پس چہ باید کرد – مسلم اقوام کی مشکل کا تجزیہ اور حل


پچھلے ایک سال سے غزہ میں جاری ظلم و بربریت کو دیکھ کر ہمارے ملک کے اہل دانش عجیب مخمصوں میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک تو حماس کا اقدام آ بیل مجھے مار کے مترادف تھا۔ کچھ دوسرے غزہ پر پچھلی نصف صدی سے جاری مظالم کے تناظر میں اسے ایک رد عمل قرار دیتے ہوئے درست سمجھتے ہیں۔ کچھ اور اس بات پر شاداں و فرحاں ہیں کہ اہل مغرب المعروف مہذب دنیا کے چہرے پر لگا بنیادی انسانی حقوق، مساوات اور آزادی کا غازہ اترنے کے بعد ان کا مکروہ چہرہ سامنے آ چکا اور یہ کہ اب انھیں کوئی مغربی ملک بنیادی انسانی اقدار پر لیکچر دینے کے قابل نہیں رہا۔ گویا کہ اب سونی گلیوں میں مرزا یار ”بادشاہ ننگا ہے“ کے نعرے لگاتا اپنی مرضی کرے گا۔

یہ تمام دلائل ایک حد اور ایک دائرے میں درست ہیں مگر اس حد سے آگے یا اس دائرے سے باہر فقط تحریر کا پیٹ بھرنے والی گھاس پھونس ہے۔ اور دراصل یہی وہ دائرے سے باہر کا علاقہ ہے جو سنگلاخ، دشوار گزار اور تا حد نظر کسی فکری رہنمائی سے خالی ہے۔ اور پھر یہ تمام دلائل دینے والے یا تو اصل بات سے ناواقف ہوتے ہوئے کسی معاملے کی اوٹ پٹانگ تشریحات کر دیتے ہیں اور یا پھر اصل معاملے کی جڑ تک پہنچنے اور نتیجے کے طور پر ایک لائحہ عمل بیان کرنے کی ہمت نا پاتے ہوئے اس سے شعوری طور پر چشم پوشی کرتے ہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم اس مسئلے کی تہہ تک پہنچ کر کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں ہمیں کچھ بنیادی حقائق کا ادراک کرنا ہو گا۔ ان حقائق میں سب سے بنیادی سچ یہ ہے کہ آج سے پہلے دنیا ڈنکے کی چوٹ پر ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ کے اصول پر چل رہی تھی مگر موجودہ زمانے میں اسی اصول کو بنیادی انسانی حقوق کی دیدہ زیب چادر تلے چھپا دیا گیا ہے۔ گویا یہ مٹکا نیا ہے مگر اندر شراب پرانی ہی ہے۔

ہے وہی سازِ کُہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری

( خیال رہے کہ اس شعر کا مطلب یہ نہیں کہ اقبال جمہوریت کے خلاف تھے، بلکہ وہ صرف مسلمانوں کو اس جمہوری قبا میں لپٹے استبدادی نظام سے خبردار کر رہے ہیں جو اس وقت مغرب میں بتدریج رائج ہو رہا تھا اور اب مسلمانوں پر آشکار ہو چکا ہے )

یہ وہی اصول ہے جو survival of the fittest کے نام سے ڈارون نے بیان کیا اور اقبال نے اپنی نظم خضرِ راہ کے مندرجہ بالا اشعار میں اس کی طرف واضح اشارہ کر دیا تھا۔ یہ اصول ان دوسرے تمام اصولوں پر بھاری ہے جو اس کے بعد سامنے آتے ہیں جیسے کہ حق خود ارادیت، آزادی یا مساوات وغیرہ۔

مجلسِ آئین و اصلاح و رعایات و حقوق
طِبِّ مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوری

غالب اقوام پچھلے ستر سال کے دوران پوری دنیا کو بار بار اپنے عمل کے ذریعے یہ باور کراتی رہی ہیں کہ بنیادی انسانی حقوق تبھی قابل عمل ہیں جب تک ہماری اپنی دم پر پاؤں نا آئے۔ مغلوب اقوام کے افراد صرف اتنا کر سکتے ہیں، اور وہ یہی کر کے خوش ہوتے رہتے ہیں کہ ان کے دوغلے پن کا ادراک کرتے ہوئے ”بادشاہ ننگا ہے“ ، ”بادشاہ ننگا ہے“ کے نعرے لگائیں۔ اس مقصد کے لیے سب ملکوں کو اقوام متحدہ کا ایک ڈائس بھی مہیا کر دیا گیا ہے جہاں مغلوب ملکوں کے سرکردہ رہنما ننگے بادشاہ کو اس کی عریانیت کے طعنے دے سکیں اور بوقت ضرورت قراردادیں پھاڑ کر اس کی مجلس کا بائیکاٹ بھی کر سکیں۔

تاہم ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا بادشاہ کے سامنے اس کے ننگے ہونے کا واویلا اس کی بادشاہت پر کچھ ذرہ برابر بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا کیوں کہ بادشاہ کو معلوم ہے کہ وہ ننگا ہے۔ مگر جو نظام اس نے تعمیر کیا ہے اس کی بقا کے لئے لازم ہے کہ وہ جمہوریت و مساوات، آئین و آزادی کا لبادہ اوڑھے رہے۔ اسی بات کو مزید سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ دور نہیں تھوڑا سا ماضی قریب میں جھانکیں اور سمجھیں کہ پہلے کیا ہوتا رہا ہے اور اب ہمیں کیسی صورتحال درپیش ہے۔

سولہویں صدی عیسوی میں جب دنیا میں مسلمانوں کی ایک بڑی سلطنت قائم ہوئی تو اسے بھی اپنی سالمیت اور بقا کے لیے وہی حکمت عملی اپنانا پڑی جو آج اسرائیل کو درپیش ہے۔ اس وقت بھی جہاں جہاں سلطنت عثمانیہ کی سرحدوں پر شورش اٹھتی، ترک ان علاقوں پر چڑھ دوڑتے، حتیٰ کہ سلطنت کی حدود بلغراد تک پہنچ گئیں اور یوں حجاز و یمن سے لے کر ویانا کے قرب و جوار تک کا علاقہ سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں آ گیا۔ برصغیر میں مغلیہ سلطنت بھی چھوٹے پیمانے پر یہی کرتی رہی ہے۔ یہاں مراد یہ نہیں کہ آج اسرائیل کے اقدامات درست ہیں کیونکہ ماضی میں مسلمان بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ دنیا میں سلطنتوں کی وسعت پذیری اور بقا و سالمیت کا دار و مدار ہی اس بات پر ہوتا ہے کہ ان کے قرب و جوار میں کوئی دوسری بڑی طاقت اپنا وجود برقرار نا رکھ سکے اور نا ہی اس قابل ہو سکے کہ اس غالب سلطنت کے اپنے وجود ہی کے لیے خطرہ بن جائے۔ مسلمانوں کے زوال کے بعد ایسی ہی چپقلشوں اور اپنے اپنے اقتدار کے دائرے کو وسعت دینے اور دوسرے کو اس سے باہر رکھنے کی کوششیں پہلی اور دوسری جنگ عظیم پر منطبق ہوئیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد اس جنگ کے فاتحین مزید کسی عالمی جنگ سے بچنے کے لیے، چند بنیادی اقدار پر اصولی طور پر متفق ہوئے۔ ان میں سب سے بنیادی عنصر انسانوں کے حق خود ارادیت کا تھا جس کی عملی شکل جمہوریت کی شکل میں سامنے آتی ہے اور جس کے ساتھ دوسری اقدار یعنی مساوات، جینے کا حق اور بولنے کا حق یعنی فریڈم آف سپیچ کو روبہ عمل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ قائم کیا گیا۔ انھی بنیادی انسانی حقوق میں سے حق خود ارادیت کو بنیاد بنا کر جہاں جہاں ہو سکا چھوٹے چھوٹے ملک بنا کر اقتدار اور اختیار مقامی لوگوں میں سے چنیدہ افراد کو منتقل کر دیا گیا۔

تاہم یہ حق تفویض کرتے ہوئے اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ ان میں سے کوئی چھوٹا ملک کسی بڑے ملک کو آنکھیں نا دکھا سکے۔ یعنی عالمی نظام پر اجارہ داری میں کسی دوسرے کو شراکت سے باز رکھنے اور اس خطرے کے سد باب کے لیے سیکیورٹی کونسل میں ویٹو کا اختیار فاتح اقوام نے اپنے لیے مختص کر لیا۔ یاد رہے کہ اس نئے نظام کو قائم کرتے وقت مسلمانوں کی کوئی سلطنت اس کے قیام میں حصے دار نہیں تھی کیونکہ یہ نیا نظام مسلمانوں ہی کی عثمانیہ سلطنت کے کھنڈرات پر قائم کیا جا رہا تھا۔

جو لوگ اس ویٹو پاور کو متفقہ بنیادی قدر یعنی مساوات سے متصادم قرار دیتے ہیں انھیں چاہیے کہ اس پہلے اصول کو ذہن میں لائیں جو اوپر بیان ہو چکا ہے اور جس کی جانب اقبال نے اپنی چشم بینا کے طفیل سو سال پہلے اشارہ بھی کر دیا تھا۔ اس لئے کہ عالمی سطح پر بنیادی انسانی حقوق یا حق خود ارادیت اور مساوات کی دلیل کسی دوسرے مظلوم کو کسی تیسرے ظالم سے نجات دلانے کے لیے تو بنیاد بن سکتی ہے لیکن جب بات، اپنی طاقت، سالمیت اور بقا کی ہو گی، تو لاٹھی اور بھینس کا اصول ہی کار فرما ہو گا۔ یہی اصول یوکرین سے لے کر مشرق و سطیٰ میں فلسطین اور شام سے لے کر کشمیر تک کار فرما ہے۔ اسی اصول پر عمل پیرا امریکی وائٹ ہاؤس کے ترجمان یوکرین میں جاری جنگ کو نسل کشی اور اسرائیل کی نسل کشی کو دفاع قرار دیتے ہوئے شرماتے نہیں۔ اسی سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ ان بنیادی اقدار کی اصل روح کے مطابق ان کے اطلاق کے لیے انسانیت کو ابھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔

گماں مبر کے بپایاں رسد کار مغاں
ہزار بادہ نا خوردہ در رگ تاک است

( یہ نا سمجھ کہ مغوں کا کام ختم ہو چکا۔ انگور کی رگوں میں ابھی ہزار رنگ کی شراب موجود ہے )

اور یہی وہ منزل ہے جس کو ہدف بنا کر مسلمان ایک بار پھر دنیا میں اپنی امامت کے جھنڈے گاڑھنے کے سفر کی شروعات کر سکتے ہیں۔

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے
حنا بند عروسِ لالہ ہے خونِ جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے، معمارِ جہاں تو ہے
تیری فطرت امیں ہے ممکناتِ زندگانی کی
جہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے

اب جب یہ طے ہو گیا کہ ہم ایک ایسے نظم عالم میں جی رہے ہیں جس کے انتظام و انصرام میں اس کی پیدائش سے لے آج تک ہمارا کوئی کردار نہیں، اور یہ کہ اقبال کے بقول اس جمہوری نظام کے پردے میں استبدادِ قیصری کا دیو رقص کناں ہے، ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ آگے کیسے بڑھا جائے۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ یہ نظمِ عالم صرف دو صورتوں ہی میں بدل سکتا ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ پانچ بڑی طاقتوں میں سے کوئی دو یا تین ایک دوسرے سے عملی لڑائی میں گھتم گھتا ہو جائیں۔ اس صورت میں نظم عالم تو جوں کا توں رہے گا صرف اس کا محور شاید بدل جائے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی چھوٹا ملک یا چھوٹے ملکوں کی کوئی جمعیت اس قابل ہو جائے کہ اس نظام میں رہتے ہوئے اس کی چولیں معاشی، عسکری اور سائنسی طریقوں میں برتری کے بل بوتے پر ہلا دے۔ اس صورت میں یہ نا صرف بدل سکتا بلکہ نئے نظام کے معمار مسلمان بھی ہو سکتے ہیں۔

تاہم حتمی طور پر موجودہ نظمِ عالم کو تلپٹ کرنے اور بنیادی انسانی حقوق یعنی جمہوریت، آزادی اور مساوات کو ان کی روح کے مطابق روبہ عمل کرنے کے لیے، آخری طور پر جنگ ہی کرنا پڑے گی۔ کیوں کہ یہ بات طے ہے کہ نظم عالم پر اجارہ داری صرف اور صرف اپنی لاٹھی چلا کر ہی قائم کی جا سکتی ہے۔ بر سبیل تذکرہ یہ بھی ذہن نشین کر لیں کہ جو بات پرانے زمانے میں بادشاہوں کو درپیش ہوتی تھی، یعنی تخت یا تختہ، وہ اب بھی غالب اقوام کو ہر وقت درپیش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر اس معاملے میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اور کرتے رہیں گے، جس سے اس بات کا امکان پیدا ہو کہ کوئی اور ملک نظمِ عالم پر اجارہ داری میں ان کا شراکت دار بنے یا ان کی طاقت کو چیلنج کر سکے۔ اب اس صورتحال میں جس کو ترقی کرنی اور برابری کا دعوی یا نظمِ عالم میں شراکت داری کا بار اٹھانا ہے اسے اسی نظام میں رہ کر پہلے اس قابل ہونا پڑے گا۔

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے
پھونک ڈالے یہ زمین و آسمان مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے

اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرنے، اس خاکستر سے اپنا جہاں آپ پیدا کرنے، اور پھر غالب اقوام کی برابری کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اپنے آپ کو ترقی دی جائے اور لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدل کے برعکس امن کا وہ موقع حاصل کیا جائے جو اس ترقی کے لیے ضروری ماحول فراہم کرے۔ پھر جب یہ ماحول دستیاب ہو، جیسا کہ ہمیں پچھلے ستر سال سے ہے، تو قائد کے مقرر کردہ اصول کام، کام اور صرف کام پر توجہ دیتے ہوئے اپنی معاشی، عسکری اور علمی استعداد کو دن رات ترقی دی جائے۔ جب دو تین نسلوں تک یہ سلسلہ جاری رہے گا تو پھر وہ موقع بھی آئے گا کہ ایک غالب و ظالم ملک کسی چھوٹے مظلوم ملک پر چڑھ دوڑنے کے درپے ہو تو ہم اسے اپنے زور بازو سے روک سکیں۔

غزہ کے تناظر میں یہ موقع اب آ چکا تھا کہ اقوام غالب اپنے ہی طے کردہ اصولی بنیادوں کو خود ہی برسرعام منہدم کر چکی تھیں، مگر دوسری طرف دنیا میں کوئی متبادل طاقت اس پوزیشن میں نہیں کہ متفقہ انسانی اقدار کے اس انہدام کو بنیاد بنا کر آگے بڑھے اور نظمِ عالم کا انتظام سنبھال لے۔ ہم بھی اپنی آزادی کے ستر سال ضائع کر چکے ہیں اور ہمارے تمام اسلامی ممالک مل کر بھی اس قابل نہیں کہ آگے بڑھ کر اس نظمِ عالم کو تلپٹ کرنے کی دھمکی ہی دے سکیں۔ اس کو تلپٹ کرنا اور اس کے کھنڈرات پر صداقت اور عدالت کا نیا نظام اپنی امامت میں قائم کرنا ابھی دور از کار بات ضرور ہے مگر نا ممکن نہیں۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا

(شعر کی تنگ دامانی آڑے نا آتی تو اقبال اس شعر میں دنیا کی امامت کے لیے بیان کی گئی شرائط میں علم و عمل اور سائنسی ترقی کا ضرور اضافہ فرماتے ) ۔

اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ دنیا کہ امامت کا محور ہماری آنکھوں کے سامنے تبدیل ہو رہا ہے مگر چونکہ عالمی سطح پر ہوئی تبدیلیاں اور قوموں کا عروج و زوال انسانی عمر کے مقابل سست رو ہوتا ہے اس لیے یہ عام آدمی کی آنکھوں سے مخفی رہتا ہے مگر ذرا تدبر سے اس کا ادراک وقت سے پہلے کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر چین نے ہمارے سامنے اپنی خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کر لیا جہاں چینیوں نے نا صرف کام، کام اور صرف کام کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے اپنی دفاعی قوت کو ناقابل تسخیر بنا لیا بلکہ اب وہ چاند پر بھی کمند ڈال چکے ہیں۔ دوسری طرف امریکا کی پوری کوشش ہے کہ چین پر زیادہ سے زیادہ پابندیاں لگا کر اس کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالی جائے اور اس مقصد کے لیے اس نے اپنی تمام کمپنیوں بشمول گوگل، جو اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا مالک ہے، اور اینویڈیا جو مصنوعی ذہانت کے پروسیسر تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے اور انٹل، جس سے سب واقف ہیں، پر چین کے ساتھ تجارت پر پابندی لگا دی ہے۔ اس پابندی کی زد میں آتے ہی چین نے نا صرف اپنا موبائل آپریٹنگ سسٹم اپنی کمپنی ہواوے کی مدد سے تیار کر لیا بلکہ وہ اپنا تیز ترین پروسیسر بھی خود تیار کرنے کے قابل ہو چکا ہے اور پس پردہ وہ اپنے مصنوعی ذہانت کے پروگرام پر تیزی سے عمل پیرا ہیں۔

چین اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں پچھلے چند سالوں سے جاری اس جنگ کی تفصیلات نہایت ہوش ربا ہیں تاہم یہاں نکتہ یہ ہے کہ خود انحصاری کا یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر اگلی چند دہائیوں میں دنیا کی امامت چین کے پاس ہو سکتی ہے۔ امریکہ چاہے گا کہ اسے تائیوان میں الجھا کر اس کی ترقی کو پیچھے دھکیل دے اور اس کے لیے امریکہ ہمہ وقت سرگرم عمل بھی ہے، تاہم چین کی قیادت کو بھی یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ امن کا دورانیہ دراصل ایک نعمت ہے جس کا صحیح استعمال صرف اور صرف اپنی ترقی ہے۔ یہی ترقی وقت آنے پر دنیا کی امامت ان کی جھولی میں یوں گرا دے گی جیسے ایک تیار بیر کے درخت کے نیچے دامن پھیلائے شخص کا دامن اس وقت بیروں سے بھر جاتا ہے جب درخت پر کوئی جنبش آتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں دنیا پر اجارہ داری میں شراکت یا نظمِ عالم کی امامت، بے علمی اور بے عملی کی پاتال میں گری اقوام کا سرے سے حق ہی نہیں ہے چاہے وہ توحید کے علمبردار اور ناموس رسالت کے خود ساختہ محافظ ہی کیوں نا ہوں۔ انھیں اس نظم عالم کو سمجھ کر اور شعوری طور پر اسے ہدف بنا کر علم و عمل میں آگے بڑھنا ہو گا۔ اسی علم و عمل اور سائنس و ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرتے مغرب کو لگ بھگ دو صدیاں لگ گئیں جس کے بعد وہ اس قابل ہوئے کہ مسلمانوں سے دنیا کی امامت چھین لیں۔

لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل

اب مسلمان قوم وہیں کھڑی ہے جہاں سولہویں صدی میں مغرب کھڑا تھا۔ اور ہمارا سفر بھی انھیں خطوط پر آگے بڑھے گا جن پر چل کر مغرب نے عِلم کا عَلم ہمارے نحیف و نزار ہاتھوں سے، صرف دو سے ڈھائی صدیوں میں چھین کر ہمیں اپنی میراث سے محروم کر دیا۔

علم و عمل اور سائنس و ٹیکنالوجی میں تدبر و حکمت کے ساتھ آگے بڑھے بغیر موجودہ نظم عالم میں جو پیشگی اقدام بھی مسلمان کریں گے اس کا نتیجہ خود کشی کے سوا کچھ نہیں، چاہے وہ حماس ہو یا حزب اللہ، چیچنیا کے جانباز ہوں یا کشمیر کے مجاہدین، طالبان ہوں یا حوثی، قذافی و صدام کی حکومتیں ہوں یا ایران کی مجلس شوریٰ۔ مسلمانوں کا کوئی بھی پیشگی اقدام انھیں اس سے بھی محروم کر دے گا جو ابھی ان کے پاس ہے بلکہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ اپنے ہدف سے تھوڑی سی غفلت کے ساتھ غلط اقدام انھیں اپنی منزل سے صدیوں پیچھے دھکیل دے۔

رفتم کہ خار از پا کشم، محمل نہاں شد از نظر
یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ دور راہ ہم شد

( میں نے چاہا کہ جھک کر پاؤں سے کانٹا نکال لوں کہ اتنی دیر میں (لیلیٰ کا ) محمل نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ یوں ایک لمحے کی غفلت نے مجھے اپنی منزل سے سو سال دور کر دیا) ۔

اور آخری بات کہ اگر آج مسلمان اس ہدف کو پہچان اور موجودہ حالات کو جان کر اپنی سمت درست کر لیں تو انھیں منزل تک پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟

اس کا جواب بھی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہو سکتا ہے۔ ہم زیادہ پیچھے نہیں جاتے، صرف پچھلے ایک ہزار سال کا سرسری جائزہ ہی کافی ہے۔ مثال کے طور پر ترکوں کو سلطنت عثمانیہ کو عروج تک پہنچانے اور دنیا کی امامت حاصل کرنے میں لگ بھگ تین سو سال لگے۔ پھر اس کے بعد اہل مغرب کو علم و عمل کا علم تھام کر چلتے اور دنیا پر حکمرانی حاصل کرنے میں دو سو سال لگے جن میں پچاس سال اور اضافہ کچھ یوں ہو گیا کہ وہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں آپس میں ہی لڑ پڑے اور اپنی ترقی کو معکوس کر دیا۔

مگر اب پچھلی ایک صدی میں ذرائع نقل و حمل اور علم کی ایک جگہ سے دوسری جگہ تیزی سے منتقلی نے اس سفر کو مزید مختصر کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر چین جسے انھی سہولتوں (ذرائع آمدو رفت اور علم کی ایک جگہ سے دوسری جگہ تیزی سے منتقلی اور دستیابی ) کی بدولت صرف ستر سال کا عرصہ لگا اور وہ بس موقع کے انتظار میں اپنی بھرپور تیاری کے ساتھ نظریں دروازے پر لگائے ہوئے ہے۔ چینیوں کے مفاد پر جب کبھی کوئی کاری ضرب لگی وہ آگے بڑھ کا نظمِ عالم اپنے ہاتھ میں لینے میں تامل نہیں کریں گے۔

موجودہ زمانے میں جو قومیں دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہی ہیں، اور میرا اشارہ مسلمانوں کی طرف ہے، انھیں اب علم کی ہمہ وقت دستیابی اور ذرائع نقل و حمل میں بہتری کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت میں ترقی کی بدولت ستر سال سے بھی کم عرصہ لگے گا۔ میرے اندازے میں یہ مدت شاید تیس یا چالیس سال تک کم ہو سکے مگر اس کے لیے اپنی سمت درست کرنا ہو گی ورنہ ستر سال اور بھی دنیا پر بیت جائیں، ہماری حیثیت اقوام متحدہ کی ڈائس پر ”بادشاہ ننگا ہے“ کے نعرے مار لینے کے سوا کچھ نہیں ہو گی اور دنیا کے مختلف خطوں میں ظلم کی چکی میں پستے مسلمان اپنے انفرادی اقدامات کی بدولت اپنے سے بڑی طاقتوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہوتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS