بیس منٹ تک دیکھنے سے پیدا ہونے والی ”ہلچل“ کا دورانیہ اتنا کم کیوں ہوتا ہے؟
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک ٹی وی پروگرام میں بہت زبردست انکشاف کیا ہے، ان کے مطابق ”کوئی بھی شخص کسی خاتون کو 20 منٹ تک غور سے دیکھتا ہے تو لازمی طور پر اس کے وجود میں کوئی ہلچل یا گندا خیال ضرور پیدا ہو گا، اگر ایسا نہیں ہوتا تو اسے کسی ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے“
شنید ہے کہ ڈاکٹر نائیک میڈیکل ڈاکٹر بھی ہیں، ممکن ہے انہوں نے یہ انکشاف اپنی میڈیکل کی تحقیق و مشاہدے کی بنیاد پر کیا ہو، لیکن ہمارا ایک عاجزانہ سا سوال ہے کہ یورپ کے ساحلوں پر لیٹی بے لباس خواتین کے متعلق کیا خیال ہے جو خود کو وہاں سب سے زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں؟ وہاں ہزاروں مرد اور خواتین بے لباس ہو کر انتہائی پُرسکون ماحول میں لیٹے ہوتے ہیں کوئی چند سیکنڈ کے لیے بھی پلٹ کر دیکھنا گوارا نہیں کرتا، سوال یہ ہے کہ انہوں نے اخلاقیات کے کون سے ایسے پاٹھ پڑھ رکھے ہیں کہ جن میں ”دستیابی“ کے باوجود بھی ہلچل پیدا نہیں ہوتی؟
غیر مذہب، آ زاد اور سیکولر اقدار والے ممالک کے در و دیوار پر نامردانگی یا جنسی کمزوری کے اشتہارات چسپاں کیوں نہیں ہوتے؟ ہمارے ہاں جنسی بیماروں کی بہتات کیوں ہے؟ یہاں جنسی ٹائمنگ بڑھانے والی ادویات علی الاعلان کیوں فروخت ہوتی ہیں؟ ہم ایسے مذہبی سماج میں اس قسم کے جنسی اشتہا پر مبنی اشتہارات کی بھرمار کیوں ہے؟ حالانکہ ہمارے ہاں تو نفسانی و دنیاوی بیماریوں کا روحانی علاج بھی شرطیہ کیا جاتا ہے اور لاکھوں روحانی سالکین دن رات ذکر و فکر میں مشغول رہتے ہیں اور روحانی مرشدین ان کے دلوں کو دنیاوی و جنسی لذتوں یا کشش سے پاک کرنے کے لیے سلوک کی منازل طے کرواتے ہیں۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی نفس مطمئنہ کی منزل ہم سے کوسوں دور کیوں رہ جاتی ہے؟ اور نفس امارہ کی غلاظت کے دائرے سے ہم باہر کیوں نہیں نکل پاتے؟
ڈاکٹر نائیک نے چونکہ میڈیکل فیلڈ کو ترجیح دینے کی بجائے اپنے لیے مذہبی میدان کا چناؤ کیا ہے تو ان سے پوچھنا تو بنتا ہے نا کہ اتنے سارے روحانی و اخلاقی اور مذہبی بندوبست کے باوجود بھی ہم اتنے پاکیزہ و نیک کیوں نہیں بن پائے کہ ایک خاتون ہماری چھتر چھایا میں عافیت محسوس نہیں کر پاتی اور ہمارے وجود میں منفی سرسراہٹ یا ہلچل پیدا ہوتی ہے؟ خواتین کا وجود ہمارے لیے ہی مسئلہ کیوں بنا ہوا ہے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں تو خواتین و مرد مختلف فیلڈ میں شانہ بشانہ کام کرتے ہیں اور مخلوط بندوبست کے تحت اپنے اپنے کیریئر میں مگن رہتے ہیں۔
اگر ڈاکٹر نائیک کی 20 منٹ والی تھیوری کو وہاں اپلائی کیا جائے پھر تو ہلچل کے بجائے زلزلہ آ جانا چاہیے تھا؟ لیکن ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ وہ معاشرے تو خواتین اور مردوں کے شانہ بشانہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں اور حیرت کی بات ہے کہ وہاں اس قسم کی باتیں یا مسائل ہی نہیں ہیں۔ دراصل وہ سیکھ چکے ہیں کہ نجی اور پروفیشنل لائف کے تقاضے کیا ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی حدود کا احترام کیسے کیا جاتا ہے، انفرادیت اور پرسنل سپیس کو آج کی دنیا میں ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ پروفیشنل لائف کے تقاضے کیا ہوتے ہیں اور وہ اسی پروٹوکول کے ساتھ اپنی اپنی کاروباری ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
اب ڈاکٹر نائیک نے انتہائی معصومیت کے ساتھ جو اپنی ہلچل تھیوری پیش کی ہے اس کا ہدف کون ہو سکتے ہیں؟ مغرب یا اہل کفار کا تو یہ مسئلہ ہی نہیں ہے اور نا ہی انہوں نے کبھی اس طرح کی تھیوریز پیش کی ہیں تو پھر اس طرح کے عجیب سے مسئلے یا مخمصے کا شکار کون ہو سکتے ہیں؟ ظاہر ہے وہی ہوں گے نا جن کا نام پورن ویب سائٹ دیکھنے والوں میں سر فہرست ہے، گوگل بادشاہ پر سرچ کر کے فہرست نکال لیں، مسلم ممالک فحش مواد دیکھنے والوں میں ٹاپ پر جا رہے ہیں۔
جب ذہن کے نہاں خانوں میں حسین و جمیل حوریں اور غلمان بسے ہوئے ہوں گے تو پھر خواتین کو دیکھ کر ہلچل ہی پیدا ہو گی، تشنہ اور پوری نہ ہونے والی خواہشات ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتی ہیں اور ہلچل والی بیماری کا شکار وہی قومیں ہوتی ہیں جو نفسیاتی و ذہنی عارضوں کا شکار ہوتی ہیں یا جن کی نظر میں خواتین کی حیثیت جنسی مشین سے زیادہ نہیں ہوتی۔
ورنہ تو خواتین کے کئی روپ ہوتے ہیں، ماں، بہن، بیٹی اور بہو کے روپ میں اور مختلف رشتوں کی صورت میں ہر گھر میں موجود ہوتی ہیں اور ان کے جسم پر وہی اعضاء لگے ہوتے ہیں جو ہماری بہو بیٹی کے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کا ذہن خواتین کے نارمل ریلیشن کے دوران بھی بے راہ روی یا زور زبردستی کی طرف مائل ہوتا ہے تو وہ ذہنی طور پر بیمار ہوتا ہے، اس قسم کے شخص کو انسانوں سے الگ کر کے اس کا نفسیاتی علاج کروایا جاتا ہے۔
ہلچل تھیوری کی بجائے ڈاکٹر نائیک کو اس نقطے پر غور کرنا چاہیے تھا کہ 20 منٹ تک دیکھنے کے بعد پیدا ہونے والی ہلچل کا دورانیہ اتنا کم کیوں ہوتا ہے؟ میڈیکل ڈاکٹر ہیں ممکن ہے ان کے پاس اس کا کوئی حل موجود ہو۔


