ویرانیاں
ویرانیاں ایک جگہ ہی نہیں ہوتیں، ویرانی کا معنی آنکھ میں بس جانا ہے۔ قطرہ بن کر غائب ہو جانا ہے۔ سمندر میں کسی قطرے کا گم ہو جانا ہے۔ ہوا کی بھیڑ میں درخت سے الجھے پتے کا کھو جانا ہے۔ سیاہ رات میں چاند کو تکتے رہنا ہے۔ درد کے ساحل پر قطرہ قطرہ پگھلتے رہنا ہے۔ درد کے موضوع پر قلم کا چلتے رہنا ہے۔ ان تھک راہوں میں کسی تھکی ہوئی بستی میں ٹھہر جانا ہے۔ آنکھوں کی پتلیوں میں کسی عکس کا دکھائی دینا ہے۔ چل نہ پانے کی قوت میں چلتے رہنا ہے۔ باعثِ شرمندگی کسی گواہی کا سامنا کرتے رہنا ہے۔ وقت نہ ملنے میں فرصت کا اچانک مل جانا ہے۔
کوئی منڈیر جس پر پرندوں کی آوازیں مدھر لگتی ہوں۔ کوئی ایسا خانہ جس میں حسرت کا کوئی سراغ ہو۔ کوئی ایسی بستی جہاں دل ٹھہر جاتا ہو۔ کوئی ایسا منظر جس کو ہم دیکھتے رہیں۔ کوئی ایسا کنارا جہاں کشتیاں جلانے کے بعد امید کا سبزہ بکھر جائے۔ کہیں شعلے دل کی چنگاری کو بھڑکا دیں۔ کہیں سے وابستگی کا راز ہمیں ہمراز کر جائے۔ کبھی ان اشکوں کو قبولیت مل جائے۔ کبھی درد کی پھیلتی رگیں سمٹ جائیں۔ کبھی ہوش والے بھی کسی خبر سے واقف ہو جائیں۔ کبھی زندگی کسی سرگوشی میں ہی بتا دے کہ میں ہوں۔ کبھی بہاؤ ٹھہر جائے۔ کہیں دلوں کو خاموشی اور سکون عطا ہو۔
آنسو دکھائیں تو کس کو ، شکوہ کریں تو کس سے، آخر تو رلانے والے انسان تھے، انسانوں کا چہرہ تھے، ان کے الفاظ تھے، احساسات تھے، جو کہیں تو چاندنی بن کر چمکتے ہیں کہیں تیر کی طرح دل میں لگتے ہیں لیکن عجب رشتہ ہے دل میں لگنے والے نشتر آنکھوں سے ٹپکتے ہیں، انسان ہلکان ہو جاتا ہے، لیکن اس کا شور سنائی نہیں دیتا، بہتا پانی بہتا ہی رہتا ہے، مد و جزر سطح کے نیچے ہوتی رہتی ہے، گلہ کریں تو کس سے، سوال بنا چہرہ جواب کہاں سے پائے، رونے سے ندیاں بہہ سکتی ہیں لیکن آنسو ختم نہیں ہوتے، ان کا رشتہ بھی لازوال ہے۔ محبت محتاط ہو جائے تو محبت نہیں رہتی، دلاسا بن جاتی ہے۔
خوف میں رہنے والے خوف کو اپنا مسکن سمجھتے ہیں، راج دلارے مٹی ہو جاتے ہیں، مٹی کا انسان مٹی ہو تو پھر مٹی کے معنی سمجھتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کی پکار کا حصہ ہیں جہاں تمنائیں جلتی ہیں اور خدشے پہرا دیتے ہیں۔ ہم سنتے ہیں، لبوں پر مسکراہٹ سجاتے ہیں، کہتے ہیں ہم خوش ہیں۔ کرچی کرچی کون سا کسی نے دیکھی ہے۔ اور پھر حیرت کا پیکر بن کر ریت سی زندگی پر پھسلتے رہتے ہیں۔ گرتے ہیں، گم ہو جاتے ہیں، لیکن پھر سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ تابعداری چلتی رہتی ہے، مرنے سے پہلے ہم اپنا مدفن دیکھتے رہتے ہیں۔
کسی بستی میں کوئی انسان کسی کا درد سنبھال لے۔ ظلم کی بازی ہار جائے اور جیت انسانی پیکر کی ہو۔ کبھی ہوا ایسی چلے جو دیس کے باسیوں کو خوشنما لگے۔ کبھی کوئی خوشنمائی کا معنی اور مفہوم بھی سمجھانے والا ہو۔ کبھی کوئی ایسا سورج نکلے جو درد کی گھاٹیوں پر سے تکلیف کے سائے اٹھا دے۔ اٹھنے والی ٹیس کم ہو جائے۔ کبھی زندگی اپنے ہونے کا درس دے تو اس کے باسی رہنما کی نوید پر جینے لگیں۔ کبھی اشک میں وہ سکون ملے جو ہنسی میں نہ ہو۔ کبھی ہنسی ایسی ہو جو گماں سے پرے ہو۔ کبھی گماں ایسا ہو کہ یقین کا پیکر لگے۔ کبھی ہمارے اوپر جڑی تہیں کھل جائیں تو اصل انسان سامنے آئے۔ کبھی چہروں میں سے اصل چہرہ مل جائے۔ کبھی خوشی کے ساتھ حال جڑ جائے تو قال سمجھ آ جائے۔
آنکھوں میں بہتے پانیوں کا رقص ہو۔ معمولی بات معمولی نہ ہو۔ زرد پتوں کے مخملی وجود پر قاصد کا پہرہ ہو۔ دھند اٹھ کر چھٹ جائے، پھیل جائے۔ پھول قدموں پر نچھاور ہوں۔ دل کی گلی میں رنگ و نور کی بارش ہو۔ رحمتوں کے سائے وسیع ہوں۔ جہاں غم نہ ہو۔ جہاں تکلیف ختم ہو جائے۔ جہاں سائے ہوں پر مدھم نہ ہوں۔ جہاں خاموشی ہو مگر دل اور روح کا تعلق جڑا رہے۔ جہاں زندگیاں ماتم کدہ نہ بنیں، جہاں مہر و معلوم کے پہرے ہٹ جائیں، جہاں رات کے بعد سویرا ہو۔ جہاں روشنی ہو پر خود نمائی نہ ہو۔ جہاں سلسلے چلیں تو مجبوریاں پاؤں کی زنجیر نہ ہوں۔ جہاں لمحے ٹھہریں مگر وقت چلتا رہے۔ جہاں حوصلے بھربھرے نہ ہوں۔ جہاں درد ہو مگر تکلیف نہ ہو۔
یہ درد، یہ تکلیف، یہ غم، یہ سب اس دنیا کی سوغات ہے تحفہ ہے۔ جو ایک رنگ میں ملے وہ دوسرے رنگ میں کسی اور طرح دکھائی دیتا ہے۔ یہ جو غم کی تصویر ہے اس کا عکس دوسری زندگی کی کھڑکی ہے۔ جس کا دروازہ صبر ہے۔ وہ سب جو یہاں ہے وہاں نہ ہو گا۔ اور جو وہاں ہے وہ یہاں کے گماں میں بھی نہیں ہے۔ زندگی کے زرد رنگ میں تصویر صبر سے بنتی ہے۔ یہ ہرا ہے ہریالا ہے۔ یہ نظر نہیں آتا مگر دِکھتا ہے۔ ان تکالیف کے پرتو سے جو ہمیں درس دینے والے جھیل گئے اور انہیں کیسا انعام ملا۔
اس تصویر میں رنگ وہ خود بھرتا ہے جو اپنے آنسوؤں سے اسے سجاتا ہے۔ اللہ زرد کو سبز کرنے پر قادر ہے۔ جو آج ایک رخ سامنے ہے تو کل دوسرا رخ سامنے ہو گا۔ جس میں نہ کوئی رنج ہو گا نہ تکلیف ہو گی۔ اور اس جنت میں ہمیشہ کے لیے رہنا ہو گا۔


