روماسہ جامی: ریاستی جبر کا نشانہ بننے والی ایک باوقار شہری


تصویر میں جو ظلم اور بربریت کا نشانہ بن رہی ہے، یہ کوئی اور نہیں بلکہ روماسہ جامی ہے۔ ایک پڑھی لکھی، نجیب الاصل اور شائستہ خاتون، جن کا وقار اور متانت ہر اس شخص کے دل میں احترام پیدا کرتا ہے جو ان سے ملتا ہے۔ ہم نے کچھ وقت ایک ہی ادارے میں اکٹھے خدمات سرانجام دیں، جہاں ان کی نرم گفتاری، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی وقار کا خیال رکھنے والی طبیعت نے ان کے ارد گرد کے ماحول کو خوشگوار بنا دیا تھا۔ لیکن کل، جب وہ کراچی میں ایک پرامن احتجاج میں شریک تھیں، تو ریاستی طاقت نے ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا، وہ دلوں کو دہلا دینے والا اور انسانیت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔

روماسہ جامی وہ خاتون ہیں جو عزت اور وقار کی علامت ہیں۔ وہ ایسی شخصیت ہیں جو اپنے کام سے کام رکھتی ہیں اور ہمیشہ انکساری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ کل اگر ان سے محض یہ کہا جاتا کہ ”آئیے، ہمارے ساتھ تھانے چلیں“ ، تو وہ بغیر کسی مزاحمت کے چلی جاتیں۔ لیکن افسوس، ریاست پاکستان، جو اپنے شہریوں کی حفاظت اور عزت و وقار کی ضامن ہونی چاہیے، آج طاقت کے نشے میں مدہوش ہو کر خود انہی شہریوں کی عزت نفس کو خاک میں ملا رہی ہے۔

یہ وہی ریاست ہے جو اپنے آئین میں شہریوں کو اجتماع اور آزادیِ اظہار کا حق دیتی ہے۔ مگر جب شہری ان حقوق کا استعمال کرتے ہوئے احتجاج کرنے نکلتے ہیں، تو انہیں ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیا روماسہ جامی جیسی مہذب، تعلیم یافتہ اور باوقار خواتین کو اس قسم کے سلوک کا مستحق ہونا چاہیے؟ کیا احتجاج میں شریک ہونے والوں کو اس بے رحمی اور بے دردی سے کچلنا ضروری تھا؟ یہ کیسا اندھیر نگری کا نظام ہے جہاں دلیل، مکالمے اور انصاف کی جگہ طاقت اور جبر نے لے لی ہے؟

ریاست پاکستان اس وقت جس راہ پر گامزن ہے، وہ نا انصافی، ظلم اور جبر کی اندھیری گلیوں کی طرف لے جا رہی ہے۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے ہی لوگوں کی عزت نفس اور بنیادی حقوق کو پاؤں تلے روندتی ہے، وہ نہ صرف اپنی آئینی ذمہ داریوں سے غافل ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی شکست خوردہ ہے۔ ایسی ریاست میں شہریوں کی حیثیت، ان کے حقوق اور ان کی عزت کو محفوظ رکھنے کی کوئی ضمانت نہیں۔

روماسہ جامی کا یہ واقعہ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس پورے نظام کے بگاڑ اور ریاستی مشینری کی بے حسی کا آئینہ دار ہے۔ آج اگر ہم اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے، تو ہر شہری، چاہے وہ کتنا ہی باعزت، شریف یا تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو، اسی ریاستی جبر کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنے حقوق اور عزت کی حفاظت کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل کوئی اور روماسہ، کسی اور گلی میں، اسی بے رحمی کا شکار ہو سکتی ہے۔

ریاستی جبر کی یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنی آنکھیں اور زبانیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔ جمہوریت، انصاف اور انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ہر فرد کو آواز بلند کرنا ہوگی، ورنہ ظلم کا یہ پہیہ کبھی رکے گا نہیں۔ روماسہ جامی جیسی باوقار خواتین کا اس ریاست میں یہ انجام اس بات کی گواہی ہے کہ ہمیں خود کو اس نا انصافی کے خلاف منظم کرنا ہو گا، ورنہ یہ نظام ہمیں یکے بعد دیگرے کچلتا چلا جائے گا۔

ستم کی رسمیں بہت تھیں، مگر یہ رسمِ جفا
ہمیں تو زندگی نے نئے طریقے دیے ہیں

Facebook Comments HS