پاکستان میں شنگھائی تعاون کی تنظیم کا اجلاس
شنگھائی تعاون کی تنظیم کا سربراہی اجلاس اپنے شیڈول کے مطابق 15 سے 16 اکتوبر کو پاکستان کے خوبصورت شہر اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس اجلاس کے اغراض و مقاصد اور اس میں زیر بحث آنے والے مختلف پہلوؤں پر بات کرنے سے پہلے ہم اپنے قارئین سے اس تنظیم کا مختصر تعارف کرائے دیتے ہیں۔
شنگھائی تعاون کی تنظیم ایک بین الحکومتی تنظیم ہے جو یوریشیا (یورپ کا کچھ حصہ اور ایشا) میں اقتصادی، سیاسی، دفاعی اور سلامتی کے مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے باہمی گفت و شنید سے انہیں حل کرنے پر زور دیتی ہے۔ بنیادی طور پر اس تنظیم کی قیادت ریاست کے سربراہان اور حکومتی سربراہان کرتے ہیں۔ ہر سال کونسل کا سربراہ تبدیل ہوتا ہے اور اس سال کونسل کی گردشی سربراہی پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے پاس ہے۔
اس تنظیم کے 9 مستقل ممبر ہیں جن میں روس، چین، پاکستان، انڈیا، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ تین مبصر ریاستیں جن میں افغانستان، بیلاروس اور منگولیا شامل ہیں اور چھ ڈائیلاگ پارٹنرز بھی ہیں جن میں آرمینیا، آذربائیجان، کمبوڈیا، نیپال، ترکی اور سری لنکا شامل ہیں۔ اگر مستقبل میں مستقل ممبرز کو بڑھایا گیا تو پہلے مبصر ممبر اس تنظیم کا رکن بننے کا حق رکھتے ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک کے بہت سے سربراہان شرکت کریں گے۔ ان میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، چین کے صدر ژی جن پنگ، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف (جو کہ میزبانی بھی کر رہے ہیں ) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ SCO کے رکن ممالک کے راہنما بھی شرکت کر رہے ہیں جن میں قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور ایران شامل ہیں۔
اس اجلاس میں ہندوستان کی نمائندگی ان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کریں گے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں ایس جے شنکر بین الاقوامی میڈیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور پر امن انڈیا جیسے نعروں پر زیادہ زور دیں گے جس میں مودی کی امیج بلڈنگ کرنے والا میڈیا ان کا بھرپور ساتھ دے گا۔ میرے خیال میں بھارتی وزیر خارجہ اس موقع پر انڈیا پاکستان کے باہمی تعلقات پر بات کرنے سے گریز کریں گے۔
سرسبز اسلام آباد میں ایس سی او کے ہونے والے کثیر الجہتی اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے، علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کے لیے رکن ممالک کے رہنما اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس سربراہی اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے اہم مسائل کے علاوہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔ خصوصی طور پر خطے میں استحکام، اس استحکام کو قائم رکھنے کے لیے سیکیورٹی تعاون اور ماحولیاتی نقصانات کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔
اس اجلاس میں دو باتیں کیمرے کی زد میں ہمہ وقت رہیں گی ایک انڈین فارن منسٹر مسٹر جے شنکر کی پاکستان آمد اور دوسرے اجلاس سے پہلے مختلف سربراہی ملاقاتیں۔ سربراہی ملاقاتوں کے علاوہ وزارتی اور اعلیٰ حکام کی میٹنگیں بھی اہمیت کی حامل ہوں گی جن میں انسانی فلاحی منصوبے، سماجی و ثقافتی تعلقات جیسے موضوعات توجہ کا مرکز ہوں گے ۔
اس کے علاوہ اس اجلاس میں سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنا، رکن ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون کو بڑھانا، تجارت اور سرمایہ کاری کے اقدامات سمیت اقتصادی تعاون پر زور دینا، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے پر توجہ دینا، پائیدار امن کے لئے کثیر الجہتی مکالمے کو فروغ دینا اور خطے میں جاری تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے جیسے موضوعات پر گفتگو کرنا بھی شامل ہو گا۔
اس اجلاس کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے حالیہ جاری مالی، سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی مسائل کے حوالے سے یہ اجلاس بہت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کا معاشی مستقبل اس اجلاس کی کامیابی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگر پاکستان اس اجلاس کی بہترین انداز میں میزبانی کر لیتا ہے تو پھر وہ اپنے آپ کو BRICS کی ممبر شپ سے زیادہ دور نہیں دیکھ رہا۔ شنگھائی تعاون کی تنظیم کے اس اجلاس کی کامیابی اور پھر BRICS کی رکنیت ہمیشہ کے لیے پاکستان کی ریجنل جیو اسٹریٹجی اور معاشی ترقی کی سمت درست کر دے گی۔


