غیر ملکی سرمایہ کاری یا فسانہ


ملک میں قائم مخلوط حکومت کے لیے 9 اکتوبر 2024 ایک اہم دن تھا جب سعودی وزیر برائے سرمایہ کاری جناب خالد بن عبدالعزیز الفلح کی زیر قیادت 158 سعودی سرمایہ کاروں پر مشتمل وفد اسلام آباد پہنچا۔

حکومت وقت اس دورے کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ معاہدوں کی تشہیر کے لیے ایک منظم مہم کا آغاز کئی دنوں پہلے کر چکی تھی جہاں وہ اس دورے کو سعودی عرب کی جانب سے اپنی خود ساختہ کامیاب اقتصادی اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر مکمل تائید اور حمایت کا مظہر قرار دے رہی تھی۔

حکومت کی جانب سے مروجہ سفارتی اقدار سے کہیں بڑھ کر دیا گیا خیر مقدم جہاں سعودی وفد کے لیے ایک خوش گوار حیرت کا باعث تھا وہیں پر ملک میں موجود بین الاقوامی تعلقات عامہ اور خارجہ امور کے ماہرین اور اداروں کے لیے یہ تمام تر مناظر تکلیف دہ حد تک حیران کن تھے۔ ان حلقوں کے مطابق گرم جوشی اور اعلی اقدار میزبانی تو ہر زندہ قوم کا شیوہ ہوتا ہے لیکن حکومت کی جانب سے روا رکھا جانے والا خوشامدی رویہ اور ضرورت سے زیادہ مرنجاں مرنج بننے کی پالیسی ملکی تشخص اور ایک آزاد اور خود مختار قوم کے لیے کسی بھی طور قابل ستائش نہ تھی۔

حکومتی دعووں کے مطابق دو ارب ڈالرز سے زیادہ سعودی سرمایہ کاری کے لیے ضروری معاہدوں پر دستخط کرنے کی تقریب 10 اکتوبر 2024 کو منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، سعودی وزیر برائے سرمایہ کاری اور سعودی سرمایہ کاروں کے علاوہ مقامی کاروباری شخصیات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ لیکن سعودی سرمایہ کاری میں بڑھتی ہوئی عوامی دلچسپی اور جوش و خروش کو اس وقت شدید نا اُمیدی کا سامنا کرنا پڑا جب سرمایہ کاری کے نام پر کیے گئے 27 معاہدے محض مفاہمت کی یادداشتوں سے اگے نہ بڑھ سکے۔ جن کی اکثریت محض خدمات کے شعبے تک محدود ہے جبکہ قومی معیشت ایسے پیداواری منصوبوں کی متقاضی ہے جو ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ فراہم کر کے اس کے سر پر لٹکتی ہوئی دیوالیہ ہونے کی تلوار کو ہمیشہ کے لیے دور کر دے۔

حکومتی دعووں کے عین برعکس مفاہمت کی یادداشتوں کو کسی بھی طور سرمایہ کاری کے لیے حتمی معاہدہ نہیں کہا جا سکتا۔ درحقیقت مفاہمت کی یادداشت محض اس بات کا اعادہ ہوتا ہے کہ اس کو دستخط کرنے والے فریق متوقع سرمایہ کاری کے لیے ابتدائی بات چیت کرنے کے لیے اصولی طور پر تیار ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے تناظر میں ماضی میں کی جانے والی مفاہمتی یادداشتوں کی کثیر تعداد سرمایہ کاری کے حتمی معاہدوں میں تبدیل ہونے کی بجائے محض متعلقہ فائلوں تک محدود رہ جاتی ہے۔

مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہونے کی تقریب تمام ٹی وی چینلز نے براہ راست نشر کی جہاں سٹیج پر موجود حکومتی اور اہم ریاستی شخصیات کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے۔ بہرحال یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ نون نے اپنے ماضی کی ناقابل قدر روایات کے عین مطابق سرمایہ کاری جیسے اہم اور حساس معاملے کو ایک بار پھر اپنی غیر ضروری سیاسی تشہیر تک محدود کر دیا اور ایسا کرتے ہوئے اس نے اس بات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا کہ اس کا یہ رویہ ایک برادر ملک کے اعلی سطحی وفد کی نظروں میں حکومتی اور ملکی ساکھ کو بہت حد تک متاثر کر سکتا ہے۔

قارئین کرام اس ضمن میں آپ کی توجہ ان دو بڑی مفاہمتی یادداشتوں کی طرف مبذول کرانا بہت ضروری ہے جس کے تحت ملک میں قائم ”گو پیٹرولیم“ میں سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو کی جانب سے 100 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری اور سابقہ شیل پاکستان کی جانب سے اپنے 7 7 فیصد حصص کی فروخت اور انتظامی امور کو سعودی عرب کے وافی گروپ کو منتقل کرنے کی منظوری تھی۔ یہاں یہ بات بہت اہم اور تکلیف دہ ہے کہ ”گو پٹرولیم“ کا معاہدہ آج سے قریباً چھ ماہ پہلے اپنی تکمیل تک پہنچ گیا ہے۔

جبکہ شیل کا معاہدہ آج سے ایک سال پہلے طے پایا تھا جس کی تکمیل تمام تر ضروری کارروائیوں کے بعد تقریباً دو ماہ پہلے ہو چکی ہے۔ مزید برآں اس معاہدے کے تحت عام سرمایہ کاروں سے ان کے حصص خریدنے کی پیشکش بھی 19 ستمبر 2024 کو پایہ تکمیل تک پہنچ چکی ہے۔ چنانچہ ان دونوں معاہدوں کو از سر نو مفاہمت کی یادداشت کی صورت میں ٹیلی ویژن پر نشر کرنا ہر لحاظ سے عوام الناس کی انکھوں میں دھول جھونکنے اور حکومت وقت کی جانب سے معیشت اور سرمایہ کاری کے نام پر اپنی تیزی سے گرتی ہوئی عوامی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے ایک ناکام کوشش سے کچھ زیادہ نہیں کہا جا سکتا۔ حکومت اور ریاستی اداروں کا یہ بھونڈا اقدام ملک کی بین الاقوامی سطح پر مزید جگ ہنسائی کا باعث بن سکتا ہے

مفاہمت کی یادداشتوں تک محدود ان تمام تر معاہدوں میں ما سوائے متذکرہ بالا دو معاہدوں کے کوئی دوسری قابل ذکر مفاہمتی یادداشت قابل تحریر نہیں ہے۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ اس تقریب کی ایک مفاہمتی یادداشت فوجی فاؤنڈیشن کے زیر ملکیتی ادارے فوجی فریش اور فریز کمپنی کی جانب سے سعودی عرب کو سبزیاں فراہم کرنے کے متعلق تھی جو درحقیقت سرمایہ کاری کے نام پر ایک سنگین مذاق سے کم نہ تھا۔ قارئین کرام ایسے لاتعداد معاہدے تو کراچی، لاہور اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بیٹھے آڑھتی حضرات روزانہ کی بنیاد پر تکمیل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

یاد رہے کہ فوجی فریش اور فریز کمپنی نے سال 2013 میں اپنے کاروبار کا آغاز کیا تھا اور اس کا بڑا کاروباری مقصد منجمد سبزیوں اور پھلوں کی فروخت تھا۔ سال 2023 کے آخر میں اس کمپنی کا سرمایہ چھ ارب 23 کروڑ روپے تھا جبکہ اس کے مجموعی نقصانات کا حجم پانچ ارب روپے کے قریب تھا جو کہ اس کمپنی کی کمزور اور غیر تسلی بخش کارکردگی کا مظہر تھا۔

قارئین کرام ان تمام تر یادداشتوں میں اس سعودی یقین دہانی کا کوئی ذکر نہ تھا جس کے تحت سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنے دورہ پاکستان میں گوادر کے مقام پر 10 ارب ڈالر کی لاگت سے ایک بڑی آئل ریفائنری لگانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ضروری تو یہ تھا کہ حکومت وقت اور ایس آئی ایف سی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے اس اہم یقین دہانی کو حتمی معاہدے کی شکل دے دیتی جو کہ آنے والے دنوں میں ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں ایک مہمیز کا کام کر سکتا تھا۔

ملک میں سعودی عرب کی ممکنہ سرمایہ کاری کے ضمن میں ایس ایف آئی سی آنے والے دنوں میں ملک کے اہم ترین معدنیاتی اثاثے ریکوڈک کے قریبا 25 فیصد حصص کو سعودی عرب کی ملکیت میں دینے کی تجویز پر تیزى سے کام کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ اس اہم قومی اثاثے کے 51 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول پہلے ہی مشہور بین الاقوامی کمپنی بیرک گولڈ کے پاس ہے جو اس وقت اس منصوبے کی تجارتی طور پر قابل عمل ہونے کی رپورٹ پر از سرے نو کام کر رہی ہے۔

جبکہ ریکوڈک کے بقایا 49 فیصد حصص حکومت پاکستان تین بڑی مقامی کمپنیوں یعنی او جی ڈی سی، پی پی ایل، گورنمنٹ ہولڈنگ اور حکومت بلوچستان کی وساطت سے اپنی ملکیت میں رکھتی ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ریکوڈک میں دنیا کے چوتھے بڑے تانبے کے ذخائر موجود ہونے کے ساتھ سونے کے ذخائر کی ایک بڑی مقدار بھی موجود ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ریکوڈک سے سالانہ کی بنیاد پر تقریباً چار سے چھ ارب ڈالرز کا خام تانبا اور سونا حاصل کیا جا سکے گا جس کی تمام تر مقدار برامد کر دی جائے گی۔ ان ذخائر کی عمر کا اندازہ 35 سے 40 سال تک لگایا گیا ہے۔ لیکن یہاں یہ بات بہت اہم اور قابل تشویش ہے کہ دنیا میں تانبے کے چوتھے بڑے ذخیرے کے لیے خام تانبے کو صاف کرنے کے لیے ضروری ریفائنری کا قیام اس اہم منصوبے کا حصہ ہی نہیں ہے۔ چنانچہ اس منصوبے سے حاصل کردہ تانبا اور سونا اپنی خام حالت میں ہی برامد کر دیا جائے گا جبکہ ان حاصل کردہ معدنیات کو صاف کرنے کی صورت میں ملک کئی گنا زیادہ زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے۔

قارئین کرام اس تمام تر صورتحال میں حکومت پر لازم ہے کہ وہ ریکوڈک جیسے اہم قومی اثاثے کے حصص سعودی عرب کو بیچنے کی خواہش سے اجتناب کرے کیونکہ یہ منصوبہ پاکستان کے آنے والے سالوں اور اس کی اگلی نسلوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ملک اس اہم منصوبے سے آنے والی کئی دہائیوں تک کثیر زر مبادلہ حاصل کر سکتا ہے جب کہ اس کی فروخت سے حاصل کردہ ممکنہ ایک ارب ڈالر ایک غیر آئینی اور غیر نمائندہ حکومت، اس کے اتحادیوں اور سہولت کاروں کی جانب سے ماضی میں کی جانے والی مالی بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کے تناظر میں محض کچھ مہینوں میں کسی نہ کسی غیر ضروری میگا منصوبے اور اس سے حاصل کردہ اربوں روپے کی مالی منفعت کی نظر ہو جائیں گے۔ اور پھر رہ جائے گا محض وہ کشکول جس کا حجم حکومتی دعووں کے برعکس مزید بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

Facebook Comments HS