رواداری مارچ: پیپلز پارٹی اتنی مجبور کیوں نظر آ رہی ہے؟
اکتوبر 2024 کو سندھ کی سول سوسائٹی نے رواداری اور امن مارچ کے لیے کراچی میں کال دی تھی، جس میں سول سوسائٹی کے دوستوں کو کلفٹن تین تلوار سے پریس کلب تک سندھ میں امن اور رواداری کے لیے مارچ کرنا تھا۔ یہ رواداری مارچ 15 دن پہلے کیا گیا تھا، جسے سندھ کے لوگوں نے بھرپور حمایت دی۔ سندھ کے تمام شہروں کے لوگوں نے سندھ کو پرامن اور روادار رکھنے کے لیے کراچی آنے کا عہد کیا۔ مگر اسی تاریخ کو لبیک والوں نے بھی اسی جگہ پر احتجاج کی کال دی۔
سندھ حکومت نے تصادم کا بہانہ بنا کر کراچی میں دفعہ 144 نافذ کر کے امن پسندوں اور رواداری کی بات کرنے والوں کا راستہ روکا۔ معلوم نہیں کس کے کہنے پر سندھ پولیس نے عورتوں، بزرگوں اور بچوں پر دھاوا بول دیا۔ یہاں تک کہ معروف ادیب جامی چانڈیو اور ان کی بیٹی روماسہ کو راستے میں گھسیٹا گیا۔ اس کے علاوہ نوجوان ڈاکٹر سورٹھ سندھو کو ان کی بہن کے ساتھ گرفتار کیا گیا اور انہیں کندھے سے پکڑ کر زبردستی پولیس کی گاڑی میں ڈالا گیا۔
ڈاکٹر سورٹھ سندھو بار بار کہتی رہیں کہ میرا قصور کیا ہے، میں تو خالی ہاتھ ہوں، آپ مجھے کیوں گرفتار کر رہے ہیں؟ کیا میرا صرف یہی جرم ہے کہ میں سندھی ہوں؟ اس کے علاوہ نوجوان گلوکار سیف سمیجو، جو امن اور محبت کے گیت گاتے ہیں، انہیں بھی گھسیٹا گیا اور ان کی قمیص پولیس والوں نے پھاڑ دی۔ سیف سمیجو نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب پولیس انہیں تشدد کا نشانہ بنا رہی تھی، تو پولیس والے مذہبی نعرے لگا رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا میں مسلمان نہیں ہوں؟ ایسے سلوک تو کسی کافر کے ساتھ بھی بلاوجہ نہیں کرنے چاہئیں، مگر ایک مشہور گلوکار کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا۔ سیف سمیجو نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ دفعہ 144 بھی مخصوص افراد کے لیے تھی کیونکہ پورے کراچی میں دوسرے لوگ بھی احتجاج کر رہے تھے۔ پی پی رہنما شرمیلا فاروقی کا بھی کوئی فنکشن تھا، مگر وہاں دفعہ 144 کا خیال نہیں رکھا گیا، جبکہ صرف رواداری مارچ پر پولیس کارروائی کی گئی۔
کمیونسٹ لیڈر بخشل تھلو اور ان کی بیوی کو بھی پولیس نے ہراساں کیا، جو پورے ملک میں مزدوروں کے لیے کام کرتے ہیں۔ سندھو گھانگرو، جو اس رواداری مارچ کی روح رواں تھیں، انہیں بھی پولیس نے ہراساں کیا۔ میں سندھو گھانگرو کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے بڑے حوصلے اور ہمت سے پولیس گردی کا مقابلہ کیا۔ سندھ کے نوجوانوں اور صحافیوں نے بھی پولیس گردی کا بہادری سے سامنا کیا۔ جب ادیب جامی چانڈیو کو پولیس گھسیٹ رہی تھی، اس وقت نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پولیس سے انہیں بچا رہے تھے۔ یاد رہے کہ یہ نوجوان خالی ہاتھ تھے اور بغیر کسی ہتھیار کے پولیس گردی کا سامنا کر رہے تھے۔
سندھ میں جو انتہا پسندی کی لہر آئی ہے، اس سے لوگ بہت پریشان ہیں کیونکہ سندھ کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ صوفیوں کی دھرتی رہی ہے۔ سندھ ہمیشہ رواداری کی علامت رہی ہے، اسی لیے پورے خطے کے لوگ سندھ میں آ کر آباد ہوئے ہیں اور آج وہ فخر سے خود کو سندھی کہتے ہیں۔ عمرکوٹ میں شاہنواز کمبھار کا ماورائے عدالت قتل لوگوں کو مزید پریشان کر رہا ہے، جس سے لگتا ہے کہ ریاستی مشینری کو بھی انتہا پسند چلا رہے ہیں۔ ایسے افسران جو شاعر اور ادیب ہیں، وہ ایک قتل پر انتہا پسندوں کے ساتھ پارٹیوں میں شریک ہو رہے ہیں اور انہیں ریڈ کارپٹ ویلکم دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
انتہا پسندوں نے ہمیشہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو نشانہ بنایا تھا اور ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد بھی ایک بین الاقوامی دہشت گرد کی رقم سے آیا تھا، اور آخرکار انہی دہشت گردوں کے ہاتھوں بے نظیر بھٹو شہید ہو گئیں، مگر انہوں نے کبھی دہشت گردوں کے سامنے ہار نہیں مانی۔ مگر آج پاکستان پیپلز پارٹی انتہا پسندوں کے سامنے شکست خوردہ اور مجبور نظر آ رہی ہے اور اس کے نمائندے بھی انتہا پسندوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ سندھ میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر بھی وہ خاموش نظر آتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ایک نظریاتی جماعت رہی ہے، جس کا نظریہ سوشلزم ہے، اور اس جماعت کا اس طرح بدنام اور ناکام ہونا میرے لیے انتہائی افسوسناک ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سندھ حکومت کو ٹی ایل پی پر اعتراض کرنا چاہیے تھا اور انہیں بتانا چاہیے تھا کہ سندھ میں سول سوسائٹی کا رواداری مارچ ہے، اور آپ کسی اور دن احتجاج کریں۔ مگر معلوم نہیں پیپلز پارٹی کی کیا مجبوری تھی کہ انہوں نے ٹی ایل پی پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کراچی دنیا کا چوتھا بڑا شہر ہے، ٹی ایل پی والے کسی اور جگہ بھی احتجاج کر سکتے تھے، مگر انہوں نے وہی جگہ چنی جہاں پہلے سے رواداری مارچ کا اعلان ہو چکا تھا۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ریاست کو رواداری کیوں پسند نہیں؟ رواداری اور امن کے متلاشیوں پر کیوں کارروائی کی گئی اور ٹی ایل پی کے سامنے کوئی رکاوٹ کیوں نہ کھڑی کی گئی؟
یقیناً ریاست کی اس بربریت کے نتیجے میں سندھ میں رواداری اور امن پسندوں کی تحریک مضبوط ہوگی، مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ پیپلز پارٹی کیوں اتنی مجبور نظر آ رہی ہے اور ان لوگوں پر ظلم کروا رہی ہے جن میں سے 95 فیصد نے انہیں ووٹ دیا تھا۔ حکومت کی مجبوری کی حالت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی رہنما شیریں رحمان اور شہید بی بی کی بڑی بیٹی بختاور بھٹو زرداری نے بھی پولیس کی بربریت کی مذمت کی ہے، مگر اس کے باوجود سندھ حکومت نے ان لوگوں پر ایف آئی آر درج کروائی ہے جو امن اور رواداری کی بات کر رہے تھے۔
جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو خبریں ہیں کہ وزیر اعلیٰ نے معافی مانگی ہے، اور اس معافی نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ پیپلز پارٹی اتنی مجبور کیوں نظر آ رہی ہے کہ اسے معافی مانگنی پڑی۔
سندھ کے نامور فنکار سیف سمیجو نے مٹھی میں دیوالی کے موقع پر لاہوتی میلے کا اعلان کیا ہے، اور مجھے خدشہ ہے کہ سندھ کے اس پرامن شہر مٹھی میں کچھ طاقتیں حالات خراب نہ کر دیں۔ میری سندھ حکومت سے گزارش ہے کہ مٹھی میں ہونے والے لاہوتی میلے کے لیے فول پروف انتظامات کرے تاکہ اس قسم کے رواداری کے پروگرام سندھ میں ہو سکیں۔


