پِیٹھ پر کھائی لاٹھی کا دکھ


 

”امن جی دھرتی امن تھی چاہے“ ”امن زندہ باد رواداری زندہ باد“ کے نعرے اچانک چیخ و پکار میں بدل گئے کراچی پریس کلب کے سامنے لاٹھیاں چلنے لگیں۔ گریباں چاک ہونے لگے۔ سروں سے لہو رسنے لگا۔

امن اور رواداری کی بات کرنے والوں سے حکومت اور نظام کو خطرہ لاحق ہو گیا۔

پولیس اہلکار پُر امن مارچ کے شرکاء سول سوسائٹی ورکرز کو گریبانوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر لاٹھیاں اور مکے برسا کر پولیس موبائلوں میں دھنسنے لگے۔

میں انجانے خوف میں مبتلا ہو گیا کہ اس تشدد دھکم پیل افراتفری میں کہیں اسمارہ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے۔ اور خدانخواستہ وہ پولیس کے بوٹوں تلے نہ روندی جائے۔

میں نے اسمارہ کو اپنی گود میں اٹھایا اور کسی محفوظ کونے کی طرف بھاگنے لگا مگر مجھے کوئی کونا محفوظ نظر نہیں آ رہا تھا۔

اچانک میری پیٹھ پر ایک زور کی لاٹھی پڑی اسمارہ میری گود سے گرنے ہی والی تھی کہ میں نے خود کو اور اسمارہ کو سنبھال کر پریس کلب گیٹ کے مخالف سمت والی دکانوں کے برآمدے میں بھاگ کر پناہ لی۔

”بابا آپ بھاگ کیوں رہے ہیں“
”میں بھاگ نہیں رہا جاناں آپ کی حفاظت کر رہا ہوں“
میں نے پھولی ہوئی سانس سے بمشکل اسمارہ کو جواب دیا۔

اسمارہ میری پانچ سالا بیٹی ہے میں اسمارہ کو لے کر سندھ رواداری مارچ میں ایک عام فرد کی حیثیت سے امن اور رواداری کے لئے مذہبی انتہا پسندی ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے ماورائے عدالت قتل اور اس قتل کے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرنے والے باشعور ترقی پسند انسانی حقوق کے ارکان فنکاروں قلمکاروں ادیبوں شاعروں پڑھے لکھے لوگوں سماج کے متحرک افراد کے مارچ میں ایک فرد کا اضافہ کرنے اور حق کے لئے امن کے لئے رواداری کے لئے اپنا حصا ملانے آیا تھا۔

میں ایسی کئی مارچ تقریبات پروٹیسٹ اور جلسے جلوسوں میں ایک ادنیٰ گمنام فرد کی حیثیت سے اپنا حصا شامل کرنے چلا جاتا ہوں۔

اس رواداری مارچ کے پر امن ہونے کا اتنا کامل یقین تھا مجھے کہ میں اپنی پانچ سالہ بیٹی کو لے کر شریک ہوا تھا۔ یا اتنا احمق تھا کہ حکومت کے روایتی ہتھ کنڈوں کو بھانپنے سے غافل رہا۔
”بابا پولیس والے اس انکل کو کیوں مار رہے ہیں“
اسمارہ نے سہمے ہوئے لہجے میں مجھ سے پوچھا

میں نے اس طرف دیکھا جہاں دیکھتے اسمارہ نے مجھ سے سوال کیا تھا کچھ پولیس اہلکار کامریڈ بخشل تھلہو پر لاٹھیاں برساتے گریبان سے پکڑ کر پولیس موبائل کی طرف گھسیٹتے لے جا رہے تھے۔ قاضی خضر اور ناصر منصور ان کو تشدد سے بچانے کے لئے آگے آئے تو ایک اہلکار نے قاضی خضر کے سر پر پوری طاقت کے ساتھ لاٹھی دے ماری۔

اور ناصر منصور کو دھکے مار رہے تھے۔

”اس لئے کہ یہ امن کی بات کرتے ہیں رواداری کی بات کرتے ہیں انصاف کی بات کرتے ہیں حق کی بات کرتے ہیں“

میں نے اسمارہ کو جواب دیا

پریس کلب کی دیوار کے دوسرے کونے کے قریب کچھ مرد و خواتین پولیس اہلکار سندھو نواز گھانگھرو کو ٹانگوں سے پکڑ کر پولیس وین کی طرف گھسیٹ رہے تھے۔

اسمارہ کے چہرے پہ خوف تھا کہ غصہ میں سمجھ نہیں پایا اس نے پھر پوچھا ”بابا امن کی بات کرنا بری بات ہے کیا“

”نہیں جاناں ہمارے لئے نہیں لیکن جو نہیں چاہتے کہ امن ہو ان کے لئے بری بات ہے“
دیکھتے ہی دیکھتے پریس کلب کے سامنے والی سڑک کو محافظوں نے میدان جنگ میں بدل دیا۔
کسی طرف جامی چانڈیو کو ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹا جا رہا تھا تو کسی طرف روماسہ چانڈیو کو۔

کہیں سیف سمیجو پہ لاٹھیاں اور مکے برسائے جا رہے تھے تو کہیں کسی اور امن و رواداری کے داعی گمنام ورکر کے گریباں چاک کیے جا رہے تھے۔

کہیں کامریڈ عالیہ کو بالوں سے پکڑ کر کھینچا جا رہا تھا تو کہیں دھرتی کی گمنام سورمیوں کے سروں سے چادریں نوچی جا رہی تھی۔

کہیں سورٹھ سندھو کو گرفتار کیا جا رہا تھا تو کہیں کامریڈ زہرہ خان کو پولیس موبائل میں دھکیلا جا رہا تھا۔

یہ سندھ کا شعور تھا جو روندا گیا گھسیٹا گیا۔ جس پر لاٹھیاں برسائی گئی سروں سے ردائیں نوچی گئیں۔ بدترین تشدد کا نشان بنایا گیا مگر یہ حیرت کی بات نہیں کہ انتظامیہ کی طرف سے اتنا پر تشدد ماحول پیدا کرنے پر امن مارچ کے شرکاء پر بدترین تشدد کرنے کے باوجود کسی ایک پولیس اہلکار کو ایک کھرونچ تک نہیں آئی۔

تمام باشعور افراد ترقی پسند ادارے تنظیمیں سول سوسائٹی، ہیومن رائٹس سوشل ایکٹیوسٹ صحافی سندھ حکومت کے اس وحشیانہ عمل کی پر زور مذمت کر رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صاحب نے پر امن رواداری مارچ کے شرکاء پر تشدد کی مذمت کی ہے مگر مطالبات اب بھی وہیں ہیں جن کے لئے رواداری مارچ کیا جا رہا تھا۔

جن کے لئے انسانی حقوق کے ارکان نے بدترین تشدد سہا۔

ڈاکٹر شاہنواز کنبھر قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے۔ نامزد ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ فتوے صادر کرنے والوں مقتول کے سر کی قیمت مقرر کرنے والوں کو شریک جرم سمجھ کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ قاتلوں کے سہولت کاروں کو تفتیش کے دائرے میں لایا جائے۔ سندھ میں بڑھتی مذہبی انتہا پسندی کو لگام ڈالی جائے۔

مگر مطالبات کے حوالے سے سندھ حکومت خاموش ہے۔
سندھ رواداری مارچ کے شرکاء اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رہے گی۔
مجھے تمام عمر اپنی پیٹھ پہ کھائی لاٹھی کا شدید دکھ رہے گا۔

جو لاٹھی میں سینے پہ کھانے سے محروم رہا اگر وہ لاٹھی میں سینے پر کھاتا تو میرے سینے سے پہلے میرے جگر کے ٹکڑے اسمارہ کو وہ لاٹھی زخمی کر جاتی۔

 

Facebook Comments HS