سوئٹزر لینڈ، خوابوں کی سر زمین


صبح سویرے ہی آنکھ کھل گئی کمرے سے باہر نکلا تو یوں محسوس ہوا کہ کسی اور ہی دنیا میں موجود ہوں۔ رات دیر سے پہنچے تھے چاروں طرف اندھیرا تھا اور تھکے ہوئے بھی بہت تھے اس لیے گرد و پیش سے بے خبر فوراً ہی نیند کی گہری وادیوں میں اُتر گئے۔

اب جو چاروں طرف کا بغور جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ہم ایک جنت نظیر وادی میں موجود ہیں جس کے چاروں طرف فلک بوس سر سبز و شاداب درختوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑ ہیں اور چھوٹی سی وادی میں یوں لگتا تھا کہ گہرے سبز رنگت کی گھاس کا ایک قالین بچھا دیا گیا ہے۔

جس چھوٹی سی عمارت میں ہمارا قیام تھا اس کے علاوہ دور و نزدیک کوئی آبادی نہیں تھی۔ اس عمارت میں بھی دو کمرے اور ایک کچن ہمارے استعمال میں تھا۔ ہمارے کمروں کے برابر ہی ایک کچن اور ایک ریستوران تھا۔ بس گراؤنڈ فلور اسی عمارت پر مشتمل تھا اور اس کے اوپر فرسٹ فلو ر پر بھی اتنی سی عمارت تھی جس میں اس فارم ہاؤس کے مالک رہتے تھے اور اس کے علاوہ چاروں طرف دور دور تک پھیلا ہوا سبزہ اور بلند و بالا پہاڑ تھے۔ جو سرسبز و شاداب درختوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ جنہیں رات میں ہونے والی بارش نے نہلا کر مزید نکھار دیا تھا۔

اس فارم ہاؤس کا مالک خاندان میاں بیوی پر ہی مشتمل تھا جو تھوڑی دور بنے ہوئے گھوڑوں کے اصطبل میں اپنے کام میں مصروف تھے۔ اس اصطبل میں دس بارہ گھوڑے موجود تھے اور یہ لوگ انہی کی دیکھ بھال میں مصروف تھے۔ بیوی اصطبل کی صفائی کرنے میں مصروف تھی اور خاوند اُن کو چارہ وغیرہ ڈال رہا تھا۔ اس اصطبل کے سامنے صاف شفاف نیلگوں رنگ کے پانی سے بھر ہوا ایک تالاب تھا۔ اس کے علاوہ دور دور تک کوئی عمارت نظر نہیں آ رہی تھی۔

چاروں طرف بلند و بالا پہاڑ تھے۔ جنوبی سمت کے پہاڑ کی بلندی نسبتاً زیادہ تھی اور اس کی چوٹی برف سے ڈھکی ہوئی تھی۔ بلندی پر موجود درختوں کے پتوں میں جا بجا چھوٹے چھوٹے بادل پھنسے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ صاف ستھری اور تازہ ہوا خوشی کے نغمے گنگناتی ہوئی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھی میں سوچ رہا تھا کہ اس سے زیادہ خوبصورتی اور کہاں ملے گی۔ تو کیوں نہ بقیہ دن اسی طرح قدرت کی آغوش میں ہی گزار دیے جائیں۔

رہائش کے لیے اس قدر خوبصورت جگہ کے انتخاب پر عمیر کو دل کھول کر دادا دی۔ یہاں پر صرف وہی دو کمرے رہائش کے لیے دستیاب تھے جو ہمارے زیر ِ استعمال رہے۔ بڑی دیر تک قدرت کی صناعی پر خالق ِ مطلق کی حمد و ثنا ء سے لبریز دل و دماغ کے ساتھ گھومتا پھرتا رہا۔ اتنی دیر میں باقی لوگ بھی نیند سے بیدار ہو کر میرے ساتھ شامل ہو گئے۔

ہم دیر تک یہاں گھومتے رہے اسی دوران ایک پگڈنڈی پر چلتے ہوئے ایک جنگل میں پہنچ گئے۔ ہم تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر آگے بڑھتے گئے کہ یہ پگڈنڈی کہاں جا رہی ہے۔ پندرہ بیس منٹ چلنے کے بعد ہم ایک اور فارم ہاؤس میں موجود تھے۔ یہ بھی ایک گھوڑوں کا ہی فارم تھا اور ایک خاتون باری باری گھوڑوں پر سوار ہو کر غالباً انہیں ورزش کروا رہی تھی۔ لگتا تھا کہ میل میل دو دو میل کے فاصلے پر اس جنگل میں اور بھی فارم ہاؤس موجود تھے اور یہاں پر بکھری ہوئی اسی آبادی کے لیے ہمارے کمروں سے ملحق ایک ریستوران بنایا گیا تھا۔ جہاں ان کے کھانے پینے کے انتظامات کیے جاتے تھے۔ کافی دیر سے گھومتے پھرتے رہے اتنی خوبصورت جگہ کو چھوڑ کر کہیں اور جانے پر دل آمادہ ہی نہیں تھا۔

بہرحال کافی دیر یہاں گھومنے پھرنے کے بعد واپس اپنی رہائش گاہ پر آئے۔ ناشتہ کیا اور انٹر لاکن دیکھنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ پندرہ بیس کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ فلک بوس پہاڑ کے پہلو میں لیٹی ہوئی چھوٹی سی سڑک پر گرد و پیش کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خراماں خراماں محو سفر تھے۔ جب دور سے کوئی کار اپنی طرف آتی ہوئی دکھائی دیتی تو خوف محسوس ہوتا کہ اتنی تنگ سڑک پر کراسنگ کس طرح ممکن ہوگی۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے زن سے دونوں کاریں ایک دوسرے کے برابر سے گزر جاتیں تو سامنے سے آنے والی کوئی دوسری کار دکھائی دینے لگتی۔

ہم گردوپیش کے خوبصورت ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اور سامنے سے آنے والی گاڑیوں کی کراسنگ کے خوف کی ملی جلی کیفیت میں تھوڑی سی دیر کے بعد انٹرلاکن پہنچ گئے۔ گاڑی پارک کر کے پیدل ہی شہر کو دیکھنے نکل پڑے۔ تقریباً سارے یورپ میں ہی طرز ِ تعمیر روایتی اور قدیم انداز کا ہے۔ کچھ کچھ عمارات کی طرزِ تعمیر میں جدید انداز بھی اپنایا گیا ہے۔ سیاحوں کی دل چسپی کے لیے عمارات رنگ و روغن سے خوب مزین کی گئی ہیں۔

ہم کافی دیر بے مقصد گھومتے پھرتے رہے۔ فضا میں رنگ برنگے پیرا گلائٹیڈر محوِ پرواز تھے۔ وہ سارے کے سارے ایک ہی جگہ پر نیچے اُتر رہے تھے۔ ہم وہاں پر پہنچے تو وہاں بھی لوگوں کا خاصا رش تھا۔ شوقین حضرات گلائٹیڈر ڈرائیور سے بھاؤ تاؤ کرتے وہ انہیں گاڑی میں بٹھا کر نزدیکی پہاڑ کی چوٹی پر لے جاتے اور وہاں پر گلائٹیڈر ڈرائیوار اپنے ساتھ ایک آدمی کو سوار کرا کر فضا میں بلند ہو جاتے اور فضا میں تیرتے ہوئے اس مخصوص گراؤنڈ میں آ کر زمین پر اُتر آتے اور اپنی اُجرت وصول کر لیتے۔

دریا اس شہر میں بھی موجود تھا اور اس کی خوبصورتی کو حسب معمول بڑھا وا دے رہا تھا۔ ہم کافی دیر تک اونچی جگہ سے نیچے بہتے ہوئے دریا کا نظارہ کرتے رہے۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی لیکن موسم بہت بھلا لگ رہا تھا۔ ویسے جو قدرتی نظارے شہروں سے باہر دیکھنے میں آتے تھے۔ وہ شہروں میں کہاں تھے۔

بہر حال اڑھائی تین گھنٹے یہاں پر گزارنے کے بعد ہم ایک اور قریبی شہر Grinder wald (گرنڈ والڈ) کو چل دیے۔ یہ شہر بلندی پر تھا اور یہاں پر موسم بھی زیادہ سرد تھا۔ ایک طرف اونچے پہاڑ کی چوٹی پر تازہ تازہ برف پڑی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ یہاں بھی ہم ڈیڑھ دو گھنٹے گھومتے پھرتے رہے اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔ واپسی پر پھر انٹرلاکن میں آئے اور یہاں پر ایک انڈین ہوٹل شالیمار ریسٹورانٹ میں کھانا کھایا۔ یہاں پر گاہکوں کا خاصا رش تھا اور دو تین لوگ بھاگ بھاگ کر کھانے والوں کو سروس مہیا کر رہے تھے۔ کھانے کے بعد ہم اپنی قیام گاہ میں واپس لوٹ آئے۔

اگلے دن صبح اُٹھے کافی دیر یہاں پر گھومتے پھرتے رہے۔ ناشتہ کرنے کے بعد واپس لکسمبرگ کے لیے نکلے۔ واپسی پر ہم نے اپنا روٹ تبدیل کر لیا تھا۔ جاتے ہوئے ہم لوگ لکسمبرگ سے براستہ فرانس سوئٹزر لینڈ گئے تھے اور اب ہم براستہ جرمنی واپس جا رہے تھے۔ ہلکی ہلکی بارش سارے راستے ہی ہوتی رہی۔ مسحور کن مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم تقریباً اڑھائی گھنٹے میں جرمنی کے شہر فرائی برگ پہنچے۔ وہاں پر پھر ماں جی نامی ایک انڈین ہوٹل سے کھانا کھایا۔ یہ کھانا بھی خاص انڈین سٹائل میں پیش کیا گیا۔ ایک تھالی میں پانچ چھ چھوٹی چھوٹی رکابیوں میں مختلف سالن، سلاد اور رائتا ڈال کر دیا گیا۔ کھانا بڑے مزے کا تھا خوب جی بھر کر کھایا۔ کچھ دیر یہاں پر چہل قدمی کی اور پھر آگے روانہ ہو گئے۔

گو کہ یہاں پر جرمنی کے زمینی مناظر بھی بہت خوبصورت تھے لیکن سوئٹزرلینڈ سے واپسی کے بعد یہ پھیکے پھیکے سے محسوس ہو رہے تھے۔ بلکہ اس بات کا ذکر میں نے عمیر کے ساتھ بھی خصوصی طور پر کیا اسی طرح چلتے چلاتے ہم رات گیارہ بجے کے قریب واپس لکسمبرگ پہنچ گئے۔

Facebook Comments HS