پاکستان کو فلاحی ریاست کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
فلاحی ریاست سے کیا مراد ہے؟ کیا پاکستان فلاحی ریاست ہے؟ اگر نہیں تو کیا یہ ایک فلاحی ریاست بن سکتا ہے؟ ایک فلاحی ریاست کے خدو خال کیسے ہونے ہونے چاہئیں؟ پاکستان کے موجودہ جمہوری نظام میں رہتے ہوئے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ اس تحریر میں ہم ان تمام سوالوں اور اس موضوع سے متعلق دیگر سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کریں گے
کوئی بھی معاشرہ مثالی اور ہر لحاظ سے یکساں نہیں ہو سکتا ، اس میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ امیر، غریب، برسرِ روزگار، بے روزگار، عمر رسیدہ لوگ، طالب علم، گھر میں بیٹھنے والی خواتین، عارضی کارکن، چھوٹے کاروباری لوگ، بے گھر، سماج کے پچھڑے اور ٹھکرائے ہوئے لوگ وغیرہ۔ اور یہی کچھ تمام معاشروں میں سماجی ناہمواری کی بنیادی وجہ ہے، چاہے وہ امیر ترین ممالک ہوں یا تیسری دنیا کے غریب ترین ممالک، امیر ممالک میں بھی بدترین غربت پائی جاتی ہے اور غریب ممالک میں بھی متمول ترین طبقہ ہوتا ہے۔
وہ لوگ جو امیر ہیں، وسائل رکھتے ہیں اور جن کو عزت و احترام نصیب ہے، وہ اس صورتِ حال سے مطمئن رہتے ہیں اور اسے ایسا ہی رکھنا اور دیکھنا چاہتے ہیں یعنی ( سٹیٹس کوو) کے قائل ہیں۔ کم وسیلہ، غریب اور بے بس لوگ اس صورتِ حال سے دل برداشتہ ہوتے ہیں اور اسے بدلنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اسے یوٹوپین سوچ کہا جاتا ہے۔
عوام اپنے سماجی مسائل اور ان سے جڑے ہوئے مالی اور معاشی مسائل کے حل کے لئے حکومت کی طرف ہی دیکھتے ہیں، اور حکومت کے لئے ان مسائل کا حل اس کی اپنی سوشل پالیسی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ہر ملک کو سماجی مسائل سے احسن طریقے سے عہدہ برا ہونے کے لئے ایک کثیرالجہتی اور عوامی امنگوں کے مطابق ایک اچھی سماجی فلاح و بہبود کی پالیسی کی ضرورت ہوتی ہے، چاہے وہ ترقی ترقی یافتہ ملک ہو یا تیسری دنیا کا کوئی غریب ملک۔ سوشل پالیسی، سماجی ترجیحات کی ایک بڑی تصویر پیش کرتی ہے اور سماجی انصاف، مساوات، انسانی حقوق اور ماحولیات جیسے معاملات کا بھی احاطہ کرتی ہے۔
پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور یہاں کی ایک کثیر آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہی ہے۔ اس عنوان سے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ دیکھا جائے تو فلاحی ریاست کا تصور ہر قسم کے سیاسی، علاقائی، دینی، لسانی، صوبائی اور دیگر تعصبات سے پاک ہے اور اس عنوان سے عوامی سطح پر فلاحی ریاست کے تصور کی پذیرائی کے امکانات بہت زیادہ ہیں
فلاحی معاشرہ کا بنیادی مقصد ایک ایسے معاشرہ سے ہے جس میں تمام لوگوں کو بنیادی ضروریات بشمول خوراک، چھت، علاج معالجہ کی سہولت حاصل ہو۔ اگر یہ سب کچھ ممکن نہ بھی ہو تو کم از کم مستحق افراد کی آمدنی اتنی ہو جس سے وہ دو وقت کی روٹی اور بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ کینیڈا، جرمنی، فرانس، بیلجیئم، نیدرلینڈ، سویڈن، ناروے، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ وغیرہ کامیاب فلاحی ریاستوں کی مثالیں ہیں۔ اگر ممکن ہوا تو کسی اور وقت ہم کینیڈا کی فلاحی ریاست کا ماڈل پیش کریں گے
فلاحی ریاست کے مالی نظام میں حکومت کی آمدنی کا انحصار ٹیکسوں اور دیگر محصولات پر ہوتا ہے۔ اور یہی آمدنی شہریوں کی فلاح و بہبود کے پروگراموں اور انفراسٹرکچر کی ترقّی پر خرچ کی جاتی ہے۔ دنیا میں ہر کامیاب فلاحی ریاست کی بنیاد جمہوریت پر قائم ہوتی ہے۔
پاکستان۔ ایک فلاحی ریاست
کیا ہم پاکستان کوایک فلاحی ریاست کہہ سکتے ہیں؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ فی الحال تو پاکستان ایک فلاحی ریاست کی تعریف پر پورا نہیں اترتا لیکن پاکستان کو ایک ایسی فلاحی ریاست بنانا ممکن ہے جس میں پہلے مرحلے میں پسے ہوئے اور مجبور طبقوں کی مالی اعانت ممکن ہو سکے۔ یوں تو اس وقت حکومتی سکولوں اور ہسپتالوں میں خدمات مفت ہیں لیکن ان کا کیا معیار ہے سب ہی جانتے ہیں۔ اسی طرح گورنمنٹ کے ریٹائرڈ ملازمین کے لئے تو پینشن ہے لیکن دوسرے سینیئرز کے لئے پینشن کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ غریبوں کی مالی امداد کے لئے بیت المال بھی موجود ہے لیکن اس کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔
دنیا کے بے شمار ممالک اپنے کم آمدنی والے طبقات کے لیے مختلف فلاحی پروگرام بہت عرصے سے کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتی سطح پر کوئی فلاحی پروگرام موجود نہیں۔ احساس پروگرام اور بے نظیر سپورٹ پروگرام سیاسی پارٹیوں کا ایجنڈا ہوتے ہو جو اقتدار سے بے دخل ہونے بعد بھلا دیے جاتے ہیں۔ عوام کو لبھانے اور سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے سماجی فلاح کا کوئی اور نیا پروگرام منظر عام پرلے آ یا جاتا ہے اور یوں دائروں کا سفر جاری رہتا ہے۔
اسی عنوان سے جب حکومت نے احساس پروگرام کے تحت امدادی رقوم کی فراہمی کا اعلان کیا تو سب سے بڑا مسئلہ یہ سامنے آ یا کہ کوئی بھی ایسا ڈیٹا موجود نہیں ہے جس سے لوگوں کی غریبی یا آمدنی کا پتہ چلایا جا سکے۔ لوگوں تک جلد سے جلد امدادی رقوم پہنچانے کے لئے جو طریقہ اختیار کیا گیا اس میں بھی شفافیت کا فقدان تھا۔ پھر صوبوں کو جو رقوم فراہم کی گئی ان کا تو کچھ پتہ نہ ہی نہ چل سکا کہ کس کو کیا ملا۔
فلاحی ریاست کا اصول بہت سادہ ہوتا ہے، اس کے مطابق جو لوگ زیادہ کماتے ان سے ٹیکس لیا جائے اور اس ٹیکس کا ایک معقول حصہ ان لوگوں پر خرچ کیا جائے جو ضرورت مند ہیں۔
پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے اور ریاست کی آمدنی میں اضافے کے لے انکم ٹیکس کے دائرے میں وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
1۔ ملک کی تمام آبادی کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے۔
2۔ قابل ٹیکس آمدنی والوں سے ٹیکس وصول کیا جائے۔
3۔ اس وصول شدہ ٹیکس کا ایک حصہ ان مستحق افراد پر خرچ کیا جن کی کوئی آمدنی نہیں ہے یا آمدنی کم ہے
ہماری رائے میں یہ سب کچھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہی ممکن ہے۔ ٹیکس کی وصولی اور مستحق لوگوں میں رقوم کی تقسیم کے لیے طریقہ کا رکی شفافیت اور حکومتی کارندوں کے صوابدیدی اختیارات سے پاک ہونا ضروری ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی۔ پاکستان کا مستقبل
ہمارے نقطہ نظر سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہی پاکستان کا مستقبل ہے جو پاکستان کو ایک ایسی فلاحی ریاست میں تبدیل کر سکتی ہے جس میں بے کس اور مجبور لوگوں کو اپنی عزت نفس قربان کیے بغیر سرکاری خزانے سے مالی معاونت مستقل بلا روک ٹوک ملے اور دوسری جانب حکومتی ٹیکس آمدنی میں حقیقی اور خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے سسٹم میں کرپٹ سیاستدان اور رشوت خور انتظامیہ کا عمل دخل کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے بہت سے قارئین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو یہ کہہ کر رد کر دیں گے کہ جس ملک میں بجلی گھنٹوں گھنٹوں غائب ہو جاتی ہے، نہ بلب جلتے ہیں، نہ پنکھا چلتا ہے اس میں ڈیجیٹل سسٹم کی بات کرنا حقائق سے نظر چرانے کے مترادف ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری گزارش صرف یہ ہے کہ بجلی گھنٹوں غائب ہونے کے باوجود بینکوں میں کمپیوٹر سے کام ہو رہا ہے، اے ٹی ایم مشینیں چل رہی ہیں، ائر لائنوں کے رزرویشن ہو رہے ہیں، عوام سیل فون کا استعمال کر رہیں تو اس صورت حال میں انکم ٹیکس وصولی کے لئے ڈیجیٹل سسٹم کی بھی جگہ بنتی ہے۔
کثیر المقاصد۔ خود تشخیصی مالی معاونتی پروگرام
پاکستان میں فرسودہ انکم ٹیکس کے نظام، کرپشن اور صوابدیدی اختیارات کی وجہ سے انکم ٹیکس کی وصولی میں بے شمار دشواریاں حائل ہیں۔ وہ لوگ جو ایمانداری سے ٹیکس دینا بھی چاہیں، موجودہ سسٹم کی وجہ سے رشوت دینے پر مجبور ہیں یا ٹیکس نظام سے باہر رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ ایف بی آر نئے ٹیکس دہندگان کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے لیکن ہمیشہ ناکام رہتا ہے کہ اس کے پاس ٹیکس دہندگان کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں۔
اس وقت پاکستان میں 2.74 ملین لوگ ٹیکس فائل کرتے ہیں جو کہ پاکستان کی آبادی کا فقط 1.3 فیصد ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 35 فیصد انفرادی ٹیکس فائل کرنے والے صفر ٹیکس فائل کرتے ہیں کہ 50 ہزار روپے سے کم آمدنی پر صفر ٹیکس ہے۔ بقول ایک سابق وزیر اعظم صرف ایک فیصد ٹیکس دہندگان 22 کروڑ افراد کا بوجھ اٹھا رہے ہیں
پاکستان میں ٹیکس دہندگان کے دائرے میں وسعت اور انکم ٹیکس دینے والوں کے مصدق ڈیٹا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک سادہ خود تشخیصی اور کثیر الجہتی حل پیش خدمت ہے۔
موجودہ سسٹم میں انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کو خصوصی انکم ٹیکس نمبر الاٹ کیا جاتا ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ خصوصی انکم ٹیکس نمبر کے بجائے قوم شناختی کارڈ کے نمبر سے ہی انفرادی ٹیکس جمع کرنے کا نظام وضع کیا جائے اور ہر بالغ پاکستانی شہری کو سالانہ انکم ٹیکس فائل کرنے کا پابند کیا جائے۔ خوش قسمتی سے پاکستان میں شناختی کارڈز کا بہت اچھا کمپیوٹرائزڈ نظام موجود ہے۔ ہر شخص کے پاس شناختی کارڈ موجود ہے۔
انکم ٹیکس کے لیے الگ سے انکم ٹیکس نمبر الاٹ کرنے کے بجائے، شناختی کارڈ کے نمبر کو ہی انکم ٹیکس نمبر تصور کیا جائے۔ یہ بات گزشتہ عبوری حکومت میں اس وقت کے وزیر خزانہ تجویز کر چکے ہیں۔ اس کے بے شمار فائدے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ تو یہی کہ لوگوں کو انفرادی طور پر انکم ٹیکس نمبر الاٹ کرانے کے انکم ٹیکس آفس کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے اور سرکار کے پاس انکم ٹیکس دینے والوں کا مصدقہ ڈیٹا خود بخود اکٹھا ہو جائے
1۔ سرکاری اداروں پر ٹیکس دہندگان کو ڈھونڈنے کی ذمہ داری ڈالنے کے بجائے 18 سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ہر سال انفرادی طور پر سالانہ ٹیکس گوشوارے داخل کرنا لازمی قرار دیا جائے اور نا دہندگان پر جرمانہ کیا جائے
2۔ انکم ٹیکس نمبر کا طریقہ کار ختم کر کے قومی شناختی کارڈ نمبر کو ہی انکم ٹیکس نمبر قرار دیا جائے
3۔ انفرادی انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے عمل کو پوری طرح کمپیوٹرائزڈ کیا جائے
4۔ صفر آمدنی یا 50 ہزار سالانہ سے کم آمدنی رکھنے والوں گوشوارے جمع کرانے پر نقد اور فوری مالی اعانت فراہم کی جائے۔
لازمی انکم ٹیکس گوشوارے۔
18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ہر سال اپنا انکم ٹیکس کے گوشوارے داخل کر نا لازمی قرار دیا جائے چاہے ان کی آمدنی صفر ہی کیوں نہ ہو۔ نا دہندگان پر جرمانہ عائد کیا جائے
انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کا طریقہ کار
آج کل پاکستان میں تقریباً ہر گھرانے کو سیل فون تک رسائی حاصل ہے۔ صفر آمدنی یا کم آمدنی والوں کے لیے جن کو سرکار سے پیسے واپس ملنے ہیں، ان کے ہے انکم ٹیکس کا گوشوارہ کا ایک سادہ الیکٹرانک فارم ہو گا۔ جس کو سیل فون کے ذریعے، اپنی آئی ڈی کارڈ کی سیل فون ایمیج کے ساتھ ایف بی آر کو بھیج دیا جائے گا۔ ایف بی آر کو کمپیوٹر سسٹم فارم کے موصول ہوتے ہی بھیجنے والے کو رسید مل جائے گی اور ایک محدود وقت میں سرکاری مالی معاونت کی رقم ان کے بنک اکاؤنٹ میں جمع ہو جائے گی۔ تاہم جو لوگ اپنے گوشوارے خود سے نہیں بھر سکتے، وہ سند یافتہ افراد سے مفت مدد لے سکتے ہیں۔
انکم ٹیکس گوشوارے۔ بھرنے میں کون مدد کر سکے گا؟
انکم ٹیکس گوشوارے۔ بھرنے میں سند یافتہ لوگوں کی مدد کے لئے ایف بی آئی کی طرف سے ایک آن لائن ٹریننگ پروگرام کا اجرا کیا جائے جو شرکاء کو آن لائن ٹیکس گوشوارے بھرنے کی مکمل تربیت فراہم کرے۔ اس ٹریننگ پروگرام کی کامیاب تکمیل پر شرکاء کو سند جاری کی جائے گی۔ کامیاب شرکاء خود کو سرکار کے پاس بطور آن لائن ٹیکس کنسلٹنٹ رجسٹر کرا سکیں گے۔ یوں ایک لاکھ کے قریب نوجوانوں اور پڑھے لکھے افراد کے لیے معقول آمدنی کے امکانات روشن ہو جائیں گے
اس پروگرام میں حصہ لینے والوں کی کم از کم قابلیت گریجویشن اور کمپیوٹر کے استعمال میں مہارت، نوجوانوں اور خواتین کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ان کے لیے روزی اور روزگار کے مواقع مہیا ہو سکیں۔ یہ فارغ التحصیل افراد حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہوں گے اور عام لوگ جو اپنے گوشوارے بذریعہ سیل فون خود جمع نہیں کر سکتے، ان کے ان لائن انکم ٹیکس گوشوارے جمع کر سکیں گے۔ انہیں گوشوارے بھرنے کی فیس ( 500 روپے فی گوشوارہ) سرکار ادا کرے گی۔
فلاحی پروگرام
ہمارے اس پروپوزل کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے ایسے سماجی پروگرام ریاستی نظام کا ایک مستقل حصہ ہوں اور آنے جانے والی حکومتوں سے ان پروگراموں پر کوئی فرق نہ پڑے۔ جن کی آمدنی کم ہے یا نہیں انہیں انکم ٹیکس فائل کرنے پر چائلڈ ٹیکس سپورٹ، بے روزگاری الاؤنس یا سینئر پینشن کی نقد مراعات دی جائیں جو مندرجہ ذیل ہیں
کم آمدنی والوں کے لیے مالی اعانت
اس وقت سرکار کی طرف سے 50 ہزار یا اس سے کم سالانہ آمدنی پر کوئی انکم ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ ہماری تجویز ہے کہبے روزگار یا کم آمدنی والوں کو انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے پر نقد مراعات دی جائیں تاکہ کم آمدنی والے لوگ بخوشی سسٹم کا حصہ بن جائیں اور سرکار کے مصدقہ ڈیٹا میں اضافہ ہو۔
50 ہزار سالانہ سے کم آمدنی والے کو آمدنی کا گوشوارہ داخل کرنے پر 3 ہزار روپے کی یکمشت ادائیگی کی جائے
چائلڈ ٹیکس سپورٹ
پہلے بچے پر کم آمدنی والوں کو ایک ہزار ماہانہ، دو بچوں پر ڈیڑھ ہزار ماہانہ اور دو سے زیادہ ہر بچے کی پیدائش پر تین سو روپے کا اضافہ۔ چونکہ ہر نومولود کا برتھ سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ بنتا ہے اس لیے ہیرا پھیری کی گنجائش کم سے کم ہے
سینئرز کے لیے پنشن
60 سال کی عمر سے شروع ہونے والی پینشن 5 ہزار روپے ماہانہ سنگل کے لیے اور جوڑے کے لیے 7 ہزار ماہانہ مقرر کی جائے۔
یتیم، بیواؤں اور معذوروں کے لیے وظیفہ 5 ہزار ماہانہ وظیفہ
پیش کردہ تجویز کا خلاصہ
اس ساری مشق کا خلاصہ یہ ہے کہ اب تک پاکستان میں انکم ٹیکس دینے کی تعداد جو کل آبادی کا 1.4 فیصد ہے، اگر خود تشخیصی کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت 5 فیصد بھی پہنچ جاتی ہے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہو گی۔ ایکسٹرا 4 فیصد ٹیکس دینے والوں سے جو رقم وصول ہو گی اگر اس کا 2 فیصد بھی کم آمدنی یا آمدنی نہ رکھنے والوں میں حکومت کی طرف سے مختلف فلاحی مقاصد کے تحت تقسیم بھی ہو جائے تو غریبوں اور ناداروں کا بھلا بھی ہو جائے گا اور سرکار کے خزانے میں دیگر کاموں کی لئے کافی رقم بھی مہیا ہو جائے گی۔
ہماری تجویز کردہ مالی مراعات کی رقم نفسِ مضمون کو عملی انداز میں بہتر طریقے سے سمجھانے کے لئے استعمال کی گئی ہیں۔ وہ تمام لوگ جو مالی معاملات اور اکاؤنٹنگ میں مہارت رکھتے ہیں مناسب رد و بدل تجویز کر سکتے ہیں۔
ٹھنک ٹینک
ہمارے حساب سے یہ ایک ابتدائی خاکہ ہے اور اس کو بہتر بنانے کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔ اس خاکہ کو بہتر بنانے اور عملی شکل دینے کے لئے ہم ایک تھنک ٹینک بنانے کی تجویز بھی پیش کر رہے ہیں۔ وہ تمام دوست جو خود تشخیصی انکم ٹیکس نظام میں دلچسپی رکھتے اور اس خاکہ کی نوک پلک سنوارنا چاہتے ہیں، مل بیٹھ کر اس پر کام کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو اس تھنک ٹینک
کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں مطلع کریں تاکہ آپ کا نام اس تھنک ٹینک میں شامل کیا جائے۔
۔

