ڈاکٹر ذاکر نائیک کی پاکستان آمد نے کیا سوالات کھڑے کر دیے؟
متنازعہ امور کے حوالے سے عالمگیر اور اسلام کی خدمت کے حوالے سے بین المسلمین شہرت پانے والے ممتاز مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے دورہ پاکستان کے موضوع پر بڑی شد و مد سے سنجیدہ و غیر سنجیدہ حلقوں میں بحث جاری ہے کہ ان کو پاکستان آنا چاہیے تھا یا نہیں؟
کچھ یاران غار کے بقول سننے میں آیا کہ ڈاکٹر صاحب کو سرکار نے اپنا خاص مہمان بنا کر دورہ پاکستان کا اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ موصوف کی پاکستان آمد سے قبل ہی بعض مقامی اور فقہی اختلاف رکھنے والے علماء کی جانب سے ان کی پاکستان آمد کی مخالفت کی گئی۔ کیونکہ ان کی انا کو منظور نہیں تھا کہ سرکاری سرپرستی میں غیر مقلد ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان آ کر چھا جائیں۔
لیکن ان کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں کے بہ مصداق ڈاکٹر صاحب کی شخصیت دور سے بڑی کرشماتی لگتی تھی۔ پاس آ کر لگا کہ ڈاکٹر صاحب تو تحمل بردباری اور برداشت کے حوالے سے دوسرے مسلمان علماء کی طرح ہی ہیں۔ یہ بات اس وقت پتہ چلی جب موصوف صحیح طرح ابھی پاکستان پہنچے بھی نہ تھے کہ پی آئی اے کے عملے سے اپنا بھاری بھرکم سامان لانے پر چھوٹ مانگتے ہوئے الجھ پڑے۔ کہتے ہیں کہ مذکورہ عالمی شہرت یافتہ اسلامی سکالر ایک ہزار کلو سامان مفت میں لانا چاہتے تھے۔ حالانکہ عام مسافر تیس کلو تک سامان مفت لا سکتا ہے۔ پی آئی اے نے ان کو پانچ سو کلو سامان مفت لانے کی پیشکش کی۔ لیکن وہ بضد تھے کہ سارا سامان فری ڈلیور کیا جائے کوئی کرایہ نہیں دینا۔ یاد رہے موصوف کروڑوں پاونڈز اثاثوں کے مالک ہیں۔
ایک مجمع میں ایک پختون لڑکی پلوشہ مروت نے اپنے علاقے میں پائی جانے والی اخلاقی بیماریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ ہمارا معاشرہ مکمل اسلامی اور مذہبی ہے وہاں عورتیں بلا ضرورت گھر سے نہیں نکلتی۔ مرد کوئی نماز قضاء نہیں کرتے۔ حال ہی میں یہاں تبلیغی اجتماع بھی منعقد ہوا۔ لوگوں نے اس میں بڑے جذبے سے شرکت کی۔ لیکن ان تمام اچھائیوں کے باوجود ہمارے معاشرے میں زنا اور بچوں کے ساتھ بدفعلی وغیرہ جیسے سنگین جرائم عام ہیں سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟
اس سوال پر کیمرے کی آنکھ نے دکھایا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک اچانک ہائپر ہو گئے اور انہوں نے لگے ہاتھوں سوال کرنے والی لڑکی کے سوال کو ہی غلط قرار دے کر اس کو توبہ کرنے کو کہا پھر اس کے سوال کو کاؤنٹر کرنے لگے۔ موصوف نے کہا کہ بلاوجہ تو میں بھی باہر نہیں نکلتا پھر مجمع کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں کہ کیا آپ بلا وجہ گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ حالانکہ ان کو پاکستانیوں کی عادت کا ذرا بھی پتہ نہیں ہے کہ پاکستانی تو بلاوجہ گھر نکلنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ بلکہ فخریہ دوستوں سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ چلیں بازار کا ایک چکر لگا آتے ہیں۔ مرحوم علامہ اقبال کے بقول "بازار میں پھرا ہوں خریدار نہیں ہوں”۔
ڈاکٹر صاحب کا یہ رویہ عام ناظرین و سامعین کو بالکل غیر علمی اور ناشائستہ لگا۔ ہونا تو چاہیے تھا کہ اگر سوال غلط تھا تو بھی داعی کا کام تھا اس کے سوال کو سمجھ کر اس کی اصلاح کرتا اور اسی تناظر میں بڑی متانت اور سکون کے ساتھ جواب دیتا۔ حالانکہ کوئی سوال بنفسہ غلط نہیں ہوتا۔ ہاں جواب غلط ہو سکتا ہے۔
ایسا نہیں کہ لڑکی نے کوئی بہت مغلق قسم کا فلسفیانہ سوال پوچھ لیا۔ اس معصومانہ سوال کا جواب تو کوئی بھی عام آدمی دے سکتا تھا۔ پتہ نہیں ڈاکٹر صاحب کیوں ان پر برس پڑے شاید اس کا سوال غیر متوقع تھا۔ اب ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ہر سوال پہلے سے لکھ کر آپ کو بھیجا جائے۔ کیونکہ یہ آپ کے پیس ٹی وی کا کوئی پلانٹیڈ پروگرام تو تھا نہیں۔ یہ تو رئیل ٹائم لائیو اور کھلا مجمع تھا۔ جہاں آپ کو ہر طرح کے سوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آپ کی تیاری ہونی چاہیے۔ پڑھے لکھے دانشمند اور تنقیدی سوچ رکھنے والے لوگوں کے تیز و تند سوالات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ آخر آپ ایک معمولی انسان نہیں۔ بلکہ عالمی پایہ کے مایہ ناز خطیب اور مقرر ہیں جن کی اپنی علمیت پر گہری گرفت ہے۔
لیکن افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس معاملہ کو مس ہینڈل کیا۔ جس کی وجہ سے ان کی شخصیت پر سوالات اٹھے۔ ایک سوال تو یہ بھی ہے کہ اتنے حساس وقت میں مذکورہ شخصیت کو سرکاری طور پر مہمان بنانے کی کیا ضرورت پیش آئی۔ کچھ ذرائع کہتے ہیں کہ بعض جینوئن مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے اس پروگرام کو لانچ کیا گیا۔
موصوف کے رویے سے نرگسیت صاف محسوس ہوتی ہے۔ ابھی ایک مشہور پاکستانی یوٹیوبر کے حالیہ بیان کو لے کر موصوف سخت غصے میں ہیں کہ انہیں شاہ رخ خان اور ویرات کوہلی سے کیوں ملایا گیا۔ حالانکہ مذکورہ اشخاص ڈاکٹر صاحب سے زیادہ بڑی سلیبرٹیز ہیں۔
بات یہ ہے کہ پاکستان کے سنجیدہ اور علمی ذوق رکھنے والے لوگ ان کی پاکستان آمد کے مابعد اثرات سے بڑے مایوس ہیں۔ کیونکہ ان کو ڈاکٹر صاحب بھی دیگر مجمع بازوں سے زیادہ مختلف نہیں لگے جو اپنی پسند کے سوالات کا جواب دینے پر خوش ہوتے ہیں ورنہ تذلیل کر کے چھوڑیں گے۔ کچھ لوگ ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب پر تنقید کو لبرل اور مذہب بیزار لوگوں کی دلی خواہش اور پرانا وتیرہ قرار دے کر تنقید کو چیلنج کر کے اس کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب خود کے تخلیق کردہ تنازعات کی زد میں ہیں اور یہ اس میں ان کی اپنی محنت شامل ہے۔ کسی اور کا کوئی دوش نہیں مثلاً منی لانڈرنگ اور فارن فنڈنگ کے حوالے سے ان کے ملٹی ملین پاونڈز اثاثوں پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ ان کے اجتماعات کو پہلے سے طے شدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جن میں وہ من پسند سوالات کا جواب دیتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کے حوالے سے ان کے موقف اور نظریہ کو بھی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کے عقائد کی تذلیل کرتے ہیں۔
اس وقت پڑھے لکھے پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد یوٹیوب سے ارننگ کر کے اپنا گھر بار چلا رہی ہے کہ جھٹ سے ڈاکٹر صاحب نے تازہ ترین بیان داغ دیا کہ یوٹیوب سے کمائی حرام ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کی کہ اس نادر شاہی حکم کی زد میں بہت سے اپنے علماء بھی آئیں گے آخری اطلاعات آنے تک بہت سے علماء اور مفتیان کرام ڈاکٹر صاحب کے فتوے کو رد کر کے نکار بھی چکے ہیں۔ کیونکہ یہ علماء خود یوٹیوب سے ماہانہ لاکھوں روپے اٹھاتے ہیں۔ اب بھلا یہ لوگ ڈاکٹر صاحب کے بلا تحقیق فتوے کی وجہ سے مفت آتے پیسے کیوں چھوڑیں۔ تب انہوں نے ایکشن لیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کے فتوے کو ریجکٹ کر دیا۔
سوال یہ ہے اس نازک صورتحال میں اس بے بصیرت بندے کو بلانا ضروری تھا؟


