بلوچ خواتین اور ان کی جدوجہد


یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بلوچ عورت ہر دور میں اپنے بھائیوں کے قدم سے قدم ملا کے چلتی آئیں ہیں اور کوئی بھی مصیبت ہو اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر ان کا مقابلہ کیا ہے دور ماضی ہو یا دور حاضر بلوچ خواتین کی جدوجہد نے اپنا لوہا منوایا ہے اور اپنی جدوجہد کے لیے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کی یہی وجہ ہے کہ بلوچ عورت کی جدوجہد آج پوری دنیا میں مقبول ہے۔

بانڑی رند بلوچ جو میر چاکر رند کی ہمشیرہ تھی جو تاریخ کے حوالے سے بلوچ خواتین کا ایک معتبر کردار ہے جو مختلف جنگوں میں اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ جنگوں میں شامل رہیں۔

خان آف قلات میر احمد خان کی بہن مائی بیبو بلوچ جو اپنے بھائی کی پے در پے شکست کے بعد میدان جنگ میں اتریں اور ڈھاڈر کے باروزئیوں کے خلاف جنگ میں بی بی نانی کے مقام پے شہید ہو گئیں۔

گل بی بی بلوچ جو یار محمد زئی قبیلے سے تعلق رکھتی تھی گل بی بی طبی ماہر تھی جس کے مرہم گہرے زخموں کو بھی بھر دیتے تھے وہ اپنے دشمنوں سے میدان جنگ میں لڑتی اور جو جنگ میں زخمی ہوتے ان کے لیے طبی امداد فراہم کرتی۔

گل بی بی کی کہانی جنرل ڈائر نے اپنی کتاب میں میں لکھی ہے کہ اتنی حسین اور دلیر خاتون میں نے زندگی میں نہیں دیکھی۔ اور بھی بہت سی خواتین تھی جس نے جنگ آزادی میں حصہ لیا مگر گل بی بی ان سب میں بہادر تریں اور ذہین ترین کمانڈر تھی۔

سمی دین بلوچ، مہرنگ بلوچ، بیبو بلوچ اور سعدیہ بلوچ موجودہ دور کی مقبول شخصیت ہیں۔ جو جبری گمشدگی کے خلاف ہر جگہ مزاحمت کرتی نظر آئی ہیں اور یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہو گا کہ بلوچ قوم نے انہیں اپنا سردار ماں لیا ہے اور بلوچ قوم نے اپنی لیڈرشپ ان کے حوالے کر دی ہے جو تبدیلی بڑے بڑے سردار نہ لا سکے اور جو عوام آج تک نا کوئی رند نا بزنجو نا مینگل نا زہری نا رئیسانی نا ڈومکی نا جتک جمع کر سکا ہے وہ بلوچ خواتین نے جمع کر کے انہیں ایک قوم کی شکل دے دی۔

Facebook Comments HS