تازہ خبر آنی ہے حسین حقانی ہمارا بھائی ہے
سعودی ولی عہد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلماںوں کا سچا دوست ہمدرد قرار دیا ہے۔ شہزادے نے مہربانی کی اگر وہ ٹرمپ کو حاجی بھی کہہ دیتا تو ہم نے کیا کر لینا تھا۔ ٹرمپ آج کل گرم پانیوں میں غوطے کھا رہا ہے۔ اس کی انتظامیہ کے قریبی لوگوں کے پیچھے میڈیا پڑا ہوا ہے۔ الزام یہ ہے کہ یہ لوگ روسی سفارتکاروں کے ساتھ یاریاں بنائے پھرتے ہیں۔ الزام اس لیے سنگین ہے کہ روسیوں کو ہیکنگ کر کے ہیلری کی شکست کا ذمہ دار بتایا جاتا رہا ہے۔
حسین حقانی نے ٹرمپ کو مصیبت میں دیکھ کر واشنگٹن پوسٹ میں ایک کالم لکھ دیا ہے۔ اس کالم میں حقانی صاحب نے فرمایا کہ ہم سفارتکار لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ہمارا کام ہی دوستیاں بنانا ہوتا ہے۔ یہ تعلق دوستیاں بعد میں ہمارے ملکوں کے کام آتی ہیں۔ موٹی عقل کے امریکیوں کو سمجھانے کے لیے انہوں نے اپنی مثالیں پیش کی ہیں۔
حسین حقانی نے لکھا کہ جب اوبامہ الیکشن مہم چلا رہا تھا۔ ان دنوں اس کی ٹیم سے حقانی صاحب نے روابط بنا لیے دوستی کر لی۔ یہی لوگ بعد میں اوبامہ کی ٹیم کا حصہ بن گئے۔ انہی روابط کا فائدہ اٹھا کر پاکستان امریکہ کے تعلقات میں بہتری آئی۔ ہمیں کیری لوگر بل مل گیا۔ امریکیوں کو پاکستان کے ویزے چاہیے تھے۔ ہم نے انہیں وہ سہولت فراہم کر دی۔
حقانی صاحب یہیں تک رہ جاتے تو اچھا تھا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ جن لوگوں کو ویزے دیے، انہیں لوگوں نے بعد میں اسامہ بن لادن کو پکڑا۔ جیمز بانڈ ہی لگے ہیں حقانی صاحب یہ دعوی کر کے۔ بندہ پوچھے کہ وہ حاجی شکیل آفریدی کس کھاتے میں پھڑ کر تاڑا ہوا ہے۔ وہ ایبٹ آباد میں پراندے بیچتا تھا؟
ہمارا بہادر میڈیا حقانی صاحب کو ایسے پڑ گیا ہے جیسے پڑنے کا حق ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی ہمارے ویلے ممبران نے حقانی صاحب کے دل کھول کر لتے لیے ہیں۔ اب میڈیا کو تھوڑا سکون ہوا ہے تو نئی کہانی سنائی جا رہی ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ حقانی صاحب فارغ ہیں یہ کالم لکھ کر وہ ٹرمپ کی نظروں میں آ کر اسے بیسٹ فرینڈ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ میں تو اس کالم پر فل ٹھنڈ پروگرام چل رہا کسی نے ذرا نوٹس نہیں لیا۔
وسی بابے نے اپنے پی پی کے دوستوں سے یہ کہا کہ حقانی صاحب کے اس کالم نے پی پی پر ہی آسمان گرانا تھا گرا دیا ہے۔
بڑی سکیمیں بن رہی تھیں۔ فوجی عدالتوں کی مخالفت کے لیے پی پی ڈٹ چکی تھی۔ انتظار یہ ہو رہا تھا کہ پنڈی سے کوئی فون آئے گا۔ نخرہ کریں گے ترلے کرائیں گے پھر مان جائیں گے۔ گمان ہے کہ بڑے صاحب اس فون کی آس میں سوتے بھی فون پر سر رکھ کے ہی تھے۔ حقانی صاحب کا کالم آیا ہے۔ پی پی میں گھڑمس مچی ہے۔ منٹوں میں فوجی عدالتوں کے بل پر پارٹی نے اتفاق رائے کر لیا ہے۔
ہوا بس اتنا ہے کہ پچھلی بار رضا ربانی صاحب نے جمہوریت کے لیے آنسو بہائے تھے۔ اس بار اعتزاز احسن صاحب دل پھڑ کر دکھا رہے ہیں کہ ہائے ہماری جمہوری پارٹی فوجی عدالتوں کا بل اپنے ہاتھوں سے پاس کرانے مرنے لگی ہے۔
سیاسی صورتحال کا بیان تو ہو گیا۔ اب کچھ ذکر مقامات ممنوعہ کا ہو جائے۔
اک میمو گیٹ ہوتا تھا۔ حقانی صاحب سفیر ہوتے اس چکر میں گھیر لیے گئے تھے۔ نوازشریف صاحب وکیلوں والا سوٹ پہن کر خود سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے۔ بڑی مشکل سے حسین حقانی پاکستان سے فرار ہو سکے تھے۔ اسی چکر میں آصف زرداری صاحب کو دبئی جا کر علاج کرانا پڑا تھا۔
میمو گیٹ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد سامنے آیا تھا۔ سول حکومت اچھی طرح گندی مندی ہوئی تھی اس چکر میں۔ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے اب تک۔ البتہ اس کمیشن کے دو ممبران حسین حقانی کا کالم سامنے آنے کے بعد بولے ہیں۔ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ انشااللہ تعالی کبھی سامنے نہیں آئے گی۔ تاکہ بیس کروڑ گوبھیاں ہنستی مسکراتی ہی رہیں۔
رپورٹ کا کرنا بھی کیا ہے سارے متعلقہ لوگ تو عہدوں سے رٹائر ہو چکے ہیں۔ پاشا صاحب شیخوں کی نوکری کر رہے ہیں۔ پاشا صاحب سے یاد آیا کہ اج حسین حقانی کے ایک پرانے دوست اسلم خان صاحب نے کالم لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حسین حقانی پاشا صاحب کے سرکاری خط وغیرہ دوستوں کو امریکہ میں دکھاتے پھر رہے ہیں۔ ان خطوط میں پاشا صاحب نے ہدایت کی ہوئی ہے کہ امریکیوں کو ویزے دو۔ اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔
لگتا یہ ہے کہ ہم میڈیا والے ٹرک کی بتی پیچھ لگ کر حقانی صاحب کو دھوتے رہیں گے۔ تازہ خبر آ جائے گی کہ بک بک بند کرو حقانی ہمارا بھائی ہے۔



