واجد علی اور پلوشہ خان کا سوال اور ہماری روایتی فکر کی بے بسی
شخصیات اہم نہیں ہوتیں بلکہ سوال اہم ہوتے ہیں اور وہی قومیں اپنی درست سمت میں آ گے بڑھتی ہیں جو اپنی نوجوان نسل کے سوالوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔
جن معاشروں میں جوابات کی بھرمار ہوتی ہے وہاں تخلیقی ذہن ناپید ہو جاتے ہیں، تخلیق کا سوال کے ساتھ بہت گہرا سمبندھ ہوتا ہے، اسی لیے تو روایتی فکر سوال سے خوف زدہ رہتی ہے۔
تخلیق اور شعور کی عقیدہ اور اندھے ایمان کے ساتھ شروع دن سے ہی نہیں بنی بلکہ گزرتے وقت ساتھ یہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے، مستقبل قریب یا بعید میں ان کے آ پس میں ملنے کے امکانات بھی کم و بیش معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
ارتقاء کے اصولوں میں ٹھہراؤ کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوا کرتی، ہمیشہ اپنے وقت یا عصر سے ہم آہنگ ہی کائنات میں متعلقہ یا اہم رہتے ہیں باقی سب تو تاریخ کے بلیک ہول میں گم ہو جاتے ہیں۔
قومیں تعداد سے نہیں بلکہ معیار اور صلاحیت سے بنتی ہیں اور معیار تنقیدی فکر کی چھتر چھایا میں فروغ پاتا ہے اور جو فکر یا فلسفہ سوال کی چوٹ برداشت کرنے کے قابل ہوتا ہے اسی کے پھلنے پھولنے کے امکانات روشن رہتے ہیں۔ ورنہ وہ تاریخ کے عجائب گھر میں ایک شو پیس کے طور پر سج جاتے ہیں۔
ویسے تو وطن عزیز میں روشن دماغوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن تھینکس ٹو ڈاکٹر ذاکر نائیک، جس کی بدولت چند ایک ایسے نایاب ہیرے ملے کہ جن کے سوالات سن کر ایسا لگا کہ یہ دھرتی ابھی بانجھ نہیں ہوئی ہے، اس کے سینے میں ابھی ایسے گوہر نایاب موجود ہیں جو ہجوم کشی کے خوف سے بے نیاز سوال کرنے کا حوصلہ یا جذبہ رکھتے ہیں۔
پہلے پلوشہ اور اب واجد علی نے تو ڈاکٹر نائیک کو پوری طرح سے ایکسپوز کر دیا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ روایتی فکر کے پاس آج کے نوجوانوں کے سوالات کا تسلی بخش اور عقلی جواب یا دلیل موجود نہیں ہے سوائے تاویلات کے۔
تاویلات عقیدے کا جزوِ لاینفک ہوتی ہیں جن کے بغیر عقیدے کی عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی جبکہ علم ان سارے تکلفات سے بے نیاز ہوتا ہے اور اس کا دامن بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں کو سمیٹنے کے لیے ہر وقت کشادہ
رہتا ہے۔ آج کی نسل بالکل واضح اور اگر مگر سے ماورا منطقی جواب چاہتے ہیں جو عقلی زاویوں کے عین مطابق ہو۔
ورنہ پاکستان میں بھلا کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ کسی روایتی مولوی کے سامنے کھڑا ہو کر کوئی یہ کہنے کی جرات کر سکتا کہ
”میں ایک اگناسٹک ہوں، عرصہ ہوئے مذہب کو پریکٹس کرنا چھوڑ دیا ہے، اس کے باوجود وہ ایک اچھا بیٹا، بھائی، ہمسایہ اور ہر لحاظ سے دنیاوی معاملات میں مکمل دیانت دار ہے تو پھر وہ مذہب کو کیوں اختیار کرے؟ حالانکہ اخلاقی بلندیوں کا حصول جو کہ مذہب کا اصل ہے اس تک تو وہ بغیر مذہب کے بھی پہنچ چکا ہے“
واجد علی کا یہ سادہ سا سوال تھا اور ساتھ میں اس نے پیشگی گزارش بھی کی کہ مجھے میرے سوال کا غیر روایتی یا عقلی جواب چاہیے نا کہ وہ جواب جو ہم پہلے ہی سن چکے ہیں۔
ڈاکٹر نائیک کا جواب اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کا ملغوبہ تھا جو اس دلیل پر ختم ہوا کہ میرے پاس تو اربوں کی گاڑی اور گھر ہے اور میاں تمہارے پاس کیا ہے، تم تو محض ایک اسٹوڈنٹ ہو۔
لیکن واجد علی کا سوال وہیں پہ موجود ہے اور اسی طرح سے پلوشہ خان کا بھی۔
جس نے بھرے مجمع میں یہ کہنے کی جرات کی کہ ہمارے علاقے میں مذہب تو بہت ہے لیکن اس کے مثبت اثرات بہت تھوڑے ہیں، لوگ مذہبی معاملات کی چلتی پھرتی تصویر ہیں لیکن شراب، شباب اور کباب بھی زوروں پر ہے، وہ بیچاری یہ پوچھ بیٹھی کہ ان کی ظاہری اور باطنی زندگی میں اتنا تضاد کیوں ہے؟
بس نائیک جی نے روایتی انداز میں لتاڑ دیا کہ تم بھی غلط ہو اور تمہارا سوال بھی غلط ہے لہاذا بھرے مجمع میں معافی مانگو۔
کیا یہ سوالات اپنی موت مر جائیں گے؟
کیا سوال کرنے والے کم پڑ جائیں گے یا روز بروز ملٹی پلائی ہوتے رہیں گے؟
واجد اور پلوشہ تو سوالات کے استعارے ہیں جنہوں نے اپنے حصے کا ڈول ڈال دیا ہے ابھی تو نجانے کتنے ایسے استعارے موجود ہیں۔
روایتی فکر پر یہ کڑا وقت ہے بھلے تسلیم کریں یا نہ کریں، اب انہیں عقلی رویوں کی طرف لوٹنا ہو گا، مذہبی لوگ مذہب پر یقین تو ضرور رکھتے ہیں لیکن عمل کی شرح ایک خوفناک حد تک گر چکی ہے اور پریکٹسنگ تناسب کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔
لوگ باگ رسمی طور پر مذہب پر عمل کرتے ہیں جبکہ اندرونی طور پر وہ پورے رنگین مزاج ہوتے ہیں۔
یہ تلخ حقائق ہیں جو غامدی اور انجینئر ایسے بڑے اچھے سے جان چکے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ روایتی فکر کے یہ جدید میک اپ آرٹسٹ کب تک فرض کفایہ ادا کریں گے؟
ظاہر ہے جب آپ مذہب کو انسان کی اندرونی زندگی کا حصہ بنانے کی بجائے چوکوں چوراہوں میں لے کر آئیں گے اور فلسفہ و سائنس کی روشنی میں عقیدہ کو علم میں بدلنے کی کوشش کریں گے تو پھر سوال تو اٹھیں گے نا۔
حدود سے تجاوز کا خمیازہ تو بھگتنا پڑتا ہے، پھر آپ تقدس کی آڑ میں چھپ نہیں سکتے۔


