Author: رضا رومی
پل دو پل کا شاعر اور پل دو پل کی کہانی: برصغیر کے عظیم شاعر ’ساحر لدھیانوی‘ کی 100 ویں سالگرہ
عبدالحئی صاحب 8 مارچ 1941کو لدھیانہ کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کے کئی بیویاں تھیں، ساحر جب آٹھ سال کے تھے تو ان کی والدہ نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنی محنت کے بل بوتے پر برصغیر کے اس عظیم شاعر کو تن تنہا پالا۔ عبدالحئی نے اپنے تخلص کا انتخاب علامہ اقبال کے اس شعر سے متاثر ہو کر اپنایا۔ ؎ اس چمن میں ہوں گے پیدا بلبل شیراز بھی
Read moreحزب اختلاف کا مطالبہ محض عمران کی معزولی نہیں بلکہ اختیارات کا نیا توازن ہے
18 اکتوبر (اتوار) کو حزب اختلاف کے گیارہ جماعتی اتحاد نے کراچی میں ایک زبردست جلسہ منعقد کیا جس میں نہ صرف وزیر اعظم عمران خان کو ہٹانے کا عزم ظاہر کیا گیا بلکہ مقتدرہ کے ان حصوں کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا گیا جنہوں نے مبینہ طور پر عمران خان کو درپردہ سیاسی مدد فراہم کر کے اسلام آباد کا اقتدار بخشا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے
Read moreسول سروس میں اصلاحات : رکاوٹ کیا ہے؟
پاکستان میں سیاسی سطح پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ سول سروس میں اصلاحات اور بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے ۔ سیاست دان اور جنرل تھانے اور کچہری کا کلچر تبدیل کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ چالیس برسوں کے دوران کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس سلسلے میں کی گئی آخری کوشش کا کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیںنکلا تھا۔ پی ٹی آئی حکومت اصلاحات لانے کے لیے
Read moreعمران کا دور آگیا ہے
توقع کے مطابق حالیہ انتخابات میں کامیابی کا سہرا پاکستان تحریک ِ انصاف کے سر بندھا ہے ۔ عمران خان کی دو عشروں پر محیط جدوجہد خاص طور پر گزشتہ چند ایک سالوں سے رنگ لارہی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں اُنھوں نے خیبرپختونخواہ میں حکومت بنائی، اب وہ مرکز اور ممکنہ طور پر پنجاب میں بھی حکومت بنانے جارہے ہیں ۔ خیر یہ کوئی راز نہیں کہ عمران خان اسلام آباد جارہے ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اُنہیں
Read moreالیکشن 2018 ء ۔۔۔۔ سات تشویش ناک علامات
عام حالات میں اب تک انتخابی مہم اپنے عروج پر ہونی چاہیے تھی۔ سیاسی جماعتیں اور اُن کے امیدوار کارنر میٹنگز کررہے ہوتے، گھرگھرجاکر ووٹروں سے رابطہ کرتے اور الیکشن کے دن کی پلاننگ کرتے ۔ اس وقت کہنے کو تو نگران انتظامیہ، الیکشن کمیشن اور میڈیا نیٹ ورک موجودہیں لیکن ان کا کوئی جاندار کردار دکھائی نہیں دیتا۔ ہر طرف افراتفری کی سی فضا ہے۔ جن کے فرائض کچھ اور تھے، سیاسی عمل کی کڑی نگرانی کررہے ہیں ۔
Read more2018 ء کے عام انتخابات اور جمہوری استحکام
پاکستانی رائے دہندگان ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد اگلی حکومت کا انتخاب کررہے ہوں گے ۔ اگرچہ فعال سیاسی انجینئرنگ اور انتخابات کو کنٹرول کرنے کے حربوں پر بات ہورہی ہے لیکن کل کہانی یہی نہیں ہے۔ ان انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں خود بھی افراتفری کا شکار ہیں۔ امیدواروں کے انتخاب میں اُن کی چوائس اور پارٹی منشور پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر مجموعی طور پر
Read more






