکھا گیا۔ یعنی انجام کے حوالے سے اسے ایک آرٹ ڈرامہ کہا جا سکتا ہے۔ اگر آپ ایک ہلکے ایکشن کے ساتھ تھوڑا سا سسپنس، محبت اور ٹریجڈی سے بھرپور ڈرامہ دیکھنا چاہتے ہیں، تو جنٹل مین ضرور دیکھئے۔


