میاں صاحب محض خوش گفتاری سے کام نہیں چلے گا

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں ہندو برادری کے تہوار ہولی کے موقع پر بہت خرد افروز گفتگو فرمائی۔ نواز شریف کی تقریر کا خیر مقدم کرنا چاہئے اگرچہ کہ اس میں بہت سی کہی باتیں محض خوشنما لفظوں کا ہیر پھیر ہی ہیں۔

مگر صاف صاف کہنا چاہئے کہ محض بیان بازی کچھ معنی نہیں رکھتی۔ اس لئے کہ ہم نے ایسی باتیں پہلے بھی سن رکھی ہیں۔

حل طلب سوال مگر یہ رہتا ہے کہ اس حکومت نے اور پچھلی حکومتوں نے ایک ہمہ جہت اور ہم آہنگی پر مبنی امن قائم کرنے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے؟ یہ مانا کہ سندھ اسمبلی نے پچھلے سال سندھ کرمنل لا 2015 (اقلیتوں کے تحفظ کا بل)منظور کیا ہے۔ اگرچہ کہ بل پر ابھی گورنر کے دستخط ہونا باقی ہیں۔

اس طرح کے اقدامات کی توصیف کرنا ہم پر واجب ہے۔ لیکن یہ تمام اقدامات کمرے میں موجود ہاتھی کو نظر انداز کر دیتے ہیں – یعنی کہ پاکستان کے آئین کی وہ شقیں جو در حقیقت اقلیت مخالف ہیں۔

کسی حکومت میں یہ دم نہیں کہ وہ مسخ شدہ آئین کو درست کریں بلکہ اقلیتوں پہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا بوجھ سول سوسایٹی کے نا تواں کاندھوں پر بار بار آتا ہے۔ یہ اچھی بات ہے لیکن سول سوسایٹی ریاست کا متبادل نہیں ہوسکتی۔

2010 میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملے کے فوراً بعد ‘ایک ملک، ایک قوم’ کے نعرے لگائے گئے۔ سول سوسایٹی کا اظہار یکجہتی بھی ایک وقتی مرہم تھا اور اس کا بنیادی مقصد بین الاقوامی توجہ حاصل کرنا تھا کہ پاکستان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو امن کا پرچار کرتے ہیں۔ لیکن اس تمام شور و غوغا کے باوجود ہم اس سوال سے پہلو تہی نہیں کر سکتے کہ پاکستان اپنے تمام شہریوں کا ملک کب بن سکتا ہے جب ہمارے آئین نے ایک گروہ کو مستقل ایذا رسانی کی حالت میں ڈال رکھا ہے۔

جب ملالہ پر طالبان نے گولی چلائی تو حکومت اور میڈیا اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ اس کو دنیا کی بہادر ترین لڑکی کے خطاب سے پکارا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ اس وقت بھی ریاست کی ذمہ داری کا تصور گول کر دیا گیا۔ چلئے بہرحال میدان جنگ تو صاف دکھائی دیا، دشمن نے اپنی صورت اور ایجنڈے کا اظہار بھی کر دیا۔ اس کے برعکس ایک غریب اور ان پڑھ مسیحی لڑکی رمشہ مسیح، جسے بلاسفیمی کے جھوٹے مقدمے میں گھسیٹا گیا۔ اس کا دشمن ہم کسے کہیں گے؟ رمشہ کسی عسکری گروہ کا نشانہ نہیں بنی بلکہ وہ پاکستان کی ریاست کے بنائے ہوئے قوانین کے بے جا استعمال کی بھینٹ چڑھی۔ جناب نواز شریف! اب تامل کرنے کا وقت نکل گیا۔ کیا آپ کچھ کر بھی پائیں گے؟

_____________________________

یہ اداریہ 17 مارچ 2017 کے ڈیلی ٹائمز میں پبلش ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words