حسد اور چغل خوری: عورت کی فطرت یا عادت؟


پاکستانی معاشرے میں خواتین کے درمیان تعلقات کے معاملے میں حسد اور چغل خوری خاص مقام رکھتے ہیں جو انہیں ایک دوسرے سے بدظن کرنے، سازشیں کرنے، نفرت پیدا کرنے اور بڑھانے، لڑائی جھگڑے کا سبب بننے اور آپس کے تعلقات توڑنے اور تڑوانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح عورتیں ایک دوسرے سے ساتھ برسرپیکار رہتی ہیں، ان کے جھگڑے اور نا اتفاقیاں انہیں متحد نہیں ہونے دیتیں اور یہ اپنی فلاح و بہبود کے لیے متحد ہو کر اپنے حقوق کی جنگ نہیں لڑ پاتیں اور نتیجے میں اپنے حقوق سے محرومی کا شکار رہتی ہیں۔ حسد اور چغل خوری جہاں خواتین کی فطرت کا حصہ ہیں وہاں یہ سماجی اور معاشرتی عوامل کے زیر اثر پیدا ہونے والے رویے بھی ہیں۔ میں نے اپنے اردگرد کئی ایسی خواتین دیکھی ہیں جو حسد اور چغل خوری کا شکار ہوئیں اور اس نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا بلکہ ان کے خاندانوں اور تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ میں نے حسد اور چغل خوری کے حوالے سے بہت سے واقعات دیکھے ہیں جو میرے جاننے والوں، ہمسائیوں، رشتہ داروں، اور کولیگز کے ساتھ ہوئے۔

ہمارے معاشرے میں خواتین ہمیشہ ایک دوسرے سے اپنا موازنہ کرتی رہتی ہیں، خاص طور پر شادی بیاہ کی تقریبات میں۔ خواتین کی ظاہری خوبصورتی، زیورات، اور مالی حیثیت کو دیکھ کر دوسروں کے دل میں حسد پیدا ہونا ایک عام بات ہے۔ میرے محلے کی ایک خاتون، جو میری سہیلی بھی ہیں، نے اپنی نند کی خوبصورتی اور لباس کی بنا پر اس سے حسد کرنا شروع کر دیا۔ وہ ہر تقریب میں اپنے آپ کو کم تر محسوس کرتیں اور نند کے بارے میں چغلیاں کرتی رہتیں کہ وہ شوہر کی کمائی کو فضول چیزوں پر خرچ کرتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے درمیان تلخیاں بڑھ گئیں اور خاندان میں تنازعہ پیدا ہو گیا۔

خواتین کے درمیان خوبصورتی کا مقابلہ اکثر حسد کا سبب بنتا ہے۔ گورا رنگ، زیورات، اور بہترین لباس عورتوں کے درمیان حسد کا سبب بن جاتے ہیں۔ میری ایک کولیگ ہمیشہ اپنے کام کی جگہ پر بہت فیشن ایبل رہتی تھی جس کی وجہ سے ہماری ایک اور کولیگ اس سے حسد کرنے لگی۔ وہ اکثر دوسری کولیگز کے ساتھ اس کی برائی کرتی تھی اور کہتی تھی کہ وہ اپنی ظاہری حیثیت اور حلیے کو بہتر بنانے کے لیے حد سے زیادہ پیسے خرچ کرتی ہے بلکہ فضول خرچی کرتی ہے۔ اس حسد نے اس کے میری کولیگ کے ساتھ تعلقات کو خراب کر دیا اور یوں کام کی جگہ پر کشیدگی بڑھ گئی۔

پاکستان میں مشترکہ خاندانی نظام میں خواتین کے درمیان حسد ایک عام مسئلہ ہے۔ دیورانی، جیٹھانی یا ساس بہو کے درمیان اکثر حسد اور چغلیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ میری ایک قریبی رشتہ دار، جو اپنی دیورانی سے حسد کرتی تھی کیونکہ اس کی ساس اسے زیادہ عزیز رکھتی تھی، اکثر اپنی ساس کے سامنے دیورانی کے بارے میں منفی باتیں کرتی تھی۔ وہ دیورانی کی ہر بات میں کیڑے نکالتی اور چغل خوری کے ذریعے اسے نیچا دکھانے کی کوشش کرتی تھی۔ اس سے گھر کا ماحول تلخ ہو گیا اور دونوں خواتین کے درمیان تنازعہ پیدا ہو گیا۔

تعلیم اور ملازمت کے میدان میں بھی حسد اور چغل خوری عام ہے۔ میں نے ایک بار اپنے سابقہ پرائیویٹ سکول میں جہاں میں سرکاری سکول کی ملازمت سے پہلے پڑھاتی تھی، دیکھا کہ دو خواتین ٹیچرز ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتی تھیں۔ جب ایک ٹیچر کو ترقی ملی، تو دوسری نے اسے نیچا دکھانے کے لیے اس کے خلاف سکول میں باتیں پھیلانا شروع کر دیں۔ وہ دوسروں کے سامنے اس کی کامیابی کو کمتر ظاہر کرنے کی کوشش کرتی، جس سے سکول کا ماحول خراب ہو گیا، ادارے کی کارکردگی متاثر ہوئی اور ٹیم ورک متاثر ہوا۔

پاکستانی معاشرے میں شادی اور بچوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ جو خواتین اولاد پیدا نہیں کر سکتیں یا ان کی شادی شدہ زندگی میں مسائل ہوں، وہ اکثر ان عورتوں سے حسد کرتی ہیں جن کی زندگیاں خوشحال ہوتی ہیں۔ میری ایک واقف کار خاتون، جو کئی سال سے اولاد کی خواہش مند تھی، اپنی نند کے چار بچوں کو دیکھ کر حسد محسوس کرتی تھی۔ اس نے خاندان کے دیگر افراد کے سامنے نند کے بچوں کی پرورش پر تنقید شروع کر دی کہ وہ بچوں کو صحیح تربیت نہیں دے رہی۔ یہ چغلیاں اور حسد دونوں خواتین کے درمیان تلخیاں پیدا کرنے کا سبب بنے۔

حسد اور چغل خوری کے اثرات بہت تباہ کن ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان خاندانی رشتوں پر ہوتا ہے۔ جیسے کہ میں نے دیکھا کہ میرے ایک رشتہ دار خاندان میں دیورانی اور جیٹھانی کے درمیان حسد اور چغلیاں پورے خاندان میں فساد کی وجہ بن گئیں۔ دونوں خواتین ایک دوسرے کے خلاف ساس اور دیگر رشتہ داروں کے سامنے باتیں کرتی تھیں، جس سے پورے خاندان میں عدم اعتماد اور کشیدگی پیدا ہو گئی۔ حسد اور چغل خوری سے نہ صرف تعلقات کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ خواتین کی ذہنی صحت پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔

ایک اور کولیگ، جو اپنی ساتھی سے حسد کرتی تھی، نے اتنا ذہنی دباؤ محسوس کیا کہ وہ اکثر بیمار رہنے لگی۔ اس نے اپنی توانائی کا بڑا حصہ دوسروں کی برائیاں کرنے میں لگا دیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود ذہنی سکون سے محروم ہو گئی۔ میری ایک سہیلی نے اپنی ایک اور سہیلی کی خوشحال زندگی سے حسد کرنا شروع کر دیا۔ اس نے چغلیاں کرتے ہوئے دوسری سہیلیوں کو اس کے خلاف کر دیا اور اس کی شخصیت کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائیں۔ یہ رویہ ان دونوں کی دوستی کو ختم کرنے کا سبب بنا اور دوسروں کے ساتھ بھی اس کے تعلقات متاثر ہوئے۔ پیشہ ورانہ حسد اور چغل خوری کام کی جگہ پر ٹیم ورک کو متاثر کر سکتی ہے۔

حسد اور چغل خوری سے بچ کر ہی ایک اچھے اور صحت مند معاشرے اور اس کے افراد کی تشکیل ممکن ہے۔ اس حوالے سے سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ حسد اور چغل خوری کی جڑیں اکثر ہمارے اپنے احساس کمتری اور خود اعتمادی کی کمی میں ہوتی ہیں۔ جب ہم اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور اپنے جذبات کا احتساب کریں گے، تو ہم ان منفی رویوں پر قابو پا سکیں گے۔ مثبت سوچ اپنانا اور اپنے پاس موجود چیزوں پر شکرگزار ہونا حسد کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب ہم دوسروں کی کامیابیوں کو حسد کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ان کی تعریف کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے مثبت پہلوؤں پر توجہ دیتے ہیں، تو ہم حسد اور چغل خوری جیسے منفی جذبات سے بچ سکتے ہیں۔ خاندانی اور سماجی تعلقات میں حسد اور چغل خوری سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بات چیت کو فروغ دیا جائے۔ جب خواتین اپنے مسائل کو ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست بات چیت کے ذریعے حل کریں گی، تو چغلیاں اور حسد کے بجائے افہام و تفہیم اور محبت کا ماحول پیدا ہو گا۔ روحانی تربیت اور عبادات سے بھی حسد اور چغل خوری سے بچا جا سکتا ہے۔ نماز، روزہ، اور دیگر روحانی سرگرمیاں انسان کو سکون اور اطمینان فراہم کرتی ہیں، جس سے وہ حسد اور چغل خوری جیسے منفی جذبات سے دور رہ سکتا ہے۔

پس حسد اور چغل خوری پاکستانی خواتین میں عام ہیں، لیکن یہ فطرت کا حصہ نہیں بلکہ معاشرتی اور ثقافتی عوامل کا نتیجہ ہیں۔ میں نے اپنے اردگرد کئی ایسی خواتین دیکھی ہیں جو ان رویوں کی وجہ سے رشتوں میں مشکلات کا شکار ہوئیں، لیکن جو خواتین اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں، مثبت سوچ اپناتی ہیں، اور مسائل کو بات چیت سے حل کرتی ہیں، وہ حسد اور چغل خوری جیسے منفی جذبات سے بچ سکتی ہیں۔ آخرکار، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی میں ہر ایک کی اپنی الگ کہانی اور سفر ہوتا ہے، اور حسد یا چغل خوری ہمیں کہیں بھی نہیں لے جا سکتی۔ مثبت رویے، محبت، اور دوسروں کی کامیابیوں کو سراہنا ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک خوشحال اور مطمئن زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔

Facebook Comments HS