تو جھوم جھوم جھوم۔ مگر کیسے؟ مکمل کالم


میں اکثر صبح تیار ہوتے وقت یوٹیوب پر گانے لگا لیتا ہوں، اِس سے موڈ اچھا رہتا ہے اور تیاری میں بوریت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ یوٹیوب کو میری پسند کا اندازہ ہے اِس لیے وہ بار بار اُنہی گانوں کو دہراتا ہے جنہیں میں سننا چاہتا ہوں، نصیبو لعل اور عابدہ پروین کا ’تو جھوم‘ بھی ایسا ہی گانا ہے۔ میں موسیقی کا ماہر تو نہیں لیکن اِس گانے کے بارے اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ نصیبو نے عابدہ پروین کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا، تاہم یہ آج کا موضوع نہیں۔

اِس گانے کے بول ہیں ”پیڑاں نوں میں سینے لاواں تے میں ہسدی جاواں، دُھپّاں دے نال لَڑ لَڑ کے میں لَبّیاں اَپنیاں چھاواں، دُکھ وی اپنے سُکھ وی اپنے میں تے بس اے جاناں، سب نوں سمجھ کے کی کرناں اے دل نوں اے سمجھاواں، تو جھوم جھوم جھوم جھوم۔“ ترجمے کی ضرورت نہیں، سادہ سی پنجابی ہے جس کا مطلب ہے کہ زندگی میں دکھ سکھ، اونچ نیچ آتے رہتے ہیں، اِن کی وجہ سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے، سب اونچی شان یہیں رہ جائے گی، سو جھوم جھوم کے زندگی گزارنی چاہیے۔

صبح شیو کرنے کے بعد ، سوٹ پہن کر، ٹائی کی گرہ لگاتے ہوئے جب اِس گانے کے بول کان میں پڑتے ہیں تو لطف آ جاتا ہے، مگر یہ لطف اسی صورت میں آ سکتا ہے اگر یہ پریشانی نہ ہو کہ آج دو وقت کی روٹی نصیب ہوگی یا نہیں۔ جس بندے کا دن اِس سوچ کے ساتھ شروع ہوتا ہو کہ نہ جانے اگلے ماہ اُس کی نوکری رہتی ہے یا نہیں، تو وہ من میں چاہے کتنا ہی صوفی کیوں نہ ہو، اِس گانے پر نہیں جھوم نہیں سکتا اِلّا یہ کہ اُس نے نشہ کیا ہو۔

ارسطو نے کہا تھا کہ پُرمسرت زندگی وہ ہے جو پاکیزہ اور نیک ہو۔ ارسطو کے اِس قول کے لیے انگریزی میں virtuous کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارسطو سے بڑے بڑے فلاسفہ اختلاف نہیں کر سکے تو بندہ کس کھیت کی مولی ہے، ویسے بھی ارسطو نے اِس موضوع پر پوری ایک کتاب لکھی ہے جو زندگی کے اِس معمے کا احاطہ کرتی ہے، لیکن وہ کتاب بھی آج زیرِ بحث نہیں کیونکہ اُس پر بندہ اپنی رائے کافی عرصہ پہلے ایک مضمون میں دے چکا ہے۔ آج موضوع صرف اتنا ہے کہ کیا واقعی جھوم جھوم کے زندگی گزاری جا سکتی ہے؟

ہر قسم کے دکھ سکھ سے ماورا ہو کے زندگی اُسی صورت میں گزاری جا سکتی ہے اگر بندہ سارا دن اپنے بستر پر لیٹ کر چھت کو گھورتا رہے، لیکن یہ بھی نا ممکن ہے کیونکہ بجلی کا بِل اسے بہرحال بھرنا پڑے گا اور اِس کے لیے پیسے چاہیے ہوں گے اور پیسے کمانے کے لیے اسے گھر سے باہر نکلنا ہو گا اور جونہی وہ گھر سے باہر قدم رکھے گا، اسے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا اسے قانون، قاعدے اور ضابطے میں رہ کر کام کرنا ہے یا کسی آزاد روح کی طرح ہر پل وارفتگی کے عالم میں گزارنا ہے۔

اِس سوال کا جواب مشہور فلسفی سورن کیرکیگارڈ نے اپنی کتاب Either/Or میں دیا ہے۔ کتاب کا نام ہی اِس قدر عمدہ ہے کہ بندہ داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کتاب میں دو قسم کی طرزِ ہائے زندگی کا موازنہ کیا گیا ہے جنہیں کیرکیگارڈ Aesthetical اور Ethical کہتا ہے، اردو میں بولیں تو جمالیاتی اور اخلاقی۔ اِس کام کے لیے کیرکیگارڈ نے دو تصوراتی کردار تخلیق کیے۔ جمالیاتی زندگی کے دلدادہ شخص کے قلم سے کیرکیگارڈ نے ایک مضمون تحریر کروایا جس میں اُس کردار نے شاعرانہ اور دلآویز پیرائے میں اپنا مقدمہ پیش کیا، حُسن کے پیمانے بتائے، موسیقی کی دلکشی بیان کی اور عورتوں کو لبھانے کے طریقوں پر بات کی جبکہ دوسرے کردار کے قلم سے کیرکیگارڈ نے دو طویل خطوط لکھوائے جن کا انداز تحریر نپا تلا تھا اور اُن میں اخلاقی ذمہ داریوں اور قانون قاعدے کی پابندی کے تحت زندگی گزارنے کی ترغیب دی گئی تھی۔

کیرکیگارڈ کے مطابق انسان کے اندر متواتر ایک جنگ جاری رہتی ہے کہ اِن دونوں طرزِ زندگی میں سے کس کا انتخاب کیا جائے، دِقّت یہ ہے کہ دونوں کو کسی ایک فلسفے میں ضم کر کے یوں پیش نہیں کیا جا سکتا کہ انسان اُسے کسی کیپسول کی طرح نگل کر مطمئن ہو جائے۔ مثلاٴ جو کردار جمالیاتی فکر کی نمائندگی کرتا ہے وہ ایک گمنام نوجوان ہے جو نتائج کی پروا کیے بغیر صرف ذاتی خوشی، حرص و طمع اور اپنی تفریحات کی تکمیل کے لیے زندگی گزار رہا ہے۔

جبکہ دوسری جانب، اخلاقی زندگی کا داعی شخص ایک جج ہے جو اپنے ذاتی اور سماجی فرائض کو پورا کرنے کے لیے سخت محنت کا حامی ہے، اُس کی زندگی قانون قاعدے کے تابع ہے اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں اگر اسے کوئی قربانی بھی دینی پڑتی ہے تو وہ دریغ نہیں کرتا، اُس کی نظر میں جمالیاتی طرزِ زندگی اخلاقی دیوالیہ پن سے عبارت ہے جس کا نتیجہ بالآخر شدید مایوسی اور ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جب کیرکیگارڈ اپنے فرضی کرداروں کے ذریعے اِن دونوں نظریات کا موازنہ کرتا ہے تو اُس کا مقصد کسی ایک طرزِ زندگی کے حق میں دلائل پیش کر کے اسے درست قرار دینا نہیں ہے بلکہ وہ صرف اپنے پڑھنے والوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر یہ بتانا چاہتا ہے کہ اُن کی زندگیوں میں تناؤ کی وجہ اصل میں یہ اندرونی کشمکش ہے جو ختم نہیں ہو پاتی۔

سورن کیرکیگارڈ نے اپنی کتاب میں ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ کیا انسان اپنی زندگی میں اضطراب سے چھٹکارا پا سکتا ہے؟ اِس سوال کا جواب کیرکیگارڈ یوں دیتا ہے کہ یہ دراصل غیر یقینی مستقبل ہے جس کی وجہ سے ہم ذہنی تناؤ اور اضطراب کا شکار ہوتے ہیں، اور اِس کی بنیاد انسان کو میسر وہ آزادی ہے جس کے تحت وہ اپنی زندگی گزارنے کے فیصلے کرتا ہے، انسان کو چونکہ اُن فیصلوں کے ممکنہ نتائج کا علم نہیں ہوتا اِس لیے تناؤ کی کیفیت جنم لیتی ہے جس سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں رہتا۔

یہ سوالات انسان کے وجود سے متعلق ہیں کہ ہم کون ہیں اور ہمیں کس طرح رہنا چاہیے اور اِن کے حتمی جوابات دستیاب نہیں ہیں، اِس لیے یہ لاعلمی اضطراب کو جنم دیتی ہے۔ ہم یقینی طور نہیں جان سکتے کہ آیا ہم نے زندگی میں درست راستے کا انتخاب کیا یا نہیں لیکن بہرحال ہم یہ انتخاب کرنے میں آزاد ہیں، اِس لئے یہ آزادی ایک طرح سے تناؤ اور اضطراب کا باعث بنتی ہے یا یوں سمجھیں کہ آزادی کی قیمت ہمیں اضطراب کی شکل میں چکانی پڑتی ہے۔

تاہم کیرکیگارڈ کہتا ہے کہ ایک بار جب ہم اِس حقیقت کو قبول کر لیں گے تو پھر ہم زندگی کی اِس غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں گے اور اپنی توانائیوں کو درست سمت میں موڑ کر اِس اضطراب کو مثبت طرزِ زندگی کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ لیکن ہوتا ہے یہ ہے کہ جمالیاتی طرزِ زندگی کا دلدادہ محض جذبات اور سفلی خواہشات کا پیچھا کر کے اپنے اضطراب سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ یہ فرار فقط زندگی کے ادھورے پن پر مُنتَج ہوجاتا ہے۔

دوسری جانب اخلاقی زندگی کا داعی شخص اِس اضطراب کا یوں مقابلہ کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اخلاقی قوانین اور اصول و ضوابط کا پابند بنا لیتا ہے لیکن یہ پابندیاں اسے ایک روبوٹ بنا دیتی ہے جو بغیر کسی سوال جواب کے محض احکامات پر عمل درآمد کا عادی ہو، اُس میں یہ احساس ہی ناپید ہو جاتا ہے کہ جنہیں وہ سماجی فرائض یا ذمہ داریاں سمجھ رہا ہے آخر اُن کی اتھارٹی کا ماخذ کیا ہے۔ اگر انسان اِس طرح بلا سوچے سمجھے محض پہلے سے جاری شدہ فرمودات کی اندھا دھُند بجاآوری میں لگ جائے تو زندگی کا یہ ’اصولی انتخاب‘ بھی حقیقی مسرت کا باعث نہیں بنتا۔

ویسے تو اِس تمام بحث کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا لیکن اگر ہم نتیجہ نکالنے پر تُل جائیں جیسے کہ کیرکیگارڈ کے بعد آنے والے لکھاریوں کافکا اور کامیو (دونوں میرے پسندیدہ ہیں ) نے نکالا تو وہ سوائے اِس کے اور کچھ نہیں نکلے گا کہ زندگی معنویت سے عاری ہے اور اِس میں اضطراب سے چھٹکارا ممکن نہیں، لہذا اِس زندگی کو گزارنے کا اِس بہتر طریقہ نہیں ہو سکتا کہ ”تو جھوم جھوم جھوم۔ ۔ ۔“ !

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada