ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ہلچل: کچھ پرابلم ہے آدمی میں
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ٹی وی پر فریحہ ادریس نامی ایک خاتون کے ساتھ بیٹھ کر گھنٹے بھر کا انٹرویو دیا۔ اس میں انہوں نے فرمایا
”ٹی وی کے اوپر اگر نیوز ریڈر آدھے گھنٹے کے لیے نیوز دے رہی ہے، اور بیس منٹ وہ ٹی وی کے اوپر ہے، اگر کوئی آدمی وہ عورت کو دیکھتا ہے اور میک اپ کے ساتھ، اس کے دماغ میں کچھ نہیں ہوتا ہے تو ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔ کچھ پرابلم ہے آدمی میں۔ آپ لڑکی کو بیس منٹ تک دیکھیے، آپ کے دل میں ہلچل نہیں ہوتی ہے، مطلب آپ میڈیکلی بیمار ہیں، میرے حساب سے۔ وہ الگ بات ہے اتنی ہلچل ہوتی آپ کو عادت ہو گئی، تو ہلچل کم ہو گئی۔ تو اس کا مطلب نہیں کہ۔ ۔ ۔ (پھر فقرہ ادھورا چھوڑ کر فرمایا) ہلچل ہونی چاہیے۔ نہیں ہے تو آپ ’کا‘ سائیکاٹرسٹ کے پاس جانا چاہیے۔ “
اس بیان سے یہ واضح نہیں ہو پایا کہ انہیں میک اپ پر اعتراض ہے یا عورت کے دلربا ہونے پر۔ بعض حسن والیاں تو ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں مبارک شاہ آبرو جیسا بڑا شاعر بتا گیا ہے
نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا دیوے
کہ اُس کو بدنما لگتا ہے، جیسے چاند کو گہنا
ہمارا مشاہدہ بھی یہی ہے کہ بعض دلربائیں اپنے حسن کی بجلیاں گرانے کے لیے میک اپ کی محتاج نہیں ہوتیں۔ انہیں خدا نے ایسی ایسی جاذب نگاہ خوبیوں سے مالا مال کیا ہوتا ہے کہ بندہ کیا بتائے۔
یہاں اڑچن یہ ہے کہ ٹی وی پر آنے کے لیے میک اپ لازم ہے۔ عاصیوں کی بات تو چھوڑیں، بڑے بڑے علما کو سرخی پاؤڈر لگا کر کیمرے کے سامنے بٹھایا جاتا ہے۔ ٹی وی کے مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ میک اپ آرٹسٹ کسی بھی رو سیاہ ہستی کو رخ روشن عطا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ دوسری صورت میں کیمرا اسے بھتنا بنا دیتا ہے۔ اور بخدا ڈاکٹر صاحب کے رخ روشن کے چرچے تو چہار دانگ عالم میں ہیں۔
اب یہاں چند باتیں نوٹ کرتے ہیں۔
1۔ ٹی وی کے ناظرین میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے طبی تعلیم کی تحصیل کے دوران پڑھا ہی ہو گا کہ ان کی خواہشات کے برخلاف عورتوں کے بھی جذبات ہوتے ہیں۔ نیز وہ بھی اچھی صورت پر بری نظر ڈالنے سے نہیں چوکتیں کہ وہ بھی انسان ہوتی ہیں۔ قصہ یوسف زلیخا میں یہ سارا ماجرا ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بھی بغور پڑھ رکھا ہو گا۔
2۔ ٹی وی پر ایسی جذباتی عورتیں، میک اپ سے سجے سنورے علما و ذاکر کے حسن کے جلوے بھی دیکھتی ہیں۔ میک اپ صرف بھتنی ہی کو پری نہیں، بھتنے کو بھی مثل یوسف و گلفام بنا دیتا ہے۔
3۔ ان مبلغین کے پروگرام بیس منٹ سے بہت زیادہ طویل ہوتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر ذاکر نائیک کا یہ انٹرویو گھنٹے بھر کا ہے۔ اللہ جانے پروڈیوسر نے ہلچل کو کیسے چھپایا ہو گا، بیس منٹ سکرین دیکھ کر ہی حالت جذب طاری ہو جاتی ہے تو گھنٹہ بھر ساتھ بیٹھ کر تو ڈیسک بھی لرزنے لگا ہو گا۔
4۔ پاکستان، نیپال، انڈیا، افغانستان اور بھوٹان کے کئی علاقے ہم جنس پرستی اور لونڈے بازی کے لیے بدنام ہیں۔ پلوشہ کے بیان کو ہم رفع شر کی خاطر جھوٹ سمجھ لیتے ہیں، لیکن یو پی کو دیکھ لیں۔ وہاں کے نمائندہ استاد شعرا نے تقریباً ہمیشہ ہی محبوب کو مذکر باندھا ہے۔ یہ محض اتفاق تو نہیں۔
خدائے سخن کہلانے والے میر تقی میر اس معاملے میں خود کو بے بسی کی کیفیت میں مبتلا پا کر کہہ گزرے ہیں
کیفیتیں عطار کے لونڈے میں بہت تھیں
اس نسخے کی کوئی نہ رہی حیف دوا یاد
میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
میر تو پھر کچھ بخش گئے۔ حسن والوں کو زیور اور میک اپ کی محتاجی سے آزادی دینے والے آبرو شاہ مبارک دہلوی تو وہاں کا سارا فلسفہ عشق نہایت حتمی انداز میں بیان کر گزرے ہیں
جو لونڈا چھوڑ کر رنڈی کو چاہے
وہ کوئی عاشق نہیں ہے بوالہوس ہے
بعد کے زمانے کے جوش ملیح آبادی کی یادوں کی بارات بھی اس رواج کے بارے میں بتاتی ہے۔ یو پی کے دیگر استاد شعرا کے کلام میں دلربا محبوب کا مذکر ہونا بھی تو بے سبب نہیں۔
وہ جو محبوب کو مونث باندھنے کے باب میں دلیل دی جاتی ہے کہ اگر
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
میں محبوب کو مونث باندھیں تو بندے کے کردار پر حرف آ جاتا ہے
تم مرے پاس ہوتی ہو گویا
جب کوئی دوسری نہیں ہوتی
یعنی ایک گئی تو دوسری آ گئی۔ اجی حضت، یہ سوچ رکھیں تو اصل صورت میں ایک محبوب گیا تو دوسرا آیا والا معاملہ مرد شاعر کے کردار کو ہر سمت سے زیادہ خراب کر سکتا ہے۔
آگے علما اور ذاکر خود سمجھدار ہیں۔ مناسب تو یہی ہے کہ اپنے دس بیس برس پرانے فتاویٰ کی روشنی میں اس شیطانی آلے یعنی ٹی وی پر آنے اور ویڈیو بنوانے کا بائیکاٹ کر دیں اور صرف آواز سے کام چلائیں۔
لیکن ایک دشواری پھر بھی موجود رہے گی۔ بعض عاشق مزاج صالحین کو تو شکل دیکھے بغیر محض آواز سن کر بھی کچھ کچھ ہونے لگتا ہے۔ اسی وجہ سے کٹر خیالات والے مفتی کہتے ہیں کہ آواز کا پردہ بھی لازم ہے۔ اس صورت میں بہتر تو یہی ہے کہ محتاط قسم کے علما و ذاکر خاموش رہا کریں، مبادا ان کی دلکش آواز سن کر یوپی کے کسی بوالہوسیت سے دور مگر نہایت اچھے حکیم سے قربت رکھنے والے شاعر مزاج شخص کے دل کے اوپر نیچے کہیں ہلچل مچ جائے۔
ویسے کسی تحقیقاتی صحافی کو پتہ تو چلانا چاہیے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کامل تیس منٹ تک کس قسم کی نیوز دیکھتے ہیں۔ اگر پی ٹی وی خبرنامے کی گرہستن بیبیوں اور دور درشن کے ہند سماچار کی پتی ورتا شریمتیوں جیسی نیوز کاسٹر دیکھ کر بھی تیس منٹ میں ان کے دل و دیگر اعضائے رئیسہ میں ہلچل مچ جاتی ہے تو انہیں واقعی ایک اچھے سائیکاٹرسٹ کو دکھانے کی ضرورت ہے۔ اور اگر وہ اپنی بے پناہ معصومیت کے باعث کسی خلیفہ نامی حسینہ کی دستاویزی فلم دیکھ کر اسے خبرنامہ سمجھ رہے ہیں، تو معاملہ بہت سنگین ہے کہ ہلچل مچنے میں کامل تیس منٹ لگتے ہیں۔ انہیں کسی اچھے حکیم سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے، ”کچھ پرابلم ہے آدمی میں“ ۔


