شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس اور پاکستان کے مواقع
شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس اکتوبر میں پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان 2017 میں باقاعدہ اس تنظیم کا رکن ہونے کے بعد اس اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی پاکستانی ماہرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کو اس اجلاس کی میزبانی سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنے سفارتی اور بین الممالک تعلقات کو مضبوط کرنا چاہیے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے پاس اس اجلاس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کیا مواقع ہیں؟
چین کے بانی رکن ہونے اور پاکستان کے قریبی دوست ہونے کی وجہ سے پاکستان کو یہ سہولت پہلے ہی سے حاصل ہے کہ وہ کھل کر اپنی معاشی اور اقتصادی صورتحال کے حوالے سے چین سے بات کر سکتا ہے۔ چین پاکستان دوستی کی مثال ایسی ہے جو دنیا میں شاید ہی دو ممالک کے مابین دوستی میں کہیں نظر آئے۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی و اقتصادی حالات میں بے لوث مدد فراہم کی ہے اور دونوں ممالک کی دوستی کا یہ اعتماد ہی تھا کہ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا فلیگ شپ منصوبہ سی پیک پاکستان کے ساتھ شروع کیا اور اب یہ منصوبہ اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس اجلاس کے موقع پر چینی قیادت کے ساتھ دو طرفہ بات چیت میں پاکستان نے سی پیک کے اگلے مرحلے کے لئے اپنی منصوبہ بندی چین کی مشاورت سے مکمل کر لی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کئی معاہدوں اور منصوبوں اس ماہ دستخط ہو جائیں گے۔
ایس سی او میں شامل ممالک میں پاکستان شاید وہ واحد ملک ہے جس نے افغانستان جنگ میں کئی دہائیوں پر مبنی نقصان اٹھایا ہے اور آج تک دہشت گردی کی صورت میں اٹھا بھی رہا ہے۔ پاکستان کے پاس اس طرح کے جتنے بھی مواقع ہیں ان میں اس مسئلے کی حقیقت پر بات کرنے کے لئے پاکستان کو ایک مستقل لائحہ عمل کی ضرورت ہے جہاں پاکستان دنیا کو بتا سکے کہ جس ملک پر دنیا یہ الزام لگاتی ہے کہ وہ دہشت گردی برآمد کر رہا ہے وہاں دراصل دہشت گردی در آمد ہو رہی ہے اور یہ در آمد نا چاہتے ہوئے ہے۔ سرد جنگ کے بعد کی صورتحال اور افغانستان میں عالمی طاقتوں کی ناکامی کے بعد افغانستان کے حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہی ہے جو اس جنگ میں کئی لاکھ لوگوں کی قربانی دے چکا ہے اور اس کی معیشت کا زیادہ حصہ دفاعی ضروریات پر خرچ ہو رہا ہے۔
سو ایسے میں دنیا کے سامنے یہ بیانیہ پش کرنا ضروری ہے کہ اس ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ اس ملک کے رہنے والوں کی خواہش ہے لیکن اس کے لئے اس کے پڑوسیوں کو بھی بیانات اور پراپیگنڈا مہم سے باہر آ کر اپنی غلطیوں اور در اندازی کی پالیسی کو روکنا ہو گا۔ ایس سی او پاکستان کو پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے، اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور علاقائی سلامتی کو بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے۔
ان مواقعوں میں توانائی کی بات کی جائے تو پاکستان ایس سی او کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ توانائی کے شعبے، خاص طور پر تیل، گیس اور قابل تجدید توانائی میں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تنظیم میں شامل روس اور ایران دو ایسے ممالک ہیں جن سے سستا تیل خرید کر ہم اپنی معاشی مشکلات پر کافی حد تک قابو پا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے پاکستان کی سفارتی پالیسی کو انتہائی محتاط ہو کر دوست ممالک سمیت عالمی برادری کو بتانا ہو گا کہ ملک کے فائدے کے لئے ہر وہ قدم اٹھایا جا سکتا ہے جس کی ضرورت ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع میں چین پاکستان کی خاطر خواہ مدد کر سکتا ہے کیوں کہ چین دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے اپنی توانائی کی ضروریات کا نصف سے زیادہ متبادل ذرائع سے منسلک کر دیا ہے اور شمسی توانائی اور پون بجلی کی پیداوار میں مہارت رکھتا ہے۔
اقتصادی تعاون کی بات کی جائے تو ایس سی او پاکستان کو وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی انضمام کو فروغ دینے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو بڑھانے کے لیے ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لے سکتا ہے۔ علاقائی رابطے پر ایس سی او کی توجہ پاکستان کو ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک اور مواصلاتی نظام سمیت اپنے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مدد کر سکتی ہے۔
پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے اپنی معیشت کو متنوع بنا سکتا ہے، علاقائی تعاون کے ذریعے اپنی توانائی کی پیداوار کو بڑھا سکتا ہے، علاقائی سیاست اور سلامتی میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کر سکتا ہے اور ثقافتی تبادلے کے پروگراموں کے ذریعے عوام سے عوام کے تعلقات کو فروغ دے سکتا ہے۔
ایک سب سے بڑا موقع پاکستان کے لئے سی پیک منصوبوں کی نمائش اور بیلٹ اینڈ روڈ ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعاون بھی ہے۔ کچھ ممالک کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ممالک بی آر آئی سے وابستہ ہیں اور ایسے میں نئے مواقعوں اور نئی منڈیوں کی تلاش پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
مجموعی طور پر، ایس سی او اجلاس پاکستان کے لیے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے، اہم چیلنجوں سے نمٹنے اور ترقی کے نئے مواقع کھولنے کا ایک منفرد موقع پیش کر رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی ساز ادارے اور شخصیات اس موقع کا بھر پور فائدہ اٹھائیں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ایک نئے احساس اور جوش کے ساتھ پاکستان کی آواز اور اس کی دنیا میں موجودگی کو توانا کریں۔


