طلبہ کے خوابوں کی حفاظت کی ضرورت
شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی شیرینگل کے کیمپس میں آج کل بے پناہ رونق اور جشن کا سماں ہے۔ ہزاروں طلبہ اپنے بی ایس پروگرامز کو مکمل کر کے ایک نئے سفر کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹیں، آنکھوں میں خواب اور دل میں ایک ناقابلِ بیان خوشی دکھائی دیتی ہے۔ ہر دن جب کسی کا آخری پرچہ ختم ہوتا ہے، تو طلبہ انتہائی جوش و خروش سے ہال سے باہر نکلتے ہیں، ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں، گلے ملتے ہیں اور اپنی دوستیوں کو یادگار بنانے کے لیے اپنے دوستوں کے کپڑوں پر دستخط کرتے ہیں۔ یہ مناظر، دل کو چھو لینے والے اور جذبات سے بھرپور ہوتے ہیں۔
ان طلبہ کی کامیابیوں کو منانے کے لیے بعض کے ساتھ ان کے والدین اور عزیز بھی یونیورسٹی آتے ہیں۔ ان کے چہروں پر فخر اور خوشی کے آنسو نظر آتے ہیں، جب وہ اپنے بچوں کو کامیابی کی دہلیز پر کھڑا دیکھتے ہیں۔ یہ لمحات والدین کی برسوں کی محنت کا ثمر ہیں اور طلبہ کے روشن مستقبل کی نوید سناتے ہیں۔ ایک استاد کے طور پر ، ان خوشیوں میں شامل ہو کر دل میں ایک خاص قسم کا فخر محسوس ہوتا ہے، کیونکہ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہمیں یہ دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ ہمارے طلبہ کے خواب حقیقت بننے کے قریب ہیں۔
مگر جیسے ہی یہ خوشیوں بھرے مناظر میرے سامنے آتے ہیں، خوشی کے ساتھ ساتھ ایک اندرونی خوف بھی جنم لیتا ہے۔ ملک کے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے دل میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ خوشیاں پائیدار ہیں؟ کیا ہمارے بچے، جنہوں نے علم کی روشنی میں اپنی زندگی کا یہ مرحلہ طے کیا ہے، آگے جا کر اپنے خوابوں کو پورا کر پائیں گے؟ یا پھر بے روزگاری، غربت اور معاشی مشکلات ان کے مستقبل کے خوابوں کو چکناچور کر دیں گی؟ یہ وہ خوف ہے جو ہر ایک ذمہ دار شہری کے دل میں موجود ہے۔
یہ طلبہ، جو آج کامیابی کے جشن میں ڈوبے ہوئے ہیں، کل کو کیا کریں گے؟ اگر روزگار نہ ملا، اگر غربت نے ان کا راستہ روک لیا، تو کیا ہو گا؟ کہیں یہ سب خوشیاں، یہ خواب اور یہ امیدیں بے بسی اور محرومی میں نہ بدل جائیں۔ کہیں والدین کی وہ تمام قربانیاں جو انہوں نے اپنے بچوں کی کامیابی کے لیے دیں، ضائع نہ ہو جائیں۔ کیا ہمارے یہ نوجوان، جو ابھی کامیابی کے اس سنگِ میل پر کھڑے ہیں، کل کو مایوسی کے اندھیروں میں گم نہ ہوجائیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جو مجھے ہر بار پریشان کرتے ہیں۔ ایک پروفیسر ہونے کے ناتے، میں ان بچوں کے روشن مستقبل کا خواب دیکھتا ہوں، مگر ساتھ ہی مجھے خوف ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور ذمہ دار اداروں کی ناکامی ان خوابوں کو مسمار نہ کر دے۔ ہمارے ان معصوم طلبہ کو ان کا حق، یعنی عزت دار روزگار ملنا چاہیے۔ ان کی تعلیم، محنت اور قابلیت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت فوری اور موثر اقدامات کرے۔
حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ ان بچوں کی کامیابی صرف ان کی ذاتی خوشی نہیں بلکہ ملک کی اجتماعی ترقی کا ضامن ہے۔ اگر ہم ان نوجوانوں کی امیدوں کو زندہ رکھ سکیں اور ان کے لیے ترقی کے مواقع فراہم کریں، تو یہ قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
لہٰذا میری پر زور درخواست ہے کہ ہمارے حکمران ان طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے جلد از جلد سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ یہ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں، ان کی مسکراہٹوں کو برقرار رکھنا اور ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ غربت اور بے روزگاری کے اندھیروں سے ان معصوم بچوں کے مستقبل کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔


