ڈاکٹر ذاکر نائیک، پلوشہ بی بی اور ایک مکمل اسلامی معاشرہ
مکالمہ اور سوال و جواب چاہے جس بھی نوعیت اور موضوع کے بارے میں ہو اگر متعلقہ موضوع کے مرکزی نقطے پر فصاحت کے ساتھ مکمل دلیل سی کی جائے تو معاشرے کے بہتری اور عام لوگوں کے متعلقہ پیچیدہ موضوع کے بارے میں دماغ کے دریچے کھول دیتے ہیں اور مذکورہ موضوع سے حقیقی دلچسپی رکھنے والا ہر بندہ اپنے دانست کے مطابق اپنی سی کوشش میں لگ جاتا ہے جس کے لئے وہ موجودہ دنیا کے رائج ٹولز استعمال میں لاتے ہیں اور مختلف کتابیں کنگھالتے ہیں۔
مکالمے اور بحث و تمحیص کے دنیا کا ایک معتبر نام ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں۔
ایک پروگرام میں لکی مروت سے تعلق رکھنے والی ایک بہن پلوشہ بی بی نے ڈاکٹر صاحب سے ایک سوال کیا جس کا ڈاکٹر صاحب نے سیدھا سادہ اور انتہائی منطقی جواب دیا۔
Islam mein Mard Ek se Ziyaada Shaadi kyun kar sakte hain? – Dr Zakir Naik pic.twitter.com/0oylMigwmQ
— Dr Zakir Naik (@drzakiranaik) October 5, 2024
سوال و جواب کا لب لباب یہ تھا بہن کے مطابق کہ ان کے ہاں لوگ مکمل مذہبی/اسلامی ہے، تبلیغی اجتماعات کا اہتمام کیا جاتا ہے، عورتیں بغیر ضرورت کے گھروں سے نہیں نکلتی ہیں اور ان کے ہاں ایک مکمل اسلامی معاشرہ ہے لیکن پھر بھی لوگ سود اور بچوں سے زیادتی جیسے قبیح جرائم کا ارتکاب بغیر کسی روک ٹوک کرتے رہے ہیں اور مذکورہ جرائم ان کے معاشرے کے جڑوں میں پیوست ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کے کے مطابق جہاں بچوں سے زنا اور سود وافر/عام طور پر ہو رہا ہو وہ معاشرہ خود کو مکمل اسلامی معاشرہ بھی کہے تو ان کے کہنے سے مذکورہ معاشرہ مکمل اسلامی معاشرہ نہیں کہلایا جا سکتا۔ ڈاکٹر صاحب نے بہن جی سے کہا کہ آپ کے سوال میں تضاد ہے آپ ایک طرف کہہ رہی ہو کہ آپ کا معاشرہ مکمل اسلامی معاشرہ ہے اور دوسری طرف آپ گویا ہو کہ آپ کے معاشرے میں بچوں سے زنا، نشہ اور سود عام ہیں حتی کہ مذکورہ جرائم آپ کے معاشرے کے جڑوں میں پیوست ہیں ایک مکمل اسلامی معاشرہ اور مذکورہ برے افعال عمومی طور ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور ایک مکمل اسلامی معاشرے کی جڑوں میں مذکورہ جرائم شامل نہیں ہوا کرتے اور نا ہی ایک مکمل اسلامی معاشرہ مذکورہ قبیح جرائم پر کھڑا ہوتا ہے اور نہ ایک مکمل اسلامی معاشرے میں مذکورہ قبیح جرائم عمومی طور پر پنپ سکتے ہیں۔
مختصراً یا تو آپ کے ہاں مذکورہ قبیح جرائم عمومی اور تواتر سے نہیں ہو رہے یا آپ کا معاشرہ مکمل اسلامی نہیں ہے۔
سماجی برائیاں ہر معاشرے میں ہوا کرتی ہیں حتی کہ مذکورہ دونوں جرائم خلفائے راشدین کے دور میں بھی سر زد ہوئے ہیں، آج کل بھی اسلامی معاشروں میں مختلف شکلوں میں ہوتے رہے ہیں اور اگر ایک مکمل اسلامی معاشرہ قائم ہو بھی جائے تو بھی ان جیسے جرائم ہوتے رہیں گے لیکن ایک مکمل اسلامی معاشرے کی جڑیں مذکورہ جرائم پر ہر گز استوار نہیں ہوا کرتے بلکہ مکمل اسلامی معاشرے میں بڑی حد تک ان جرائم کا سد باب کیا جاتا ہے۔ انسانی فطرت، مختلف ادوار میں مختلف معاشروں اور مذکورہ جرائم کا صدیوں سے ایک دوسرے سے تعلق رہا ہے اسی لئے اللہ تعالٰی نے اپنے کتاب قرآن میں مختلف سماجی برائیوں کے سدباب کے لئے مختلف سزائیں متعارف کرائیں۔
خیال رہے کہ ایک مکمل اسلامی معاشرے میں مذکورہ برے افعال/جرائم ایک مہذب معاشرے کی طرح کم مقدار میں سر زد ہوتے ہیں اور جہاں یہ وافر مقدار میں عمومی طور پر سر زد ہو رہے ہو اور مزید پنپ رہے ہو تو اس جیسا معاشرہ اسلامی معاشرہ نہیں کہلایا جا سکتا۔
دکھ تب ہوا جب سماجی رابطوں کے سائٹس پر بعض بائیں بازو اور پشتون قوم پرست قبیل کے سنجیدہ لکھاریوں کے مذکورہ موضوع کے بارے میں انتہائی غیر منطقی تحریریں نظر سے گزریں جہاں دلیل کے بجائے محض الفاظ کے چناؤ اور تنقید برائے تنقید کو ہی ترجیح دے گئی تھیں۔
معاشرے کے بگاڑ میں مذہبی جنونی اور بائیں بازو کے غیر منطقی لکھاری ایک دوسرے کے شراکت دار ہے۔
اپنے دیس کے منفرد دانشور لکھاری یاسر پیرزادہ نے ”دو انتہا پسند طبقے“ کے نام سے کیا خوب کالم کھینچا تھا۔


