جذبات کا اشتعال: وجہ عورت یا لاقانونیت
مذہبی طبقے کی جانب سے جنسی بے راہ روی اور جنسی ہیجان کا ذمہ دار اکثر عورت کو قرار دیا جاتا ہے اور اس پر تو گویا مذہبی طبقے کا ایمان ہے کہ عورت کو اگر سات پردوں میں نہ رکھا گیا تو پھر مرد کے جذبات بھڑکنا فطری ہے اور پھر مرد مجبور ہو کر عورت کا ریپ بھی کر دے تو بھی قصور وار عورت ہی ہوگی کیوں کہ اس نے مرد کے جذبات کو بھڑکایا، لیکن عملی زندگی میں ہم اس سے متضاد صورتحال دیکھتے ہیں۔ ایک جانب تو مخلوط معاشروں میں جنسی جرائم کی شرح انتہائی کم ہے، تو دوسری جانب مدارس کے انتہائی ایمان افروز ماحول کے اندر پیڈوفیلیا کے واقعات بھی اس بات کی چغلی کھا رہے ہیں کہ وجہ کچھ اور ہے۔
میں نے گزشتہ سالوں میں کئی ایسے اداروں میں کام کیا ہے، جہاں خواتین کی معقول تعداد بھی موجود ہوتی تھی، ایک ادارہ ایسا بھی تھا، جہاں ہمارے روم کے ساتھ ہی اسٹوڈیو موجود تھا اور وہاں ماڈلز کا آنا جانا لگا رہتا تھا، جن سے ٹاکرا عام بات تھی، ماڈلز کے لباس کے بارے میں بیان کرنا ضروری نہیں سمجھتا، کیوں کہ یہ ہر شخص جانتا ہے کہ ماڈلز کے لباس کیسے ہوتے ہیں، لیکن مجھ سمیت کسی کولیگ کے جذبات میں ایسی ہلچل دیکھنے میں نہیں آئی کہ ریپ کرنا تو دور کسی نے کسی لڑکی کو گھورا بھی ہو، غریب، مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے تمام نفسیات کے مرد وہاں موجود تھے، لیکن کسی کے جذبات نہیں بھڑکے، یہاں تک کہ ایک مولانا صاحب بھی ہمارے کولیگ تھے جن کا خیال ہے کہ عورت کو غیر مناسب لباس میں دیکھ کر جذبات بھڑکنا فرض عین ہے، لیکن میں نے کبھی ان کے جذبات کو بھی بھڑکتے نہیں دیکھا۔
اس سے قبل میں ایک ادارے سے بطور پروڈیوسر وابستہ تھا، وہاں دو اینکرز میرے عملے میں شامل تھیں، جن سے پروگرام ریکارڈ کروانا میری ذمہ داری تھی اور پروگرام ریکارڈنگ کے وقت تو روم میں اینکر میرے ساتھ تنہا ہوتی تھی، جن میں سے ایک اینکر انتہائی خوبصورت بھی تھی، میرے علاوہ وہاں 10 سے زائد مزید مرد بھی عملے کا حصہ تھے، لیکن کبھی کسی کے جذبات نہیں بھڑکے اور نہ ہی کبھی کوئی شکایت سننے میں آئی، جس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ قانون کی بالادستی اور فوری سزا کا خوف تھا۔
میں نے جن اداروں میں کام کیا، وہاں یہ قانون ہے کہ جنسی ہراسمنٹ پر ملازمت سے بے دخل کر دیا جاتا ہے، میری نظر میں شاید یہ واحد وجہ تھی کہ جس نے بشمول مولانا صاحب تمام اقسام کے مردوں کے جنسی فیوز اڑا کر رکھ دیے تھے، اور ملازمت سے محرومی کے خوف نے خواتین کی عریانیت کے باوجود مردوں کے جذبات کو کنٹرول کیا ہوا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ خواتین کی عریانیت کا نہیں ہے، بلکہ قانون کی بالادستی ہے، اس کی تصدیق سابق وفاقی محتسب برائے ہراسانی کشمالہ طارق کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا ”زیادہ تر شکایات سرکاری اداروں سے سامنے آئی ہیں کیونکہ سرکاری سطح پر نوکری چھوٹنے کا خوف نہیں ہوتا۔ تاہم بعض نجی اداروں سے بھی ہراسانی کے مقدمات دائر کیے گئے ہیں“ ۔
کشمالہ طارق صاحبہ کے اس بیان سے بھی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نجی اداروں میں چونکہ عموماً فوری کارروائی ہوتی ہے اور کسی لمبے چوڑے پراسس کے بغیر ملزم کو نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے، یہ ایسا خوف ہے کہ جو ملازمین کے جذبات کو کنٹرول میں رکھتا ہے، جبکہ سرکاری اداروں میں چونکہ برطرفیاں نہیں ہوتیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ سزا عہدے سے معطل کی صورت میں دی جاتی ہے، اس صورت میں سرکاری ملازم کو تنخواہ مل رہی ہے اور نوکری بھی محفوظ ہوتی ہے، تھوڑی سی انکوائری بھگتنے کے بعد سرکاری ملازم دوبارہ اپنے عہدے پر بحال ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے سرکاری ملازم کو سزا کا ڈر یا خوف نسبتاً کم ہوتا ہے، اس لیے سرکاری ملازم کے جذبات زیادہ بھڑکتے ہیں۔
اس اصول کا عملی اطلاق ہم مدارس میں بھی دیکھتے ہیں، مذہبی طبقے کے دلائل کی روشنی میں تو مدارس میں ایسی پاکیزہ روحوں کا بسیرا ہونا چاہیے کہ وہاں کسی کو جنسی خیال چھو کر بھی نہ گزرے، لیکن عملی صورتحال بالکل الٹ ہے، آئے دن کسی نہ کسی مدرسے سے پیڈوفیلیا کا کیس سامنے آ جاتا ہے، اور یہ اس کے باوجود ہے کہ مدارس میں سخت نظم و ضبط سے کام لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اندر کی خبر کا باہر جانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود پھر بھی کیس رپورٹ ہو جاتے ہیں، اگر مدارس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ مانیٹرنگ کی جائے تو صورتحال موجودہ سے زیادہ خوفناک بھی ہو سکتی ہے۔
اگر آپ غور کریں تو مدارس میں پیڈوفیلیا کے پیچھے بھی آپ کو لاقانونیت کا جواز ملے گا، کیوں کہ جیسے ہی کسی مدرسے سے پیڈوفیلیا کا کیس رپورٹ ہوتا ہے تو سینکڑوں، ہزاروں لوگ اس کو مسجد و مدرسہ اور اسلام پر حملہ قرار دے کر اس کا دفاع کرنا شروع کر دیتے ہیں، یہ تجربات میں اپنی فیس بک پر کافی بھگت چکا ہوں، میں نے جب بھی مدرسے میں پیڈوفیلیا کی خبر اپنی فیس بک پر لگائی تو کسی بھی مذہبی شخص نے اس کی غیرمشروط مذمت نہیں کی، بلکہ مجھے مساجد، مدارس اور اسلام پر حملہ آور قرار دیا، جس کا نتیجہ جو نکل رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
جب پیڈوفیلیا میں ملوث مولوی یہ دیکھتا ہے کہ اس کے دفاع کے لیے سیکڑوں ہزاروں کارندے مفت میں موجود ہیں، اس کو اسلام کے نام پر تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے تو وہ مزید دلیر ہو جاتا ہے، اور یوں مدارس میں بچوں کے ساتھ بدفعلی کا ایک سلسلہ ہے، جو رکنے کا نام نہیں لے رہا، جس کی مثال ماضی قریب میں معصوم بچے سے جنسی زیادتی کی کوشش میں گرفتار ہونے والے مولوی ابوبکر معاویہ کی ہے، جس کی گرفتاری کے فوری بعد سربراہ جمعیت اہل حدیث ابتسام الہیٰ ظہیر کی سربراہی میں مذہبی طبقہ حرکت میں آیا اور مدعی کو ڈرا دھمکا کر ایف آئی آر واپس کروا دی، اگر مولوی صاحب بے گناہ تھے تو قانونی تقاضے پورے کیوں نہیں کرنے دیے گئے؟ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجاتا، کیوں مدعی سے صلح نامہ کر کے کیس واپس کرایا گیا، تو جب اس سطح سے پیڈوفیلیا میں ملوث افراد کی سرپرستی کی جائے گی تو قانون کا ڈر کیسے پیدا ہو گا اور کیسے پیڈوفیلیا ختم ہو گا۔


