یہ کیا طرز سیاست ہے؟


گزشتہ کالم میں کچھ اعداد و شمار کا حوالہ دے ملک کی معاشی صورتحال میں آنے والی بہتری کا ذکر کیا تھا۔ کتنی مثبت اطلاع ہے کہ کئی برس کے بعد مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آ گئی ہے۔ یعنی 38 فیصد سے کم ہو کر 6.9 فیصد رہ گئی ہے۔ شرح سود میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات دکھائی دینے لگے ہیں۔ بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کے اعتماد کا نتیجہ ہے کہ ترسیلات زر میں 44 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

عالمی سطح پر ہمارا تاثر مختلف عالمی اداروں کی طرف سے ہونے والی درجہ بندی کا مرہون منت ہوتا ہے۔ یہ سن کر اچھا لگتا ہے کہ فچ اور موڈیز جیسے عالمی اداروں نے ہماری کریڈٹ ریٹنگ (یعنی ملک کی قرض لینے کی قابلیت اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت) کو اپ۔ گریڈ کر دیا ہے۔ مطلب یہ کہ ہماری معیشت سے جڑے خدشات کم ہوئے ہیں۔ ہماری اسٹاک ایکسچینج پر بھی اس صورتحال کے اثرات پڑے ہیں اور وہاں مثبت رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ اس معاشی عمل کو استحکام ملتا ہے تو اس کے اثرات عام آدمی کی زندگی پر پڑیں گے۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ معاشی اشاریوں میں بہتری تسلسل کے ساتھ جاری رہے۔ حکومت کو ٹک کر اور پوری توجہ کے ساتھ اپنا کام کرنے دیا جائے۔ لیکن گزشتہ دنوں میں ہم نے دیکھا کہ اسلام آباد میں سیاسی ہیجان کی کیفیت رہی۔ ایک سیاسی جماعت نے اسلام آباد پر چڑھائی کا عندیہ دے دیا۔

وفاقی حکومت نے سمجھایا بھی کہ ملائشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم پاکستان کے دورے پر ہیں۔ دارالحکومت پر سیاسی لاؤ لشکر لانے سے گریز کیا جائے۔ علاوہ ازیں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کا انعقاد ہونے والا ہے۔ کئی ممالک کے سربراہان اور اہم نمائندگان کی اجلاس میں شرکت کے لئے پاکستان آئیں گے۔ ہم سب آگاہ ہیں کہ عالمی سربراہان یا مختلف ممالک کے نمائندے جب کسی ملک کا دورہ کرتے ہیں تو ان کی حفاظت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں بھی غیر ملکی مہمانوں کی سیکیورٹی کا پہلو نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ جب تک یہ مہمان واپس نہیں چلے جاتے متعلقہ اداروں کی جان سولی پر ٹنگی رہتی ہے۔ ان دوروں کے دوران عالمی میڈیا کی توجہ اس ملک کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ اس ملک اور اس کے حالات کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں حکومت چاہتی تھی کہ ان دنوں ہر قسم کے سیاسی احتجاج اور ہلے گلے سے گریز کیا جائے۔

افسوس کہ اس سیاسی جماعت نے ملک کے عزت و وقار پر اپنے سیاسی احتجاج کو ترجیح دی۔ حکومت نے بھی جگہ جگہ کنٹینر کھڑے کر کے احتجاج کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کی۔ سنتے ہیں کہ تین چار دن تک اسلام آباد کے شہری ایک عذاب میں مبتلا رہے۔ لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے۔ طالب علم اپنے تعلیمی اداروں میں نہیں جا سکے۔ نوکری پیشہ اور دیہاڑی دار شہری بھی پریشان رہے۔ مریضوں کو ہسپتال جانے میں دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیلی فون سروس اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے باعث شہریوں کو کوفت کا سامنا رہا۔ لوگوں کے کئی ضروری کام نہیں ہو سکے۔ خود سوچیے کہ یہ کیا طرز سیاست ہے؟ اگرچہ احتجاج ایک جمہوری حق ہے۔ لیکن ملک کا وقار داؤ پر لگا کر۔ عوام الناس کا سکون او ر بنیادی حقوق سلب کر کے آپ اپنا کون سا جمہوری حق استعمال کر رہے ہیں۔

2014 میں بھی یہی صورتحال تھی۔ ملک درست سمت پر گامزن تھا۔ معیشت کی حالت میں بہتری دکھائی دینے لگی تھی۔ اس وقت بھی 126 دن کے دھرنے نے اسلام آباد کے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنائے رکھا۔ مار پیٹ، توڑ پھوڑ، نے ایک ہیجان برپا کیے رکھا۔ اس زمانے میں بھی چینی صدر نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔ اربوں ڈالروں کی سرمایہ کاری کے معاہدے طے پانا تھے۔ لیکن اس دھرنے کی وجہ سے یہ دورہ ملتوی ہو گیا۔ معاہدے بھی تاخیر کا شکار ہو گئے۔ 126 دن ڈی۔ چوک پر جو تماشا لگا رہا اس سے ہماری جگ ہنسائی ہوئی۔ دنیا کو پاکستان کا نہایت منفی تاثر گیا۔ حکومت کو اطلاعات تھیں کہ اس مرتبہ بھی ان کا ارادہ تھا کہ ڈی۔ چوک پر چند سو افراد کو بٹھا کر شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کو اس تماشے کی نذر کر دیا جائے۔ بہرحال یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔

اس کھیل کا سب سے سفاک پہلو یہ ہے کہ اس سارے تماشے میں ایک بے چارہ کانسٹیبل اپنی جان سے گیا۔ کیا کسی نے سوچا ہے کہ اس کا کیا قصور تھا؟ اس کو کس جرم کی سزا ملی ہے؟ اس کے مرنے کے بعد اس کے گھر والوں کو کون سہارا دے گا؟ ان کی کفالت کون کرے گا؟ یعنی ملک کی معیشت ہو، شہریوں کا سکون ہو یا کسی محافظ کی جان، یہ فساد کرنے والوں کو کسی شے کی پرواہ نہیں ہے۔ یہ سیاست ہے یا ملک دشمنی؟

مسئلہ یہ ہے اس ملک میں قانون کی عمل داری نہایت کمزور ہے۔ 2014 میں پی۔ ٹی۔ وی پر حملہ کرنے والوں کی گرفت ہوئی نہ پولیس کے سپاہیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کی۔ قبریں کھودنے والوں کا محاسبہ ہوا اور نہ ہی سول نافرمانی کی ترغیب دینے والوں کا۔ 9 مئی 2023 کو سرکاری املاک کا جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں اور شہداء کی نشانیوں کو پامال کرنے والوں کو بھی سزا نہیں مل سکی۔ ریاست کے لئے تفہیم کا پہلو یہ ہے کہ جب تک فساد برپا کرنے والوں کو قانون کے شکنجے میں نہیں کسا جاتا، یہ کھیل کھیلا جاتا رہے گا۔

یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ سے سیاسی تفریق کی لکیریں اتنی گہری ہو گئی ہیں کہ بیشتر لوگ اچھے برے کی تمیز بھول گئے ہیں۔ سیاسی بدکلامی اور بد زبانی کو اظہار رائے سمجھا جاتا ہے۔ دنگا فساد، مار دھاڑ، جلاؤ گھیراؤ کو احتجاج کا نام دیا جاتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے افراد بھی اس رو میں بہہ گئے ہیں۔ نوجوان نسل کا ایک طبقہ بھی اس بد کلامی اور دنگا فساد کو پسند کرنے لگا ہے۔ نہایت ضروری ہے کہ ہم سب بطور ایک ذمہ دار شہری اور محب وطن پاکستانی اپنا کر دار پہچانیں۔

اس بات کو سمجھیں کہ یہ ملک کسی ایک سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کا نہیں ہے۔ یہ ہم سب کا ملک ہے۔ اس ملک کی معیشت کو، اس کے امن و سکون کو سیاسی پسند نا پسند کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ سیاسی جماعتوں کے اندھے پیروکاروں کو سوچنا چاہیے کہ یہ ملک سب سے پہلے ہے۔ سیاسی بد امنی ہو گی تو ملک میں معاشی استحکام نہیں آئے گا۔ امن و امان کی صورتحال ہی معیشت میں بہتری کا باعث بنے گی۔ کاش ہم سب یہ بات یاد رکھیں کہ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے۔ آمین۔

Facebook Comments HS