مجھے پینک اٹیک کیوں آیا؟
یہ تقریباً تین ہفتے پہلے کی بات ہے جب مجھے پینک اٹیک آیا۔ یہ اس نوعیت کا پہلا تجربہ تھا۔ والد صاحب گھبرا گئے اور فوراً گاڑی کا بندوبست کیا اور نزدیک کے پرائیویٹ اسپتال لے گئے جہاں کچھ دیر مجھے ڈاکٹر کے معائنے میں رکھا گیا، دوائیاں دی گئیں اور ڈرپ لگائی گئی۔ روایتی ڈاکٹروں کی طرح ان صاحب نے بعد میں اپنا ناٹک پیش کیا جس میں انھوں نے میری سانس کی دقت کو ہارٹ اٹیک سے تشبیہ دینے کی کوشش کی۔ ہم سمجھ گئے کہ معاملہ بہتر ہے اور وہاں سے چل دیے۔
پینک اٹیک کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ آخر بائیس سالہ نوجوان کے ساتھ ایسا کیا ہو گیا کہ اس کو پینک اٹیک نے آ لیا۔ رشتے داروں نے جب خیریت دریافت کی تو ان کو تو بتایا ہی نہیں گیا کہ اصل ماجرا کیا ہے، بس یہ کہہ دیا گیا کہ طبیعت اچانک بے چین سی ہو گئی۔ جو کہ درست بھی ہے لیکن بائیس سالہ لڑکے کو پینک اٹیک کا آنا بتانا آسان کام نہیں کیونکہ پھر یہ سوال اٹھیں گے کہ اتنی سی عمر میں کس بات کی فکر؟
بالکل یہی بات ہمارے عزیزم پروڈیوسر صاحب نے کی جن کے پروگرام میں میں آج کل معاون میزبان کے فرائض سر انجام دے رہا ہوں۔ انھوں نے کہا آپ کی زندگی میں سب ٹھیک معلوم ہوتا ہے پھر کس بات کا سٹریس لیا ہوا ہے آپ نے۔ ان کی بات کسی حد تک ٹھیک بھی تھی کہ میری عمر میں پینک اٹیک آنے کی کوئی مناسب وجہ نہیں۔ علم و ادب سے شغف کی بدولت میرا ایک وسیع حلقہ ارباب عمر میں اپنے سے بڑے لوگوں پر محیط ہے۔ ان کے ساتھ مذاق چلتا رہتا ہے اور جب میری طبیعت کا ذکر ہوا تو ایک کولیگ نے طنزیہ طور پر کہا شاید آپ نے ٹی وی شو کا سٹریس زیادہ لے لیا ہے کیونکہ آپ پہلی مرتبہ کیمرا فیس کر رہے ہیں۔
میں نے اصل وجہ چھپاتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ در اصل بات کچھ یوں ہے کہ میں پہلی مرتبہ پاکستانی سماج کی حقیقتوں سے واقف ہوا ہوں۔ یہ سلسلہ دو سال سے جاری ہے اور اب زندگی کے اس سبق کے نہایت پختہ موڑ پر پہنچ چکا ہوں جس کے بعد میں معاشرے کی ذہن سازی سے ہمارے دماغوں میں پیوست کی جانے والی اچھائی اور انسانیت کے نظریات سے مکمل طور پر آزاد ہو جاؤں گا بلکہ ایک طرح سے ہو چکا ہوں بس یوں کہہ لیں کہ یہ پینک اٹیک بڑی موت سے پہلے ایک چھوٹی سی موت ہے، اس زندگی کی موت جو میری نہیں تھی، جو میرے لیے نہیں تھی بلکہ دوسروں کے لیے تھی۔
میری زندگی مجھ سے زیادہ دوسروں کی تھی۔ یہ وہ رویے ہیں جو انسان کو اچھائی کے راستے سے بے دخل کر دیتے ہیں کیونکہ اچھائی کے کیے ضروری کے کہ آپ ہمیشہ اچھا بن کر نہ رہیں۔ یہ بات میں نے کہیں سن رکھی تھی شاید کسی فیس بک کی پوسٹ پر یا اور کہیں۔ لیکن سمجھ تجربے سے ہی آئی۔ اور کئی ایسی باتیں ہیں جو صرف سن رکھی تھیں لیکن اب تجربے کی ہلکی آنچ پر حقیقت کا احساس کچھ مختلف معلوم ہوتا ہے۔ جیسے یہ کہ پاکستانی معاشرے میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں اور بدمعاشوں کے ظلم سے راہ فرار نہیں۔
ایک اور بات سن رکھی تھی کہ پاکستان میں ہر کوئی بدمعاش ہے خواہ وہ دکاندار ہو، کوئی صحافی ہو، ڈاکٹر ہو، دودھ والا ہو یا کوڑے والا، یہاں ہر کسی نے اپنی ایک ملوکیت قائم کی ہوئی ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ بادشاہ سلامت بن کر بیٹھا ہے، ریاست اور قانون نام کی یہاں کوئی چیز نہیں اس لیے پھر کمزور طبقات کو ان بدمعاشوں کے ساتھ سمجھوتے کر کے گزارا کرنا پڑتا ہے یا خود کوئی غیر قانونی قدم اٹھانا پڑتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ یہاں کوئی ریاست، کوئی قانون اس کی حفاظت کے لیے موجود نہیں، پھر وہ اپنی ایک چھوٹی سی ریاست قائم کرنے کی تگ و دو میں ہوتا ہے۔
یہ تو وہ باتیں ہیں جو میں نے سنیں۔ میں اپنے آپ میں رہنے والا شخص ان باتوں کو کیسے تجرباتی نگاہ سے دیکھ سکتا ہوں؟ میں جب پی ٹی وی میں تھا تو وہاں، پروڈکشن ٹیم کے ایک فرد نے مذاق سے کہا کہ کوئی کڑی سیٹ کر لو، دنیا دی سمجھ آ جائے گی۔ مجھے کیا معلوم مجھے دنیا کی سمجھ کسی لڑکی سے ہی ملنی ہے وہ بھی سیٹ کیے بغیر۔ ہماری بھی کوئی محبوبہ ہوتی تھی، ہمارا بھی دل کسی پر فریفتہ ہوا ہے۔ میری تصویر دیکھ کر تو یہی معلوم ہو گا کہ ہماری ہی تو محبوبہ ہونی تھی، ہمارا ہی تو دل فریفتہ ہونا تھا۔
یہ تمیز، یہ ادب، یہ تکلف محض لکھنے لکھانے تک مقید ہے۔ اس سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ 2019 کی بات ہے جب ہم نے فیصلہ کیا کہ اپنے ڈر پر قابو پاتے ہوئے اپنی سابقہ ہمسائی جن کا نام نہایت خوبصورت ہے، سے گفت و شنید کریں لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ بدلے میں انکار اور بے عزتی کا بوجھ اٹھانا پڑے گا، ساتھ ہی ساتھ ان کے بھائی صاحب کی روح پرور گالیاں سننا نصیب ہو گیں۔ سمجھ تو مجھے تبھی آ گئی تھی کہ انسانوں کے مزاج پرکھنا جذباتی چاہتوں سے زیادہ ضروری ہے لیکن اصل سمجھ تب آئی جب ان کی شادی 18 برس کی عمر میں ہو گئی اور ان کا اپنے شوہر کے ساتھ دل نہ لگا تو ہمارے غریب خانے پر آ حاضر ہوئیں۔
حقیقت میں نہیں بس سوشل میڈیا پر اور وہ بھی ان باکس میں نہیں بلکہ فیس بک پوسٹس کے ذریعے ہم کلام ہوتیں کیونکہ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھیں کہ شاید میں اپنی پوسٹس پر ان کے لیے کچھ لکھ رہا ہوں جبکہ میں اپنے افکار کے حوالے سے ہی اکثر رقم طراز ہوتا۔ اور اڑتی اڑتی خبر بھی ملی کہ اچانک ہوا کا رخ بدل گیا اور وہ میری امید میں واپس آ گئیں ہیں۔ کمال ہے! مجھے صاف انکار کرنے کے بعد شادی کر لینے کے بعد کسی کے نکاح میں ہوتے ہوئے واپس آ جانا اور رشتے داروں کے ذریعے دباؤ ڈالنا کسی پر شادی کے لیے کہاں کا انصاف ہے؟
ایک شخص کو دھمکایا جا رہا ہے، شادی سے انکار کرنے پر اس کے اور اس کے گھر والوں کے موبائل ہیک کر لیے جاتے ہیں اور ان کی تمام حرکات، ویڈیوز، آڈیوز سمیت نظر رکھی جاتی ہے، تمام مناظر رشتے داروں کو مہیا کیے جاتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر ہماری باتوں کا مذاق بنوا کر ہمیں دباؤ کا شکار کیا جائے اور دھمکایا جائے۔ میری ذاتی معلومات تک رسائی حاصل ہے ان لوگوں کو اور اس حوالے سے دھمکیاں اور حتی کہ آمیز رویہ جاری ہے۔
سائبر کرائم سے مدد کے حصول کی کوشش کی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں۔ پولیس کے پاس بھی جانے کا فائدہ نہیں۔ یہی وہ عنصر ہے جس کی بدولت معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہے اور بدمعاشوں کی اجارہ داری قائم ہے اور مجھ جیسوں کے لیے مفت کی ذہنی اذیت۔ پینک اٹیک یا ہارٹ اٹیک کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ہم کئی ان باتوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں جو ہمیں کھٹکتی ہیں لیکن انسان کہاں اظہار کرے اپنی مشکل کا جب یہاں کوئی ادارہ فعال ہی نہیں جو عوام کی مشکلات کا سد باب کر سکے۔ ایسے معاشروں میں پینک اٹیک اور ہارٹ اٹیک کا آنا معمول کی بات ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنے خول سے نکل کر معمول کی پاکستانی زندگی میں قدم رکھ لیے ہیں۔


