ذاکر نائیک اور کچھ باتیں
کچھ دن قبل ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان آئے ہوئے تھے انہوں نے ملک کے مختلف شہروں میں تقاریر کیں۔ وہ یہاں پر ریاست کے مہمان کی حیثیت سے آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا
بیٹا بھی آیا ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے جو تقاریر کیں اور پوچھے گئے سوالات پر انہوں نے جو جوابات دیے اس پر کافی تنقید ہو رہی ہے اس پر کچھ اپنی رائے ہم بھی رکھتے ہیں۔
سب سے پہلے آتے ہیں اپنی ریاست کی طرف کہ اس کی ترجیحات کیا ہیں؟ آخر ریاست کو یہ ضرورت کیوں پیش آئی کہ ذاکر نائیک جیسے مذہبی عالم کو اپنے مہمان کے طور پر دعوت دی اس کی وجہ بہت سیدھی سادھی ہے ریاست عوام کو مذہب کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اپنے خلاف ہونے والی مزاحمت اور جدید سائنسی افکار اور غور و فکر کا راستہ روکنا چاہتی ہے۔ اس ریاست کی ترجیح عوامی فلاح، سائنسی علوم کی ترویج اور ٹیکنالوجی کا فروغ نہیں بلکہ مذہبی جنونیت، جہالت، مذہب کے نام پر غیر سائنسی لٹریچر کی ترویج اور ایک مخصوص طبقے کے لئے سہولیات پیدا کرنا ہے۔
ذاکر نائیک دین کے مبلغ اور اسکالر ہیں جن سے یہ امید رکھی گئی کہ وہ پاکستانی علماء سے مختلف ہوں گے مگر انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ مولوی مولوی ہی ہوتا ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک یا خطے سے ہو وہ اپنے جوہر میں تنگ نظر، قدامت پسند، عورت دشمن اور ریاستی دلال ہوتا ہے۔ جب ان سے یتیم بچیوں کو ایوارڈ دینے کا کہا گیا تو انہوں نے وہ ہی ”نا محرم“ والی بات دہرائی جسے ہمارے یہاں چھوٹے سے گاؤں اور قصبوں کے مولوی پچھلے سات دہائیوں سے دہرا رہے ہیں اس سے یہ واضح ہوا کہ مولوی لوکل سطح کا یا انٹرنیشنل سطح کا وہ اپنے اندر عورت دشمن ہی ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر ان معصوم یتیم بچیوں کو جن پر اپنے والدین کی شفقت کا ہاتھ نہیں کچھ پل ہی سہی پر ڈاکٹر صاحب ان پر والد کی حیثیت سے شفقت کا ہاتھ رکھتا تو ان بچیوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ جاتے۔ مگر مولوی تو انسانی خوشی کا دشمن ہے وہ ایسا کیوں کرے گا؟
ریاست نے ان کی آرائش کے لئے کروڑوں روپے خرچ کیے انہیں مکمل پروٹوکول دیا، ان کے کھانے پینے پر لاکھوں روپے لٹا دیے اور اس کے رہنے کا انتظام سیون اسٹار ہوٹلوں میں کیا مگر اس شخص نے جس پر اس ریاست نے کروڑوں روپے خرچ کیے اسی ریاست کے ایک ادارے (پی آئی اے) کی شکایت کی اور وہ شکایت بھی ناجائز۔ کیا ایسا شخص جو یوں اپنے میزبان کا گلہ کرے وہ ہمیں دین کی اصل تعلیم دے سکتا ہے؟ بالکل نہیں۔ ہم امید کرتے ہیں ہماری ریاست اگلی بار ایسے لوگوں پر عوام کے پیسے ضائع نہیں کرے گی۔


