کہانی ایک یادگار رات کی


احوال یہ ہے کہ اس وقت رات کے بارہ بجنے کو ہیں۔ ہم اپنی تبلیغی جماعت کے کاروان کے حصار میں صوبہ پنجاب کے شمالی شہر اٹک میں مرکزی جامع مسجد کی دوسری چھت پر مقیم گرد و پیش کا نظارہ کر رہے ہیں۔ دل کرتا ہے، سب کو اس نظارے میں شرکت کی سعادت حاصل ہو۔ جہاں رات گئے گہماگہمی کی کیفیات دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ابھی نمازِ عشاء کی تیاری ہو رہی ہو۔

مسجد کی بابرکت، پُرشکوہ اور پُرسکون عمارت روشنی کے سمندر میں نہائی ہوئی لگتی ہے، گویا اینٹ اینٹ سے رنگ و نور کی پھوار نکل رہی ہو، جو درون کیا، بیرون میں بھی دور دور تک ماحول کو اپنے جلوے میں شریک رکھے ہوئے ہے۔ گراؤنڈ فلور کے وضو خانوں میں ہل چل ہے۔ صحن میں نوافل کی ادائیگی جاری ہے۔ ذکر و فکر، ثناء و صفت اور قرآن مجید کی تلاوت کے اثرات پوری عمارت میں گونج رہے ہیں، جو کانوں کو سرور اور دماغ کو سکون بخشتے ہیں۔ گرم پانی کا انتظام، صاف ستھرے واش رومز، تبلیغ کا علیحدہ شعبہ، گائیڈنس اور معلومات کے لیے مسجد کمیٹی کے افراد دفتر میں موجود ہیں۔ شعبہ صفائی کے ممبران اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں سرگرم ہیں۔ دیواروں پر جگہ جگہ نوٹس بورڈز لگے ہیں، جن پر ہدایات درج ہیں جیسے : ”پانی کا ضیاع جائز نہیں۔ واش رومز کی صفائی کا خیال رکھیں۔ نماز کے اوقات میں خاموشی بہتر ہے۔ مسجد میں موبائل فون استعمال نہ کریں اور غیر ضروری لائٹس اور پنکھے بند کر کے جائیں“ ۔ اسی طرح احادیث اور قرآنی آیات کے ترجمے بھی لکھے گئے ہیں۔

ایک کونے میں ایک جماعت کل کی تیاری کے لیے صلاح و مشورے میں مصروف ہے، جبکہ دوسری چھت پر تبلیغی قافلوں کے قیام کے لیے دو کھلے ڈلے کمرے اور برآمدے ہیں، جہاں لوگ اپنے بستر بچھا رہے ہیں۔ کئی تھکے ماندے افراد خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ ایک طرف گیس کے چولھوں پر پتیلے چڑھے ہیں، جن میں پکنے والے کھانے کی خوشبو بھوک کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ ہمارے دو ساتھی گھیا کدُو اور بینگن کا منفرد مکسچر پکانے پر مامور ہیں۔ یہ ایسی سبزیاں ہیں، جنہیں ہم نے زندگی بھر نہ کبھی چکھا اور نہ چکھنے کی آرزو ہے، لیکن خوشی کی دو باتیں ہیں، اول، سب جماعتیں مل کر کھانا کھاتی ہیں، بنا بریں سالن کی کئی ورائیٹیز دسترخوان پر سجتی ہیں، اور ہر سالن میں ’غیروں‘ کی شرکت کا برابر احتمال رہتا ہے۔ دوم، مسجد کے آس پاس ریسٹورنٹس میں گرما گرم اور ذائقہ دار کھانے ہر وقت تیار رہتے ہیں، جہاں جماعت کے افراد کے لیے خصوصی رعایت ہوتی ہے۔

ابھی رات کا ایک بج رہا ہے اور یہ رونق بدستور جاری ہے۔ دل اس مسجد سے کہیں اور جانے کو نہیں کرتا۔ بقیہ زندگی یہیں بسر کرنے کو دل چاہتا ہے۔ کھانے پینے کی افراط، لوگوں کی محبتیں، سادگی سے مزین زندگی اور فقیرانہ ماحول۔ لیکن والدانہ اور شوہرانہ ذمہ داریوں میں پھنسا شخص اپنی مرضی کا مالک تھوڑی ہوتا ہے۔ کہنے کو زندگی اپنی مرضی سے جینے کا حق اگرچہ ہمارا ہے، لیکن کیسے؟ یہ بات شوہر اور والدین بخوبی جانتے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ کسی پیر کے مرید بن جائیں یا کسی مزار کے مجاور، اور زندگی کے بقیہ جھمیلوں سے گلو خلاصی حاصل کر کے بھگوڑے بن جائیں، لیکن افسوس کہ یہ ممکن نہیں۔ یہ کیسی زندگی ہے، اس کے کیا عجیب رنگ ڈھنگ ہیں۔ ہم کتنے لاچار اور عاجز ہیں۔ اپنے لئے اپنے وقت سے کئی دن چوری بھی نہیں کر سکتے اور کیا تیر ماریں گے۔

کھانا کھانے کے بعد یہی سوچتے سوچتے تھکن سے چور بستر میں گُھس جاتے ہیں۔ تھکن میں پاؤں پھیلا کر لیٹنے سے جو سکون ملتا ہے، وہ ناقابلِ بیان ہے۔ سچ ہے کہ جسم جتنا تھکتا ہے، بعد میں اتنا زیادہ سکون پاتا ہے۔ لیکن ابھی تو سونے سے پہلے کے امتحان اور بھی ہیں کیونکہ امیر صاحب سونے کے آداب پر بات کرنا چاہتے ہیں، سو ہم آدھے لیٹے اور آدھے بیٹھے، آنکھیں نیم باز کیے ہوئے اُن کی باتیں ایک کان سے سُن رہے ہیں اور دوسرے سے نکال رہے ہیں۔ فرما رہے ہیں : ”نیند اللہ تعالیٰ کا انعام ہے، جو ذہن، جسم اور دل کو سکون دیتا ہے۔ سونے سے پہلے باوضو ہونا چاہیے تاکہ شیطان اور بُرے خوابوں سے حفاظت میں رہیں۔ سونے کی دعا پڑھنی چاہیے : ’اے اللہ! میں اپنا جسم تیرے سپرد کرتا ہوں، تیری طرف راغب ہوتا ہوں۔ ‘ دائیں کروٹ لیٹنا اور آیت الکرسی پڑھنا افضل ہے۔ جاگنے کے بعد یہ دعا یاد رکھیں، ’تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندہ کیا‘ ۔

امیر صاحب کا بیان جاری ہے اور ہم بلا اجازت، حالتِ غنودگی سے ہوتے ہوئے گہری نیند کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ جاگتے تب ہیں جب لوگ تہجد و تلاوت میں مصروف ہوتے ہیں، اللہ اکبر۔ ہم مارے شرم کے جلدی جلدی بستر فولڈ کر کے اور ایک خفیہ کونے میں رکھ کر وضو خانے کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ صبح صبح ناشتہ کر کے اگلی مسجد میں تین دن کی تشکیل ہوتی ہے۔ اِن خدمات کے لئے اِس مسجد میں ایک سیکشن مختص ہے جہاں پر تبلیغی طائفوں کے آمد و رفت کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔

دیے گئے رقعہ کے مطابق مسجد ِ امیر معاویہ پہلی مسجد ہے، جہاں تین دن کا پڑاؤ کرنا ہے، جو یہاں سے کوئی ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ بیگ بستر کمر سے لٹکا کر یہاں سے وہاں تک پیدل جانے کو دِل مچل رہا ہے۔ آپس کی بات ہے، پیدل جانے میں باطنی نیت یہ ہے کہ اپنے پھلتے پھولتے اور پھیلتے جسم کا وزن کچھ کم ہو، جسمانی ورزش ہو، چلتے چلتے اٹک شہر کا نظارہ ہو اور کھانے پینے کے لئے جسم تازہ دم ہو۔ ظاہری نیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلے، بستر سر پر رکھے ہوئے بندوں کا ایک علامتی ڈسپلے ہو، لوگ ہمیں دیکھیں اور ہمارا ساتھ دینے کی ہامی بھریں۔ یہ فیض جی بھی بڑے عجیب ہیں، بن بلائے مہمان کی طرح آ جاتے ہیں۔

چشمِ نم جان شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بہ جُولاں چلو
دستِ افشاں چلو، مست و رقصاں چلو
خاکِ برسر چلو، خوں بہ داماں چلو
راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو

Facebook Comments HS