سندھ رواداری مارچ کی روک تھام اور ریاست کی ترجیح
مذہب کی توہین کے جھوٹے اور بے بنیاد الزام کے نام پر قتل کیے گئے ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کے ناجائز قتل اور ریاست کی پشت پناہی میں سندھ میں بڑھنے والی مذہبی انتہاپسندی کے خلاف کراچی میں ”سندھ رواداری مارچ“ کا انعقاد کیا گیا جس میں سندھ کے ترقی پسند اور قوم پرست سیاسی جماعتوں، ادیبوں، شاعروں، شاگردوں اور باشعور لوگوں کی جانب سے پرامن طریقے سے تین تلوار چوک سے پریس کلب کراچی تک ریلی نکالی گئی ریلی میں خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ جب یہ ریلی پریس کلب پہنچی تو پولیس کی جانب سے اس پر بے رحمی اور بے دردی سے تشدد کیا گیا۔ خواتین اور بزرگ شہریوں کو رستوں پر گھسیٹا گیا جن میں ادیب اور شاعر بھی موجود تھے۔
سوشل میڈیا پر جب یہ تصاویر اور وڈیوز شیئر ہوئیں جس میں رواداری، مذہبی شدت پسندی سے پاک سندھ اور سندھ کی سیکولر شناخت کو مسخ نہ کرنے کے مطالبات کرنے والوں پر پولیس بے رحمی سے تشدد کر رہی ہے تو باشعور لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال شدت سے ابھر رہا تھا کہ آخر ریاست کیا چاہتی ہے اور اس کی ترجیح کیا ہے؟ کیا ریاست یہ چاہتی ہے کہ ملک ان مذہبی جنونیوں کے حوالے کر دیا جائے جو جب چاہیں تو کسی بھی انسان کو مذہب کے نام پر قتل کر دیں۔ یہ مذہبی شدت پسند لوگ اپنی ذاتی رنجشوں کے بنیاد پر اپنے مخالفین پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں مگر ریاست اس پر کوئی ایکشن نہیں لیتی الٹا متاثرہ شخص کے گھر والوں کو ہراس کیا جاتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے لئے راستے تنگ کیے جا رہے ہیں عوام کو سیاسی جماعتوں سے جڑنے کے لئے روکا جا رہا ہے ادبی اور فکری پروگرام کرنے کی اجازت نہیں مگر بڑھتی ہوئی مذہبی جماعتوں اور مدارس پر ریاست کو کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ مذہبی جماعتیں، مدارس نامی فیکٹریاں کھول کر معاشرے کی رگوں میں جو زہر پھیلا رہی ہیں جس کی لپیٹ میں آج سندھ ہے۔ جبکہ دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ سندھ کے عوام میں مذہب کے نام پر نفرت پیدا کر کے سندھ کی سیکولر اور روادار ثقافت کا چہرہ مسخ کرنے کے لئے۔
یہ ریاست جس نے عالمی سرمایہ دارانہ قوتوں کے کہنے پر مذہبی شدت پسندی کو ملک کے کونے کونے میں پھیلا دیا جس کا اصل مقصد تو سوویت روس کی سوشلسٹ حکومت کا خاتمہ تھا۔ روس کی وہ سوشلسٹ حکومت تو ختم ہو گئی مگر اس ریاست نے شدت پسندوں کے سروں پر سے اپنی شفقت کا ہاتھ نہیں اٹھایا بلکہ مسلسل ابھی تک ان کی سرپرستی کر رہی ہے۔ پاکستانی عوام کا ایسے ریاستی عوامل سے بہت نقصان ہوا ہے یہ نقصان جہاں جانی بھی ہے تو وہاں معاشی، سیاسی اور سفارشی نقصان بھی ہے۔ مذہبی شدت پسندوں اور دہشتگردوں کی سرپرستی کے الزام پر پاکستان سفارتی سطح پر دنیا میں تنہائی کا شکار بھی دکھائی دیتا ہے۔
اگر ریاست چاہتی ہے کہ مذہبی شدت پسندوں اور دہشتگردوں کی سرپرستی اور پرورش کا اس کے سر پر جو الزام ہے وہ اتر جائے تو ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کے قاتلوں کو گرفتار کر کے انہیں سزائیں دی جائیں اور رواداری مارچ کرنے والوں پر جو تشدد ہوا اس کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ دوسرا یہ کہ آئندہ شدت پسندوں کی سرپرستی کرنا چھوڑ دے۔


