ہم ایک ہزار برس سے تاریخ کے دسترخوان پر ۔ ۔ ۔
یہاں مسئلہ کسی ایک انسان کا نہیں ہے۔ جون ایلیا نے اپنے مضامین میں انسان کے عالمی تصور کو مخاطب کیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مجموعی طور پر انسان نے اپنے رویے اور معیارات میں ترقی نہیں کی۔ دنیا کی مادی تاریخ انسان کے رویوں سے جنم لیتی ہے اور ترقی کی راہوں کا تعین اس کے معیارات کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ کہانی ہزاروں برس پہلے سے شروع ہوتی ہے لیکن آگے نہیں بڑھتی۔
یہاں میں پروٹاگورس کا ذکر کرنا چاہوں گا، جو انسانی تہذیبی اور فکری ارتقا میں اب تک گونجنے والی آوازوں میں سے ایک آواز ہیں۔ ان کے تجربے نے ایک وکیل کے طور پر انھیں ایک بنیادی اصول سکھایا کہ ہر دلیل کے دو رخ ہوتے ہیں، اور دونوں میں یکساں اعتبار ہو سکتا ہے۔ انھوں نے عقیدے کے تصور میں سبجیکٹیوٹی کا تصور متعارف کرایا۔ اس کی مثال دینے کے لیے انھوں نے یہ جملہ تخلیق کیا کہ ”انسان ہر چیز کا پیمانہ ہے۔“
چونکہ ان کا خیال تھا کہ ہر چیز آپ کے انفرادی نقطہ نظر پر منحصر ہے، اس لیے پروٹاگورس سمجھتے تھے کہ مطلق سچائی ناقابل حصول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس چیز کو ایک شخص سچ سمجھتا ہے، دوسرا اسے جھوٹا مانتا ہے۔ پروٹاگورس کا یہ بھی خیال تھا کہ یہ اختلاف اچھائی اور برائی کے سوالات میں موجود ہے۔ ان کے افکار سے نیکی اور بدی کے تصور کو وسعت ملی جو آنے والے دور میں نظریہ سازی اور قانون سازی کے لیے اہم تصور کی گئی۔
حضور ایک ہزار برس سے ہم جو بنیادی باتیں نہیں سیکھ سکے ان میں رائے قائم کرنا اور اختلاف رائے کو پیش کرنا بھی شامل ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے آپ ایک تجربہ کیجیے۔ کسی بھی قومی مسئلے کے حوالے سے لوگوں کی رائے لیجیے۔ Sampling کچھ ایسے کیجے کہ دکاندار، پھیری والے، مزدور یا کسی موٹر مکینک سے سوال کیجے اور وہی سوال کسی ڈاکٹر، انجینئر یا پروفیسر صاحب سے کیجیے۔ حیرت انگیز طور پر جو جواب موٹر مکینک یا پھیری والے سے ملے گا اسی نوعیت کا جواب ڈاکٹر یا انجینئر صاحب سے بھی ملے گا۔ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بات کا معیار بھی دونوں کا کم و بیش ایک ہی جیسا ہو گا۔
ہم بھلے معاشی مساوات کا قیام ممکن نہ بنا سکے ہوں لیکن ذہنی مساوات کا یہ معجزہ ہم نے محمود و ایاز کو ایک صف میں کھڑا کر کے کر دکھایا ہے۔ اس معجزے کے پیچھے سوچنے کا ایک جیسا پراسس اور رائے قائم کرنے کا ایک ہی جیسا طریقہ کار فرما ہے۔ اندازہ کیجے آپ ایسے معاشرے سے تخلیقی اور تحقیقی انقلاب کی توقع رکھ رہے ہیں جس میں سوچنے اور فکر کرنے کے پراسس میں آج تک کوئی بڑی تبدیلی پیدا نہیں کی جا سکی۔ یہ اس معاشرے کا ذکر ہو رہا ہے جہاں ہر چوک میں ایک سائنس کالج یا سائنس اکیڈمی اور سکول موجود ہے۔
مجھے سائنسی سکول سے تھیلس یاد آ گئے۔ 624 قبل مسیح، ملیٹس میں پیدا ہونے والے مونسٹ تھیلس جو اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کائنات کی تعمیر کیسے ہوئی۔ ان کی یہ کھوج مابعد الطبیعیات کی فلسفیانہ شاخ تھی۔ انھوں نے ایک عنصر کو کائنات کا بنیادی تعمیراتی بلاک سمجھا۔ آفرینش کائنات کے حوالے سے پائے جانے والے جدید نظریات کی داغ بیل اسی زمانے میں ڈال دی گئی تھی اور قدرت کی تفہیم، اس سے رابطہ قائم کرنے اور اسے تسخیر کرنے کی فکر اسی زمانے پیدا ہوئی۔ لیکن کہانی کہیں رک گئی۔
سائنسی اداروں سے سب سے پہلی چیز جو ہم نے حاصل کرنا تھی وہ سائنسی رویہ تھا۔ سوچنے کا سائنسی انداز۔ آپ کبھی غور کیجیے گا کہ ہم اپنے معاشی، معاشرتی یا انتظامی مسائل حل کرنے کے لیے کتنا سائنسی رویہ اپناتے ہیں؟ ہمارے مباحث میں منطق، دلیل یا مشاہدے اور تجربے کو کس حد تک دخل حاصل ہوتا ہے؟ ہمارے گھر اور خاندان کے معاملات و مسائل پر سائنسی علوم کی کوئی چھینٹ بھی پڑتی نظر نہیں آتی۔
ہر گلی محلے میں قائم سائنسی ادارے میں Scientific Behavior کے سوا بہت کچھ مل جاتا ہے۔ کہانی اب بھی آگے بڑھتی نظر نہیں آر ہی۔ سارا ہجوم کائنات کے محض ارتقا کا حصہ بننے پر راضی نظر آتا ہے اور ہم ایک ہزار برس سے تاریخ کے دسترخوان پر ۔ ۔ ۔


