پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا زوال
1877 میں ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز ہوا۔ اور پاکستان میں اس کا اختتام 2024 میں ہو گیا ہے۔ اختتام اس معنی میں کہہ رہا ہوں کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کبھی بنگلہ دیش سے میچ نہیں ہارا تھا۔ لیکن اس سال بنگلہ دیش کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور دو میچوں کی سیریز بنگلہ دیش نے دو صفر سے اپنے نام کی۔ خاص بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش نے پاکستان کو پاکستان کے اندر شکست سے دو چار کیا ہے۔
اسی طرح سے گزشتہ ہفتے پاکستان نے ایک اور عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔ کرکٹ کی 147 سالہ تاریخ میں کوئی بھی ٹیم 550 سے زیادہ اسکور کرنے کے بعد اننگز کی شکست سے دو چار نہیں ہوئی۔ لیکن پاکستان کے 556 رنز کے جواب میں انگلینڈ نے 823 / 7 کھلاڑیوں کے نقصان پر ڈکلیئر کر دی اور پاکستان اس کے جواب میں 220 پر ڈھیر ہو گئی۔ یوں ایک اننگز اور 47 رنز سے فتح اپنے نام کی۔ اس میں سب سے اہم چیز جو ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں کرکٹ پچز کے معیار پر بہت بڑا سوالیہ نشان اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی صاحب کے دعووں کے باوجود آئے روز پاکستان کی کرکٹ تباہ ہوتی جا رہی ہے۔ کل پی سی بی کی جانب سے نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان ہوا۔ جس میں سابق کرکٹر اسد شفیق، اظہر علی، عاقب جاوید، سابق آئی سی سی امپائر علیم ڈار اور ڈیٹا اینلسٹ حسن چیمہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کوچ اور کپتان بھی سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ منگل کو شروع ہونے والے دوسری ٹیسٹ کے لیے قومی ٹیم کا انتخاب یہی سلیکشن کمیٹی کرے گی۔ سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق امکان یہ ہے کہ قومی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا امکان جس کا اعلان ایک سے دو روز میں ہو جائے گا۔
یہ آنے والا وقت ہی بتا سکے گا کہ ان تبدیلیوں سے پاکستانی ٹیم کو کتنا فائدہ ہو سکے گا۔

