ڈاکٹر ذاکر نائیک: بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں گزشتہ کئی سالوں سے مختلف مذہبی مکاتب فکر کے علماء کی جانب سے عوام الناس کو یہ سمجھانے کی مسلسل کوشش ہو رہی تھی۔ کہ دیکھو جس ڈاکٹر ذاکر نائیک کو تم لوگ عالم دین مانتے ہو۔ وہ عالم دین نہیں بلکہ بہت بڑا رٹے باز ہے۔ جس نے اچھی یادداشت کے سہارے ہندوؤں اور عیسائیوں کی مذہبی کتب کے حوالے یاد کر کے عوام پر اپنی علمیت کی دھاک بٹھائی ہے۔ ورنہ وہ عالم تو نہیں ہے۔
اگر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی باتوں کو رٹے ہوئے حوالہ جات سے ہٹ کر دیکھا جائے اور پرکھا جائے اور اس سے کہا جائے کہ رٹے ہوئے جملوں کو پیش کرنے کے بجائے کسی واقعہ کا تجزیہ پیش کرے تو اس کی علمیت دھری کی دھری رہ جائے گی۔ اور وہ ایک عام مولوی ثابت ہو گا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کو پیس ٹی وی کے نام پر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے تھوڑے عرصے میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس کے علاوہ شہرت کی وجہ ان کا بہت بڑے درجے کا عالم ہونا نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ ان کو یادداشت اچھی ملی ہے۔ حالانکہ جب ان کے دیے ہوئے حوالے گوگل کیے گئے تو ان کے اندر غلط بیانی نکل آئی۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک مسلک کے اعتبار سے سلفی ہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ کہ دیوبندی، بریلوی اور شیعہ حلقوں میں وہ شروع سے ہی ناپسند کیے جاتے تھے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ وہ مغربی لباس زیب تن کرتے ہیں۔ وہ ہر تقریر اور ڈیبیٹ میں کوٹ پینٹ اور ٹائی پہنے نظر آتے ہیں۔ ان کی اردو بس واجبی سی ہے اور وہ انگریزی میں بہتر طور پر اپنی بات پہنچاتے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک پیشے کے اعتبار سے ایک مقرر ہیں۔ جو تقابل ادیان پر ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ تقابل ادیان پر بالکل اتھارٹی نہیں ہیں۔ کیونکہ بہت کم عرصہ میں وہ اپنے جارحانہ لب و لہجے کی وجہ سے کئی تنازعات میں گھر چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ مشکلات کا شکار ہیں۔ وہ اگرچہ قومیت کے اعتبار سے بھارتی ہیں۔ مگر اب وہ بھارت سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔ بھارت میں ان کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ جن کے مطابق وہ منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اور ایسا شبہ کیا جاتا ہے۔ کہ وہ دہشت گردی کو سپورٹ کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کی انتہا پسندانہ سوچ کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے۔ کہ وہ دہشتگردی کو سپورٹ کرتے ہوں گے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جب کوئی کمزور ہوتا ہے۔ تو وہ طاقت کے استعمال کے خلاف ہوتا ہے۔ اپنی مظلومیت کا پرچار کرتا ہے۔ اور خاموشی سے اپنا کام کرتا ہے۔ لیکن جب وقت گزرنے کے ساتھ اس کے پاس طاقت آجاتی ہے۔ تو اس عاجز اور مسکین انسان کا رویہ ہی بدل جاتا ہے۔ اس کے لہجے میں تکبر اور بڑائی آجاتی ہے۔ وہ تفاخر کے احساس سے پھول جاتا ہے۔ اور پھر وہ مظلوم سے ظالم کا روپ دھار لیتا ہے۔ تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ تازہ ترین مثال یہودیوں کی ہے۔ جو ماضی میں مظلوم رہے لیکن جب انہوں نے ریاست بنا کر اقتدار حاصل کیا۔ تو انہوں نے مظلومیت کا لبادہ اتار پھینکا اور فلسطینیوں کے ساتھ وہ رویہ اپنایا۔ جو ماضی میں ان کے ساتھ ہوتا رہا۔ یہی رویہ افراد ہوں یا قوم دونوں پر اپلائی کیا جا سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کی انتہا پسندانہ سوچ کو ناپسند کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ ایک ذہین انسان ہوتے تو ان کو اپنی کم ہوتی مقبولیت پر ضرور تشویش ہوتی اور اپنے رویے میں مثبت تبدیلی لا کر اس کا سدباب کرتے۔
ابھی حالیہ دورہ پاکستان میں انہوں نے جو غلطیاں کی ہیں۔ ان کی وجہ سے عوام کی نظر میں ان کی شخصیت کا بت پاش پاش ہو گیا ہے۔ علماء حضرات تو چاہے کسی بھی فرقہ کے ہوں انہوں نے پہلے ہی ان کو سخت ناپسند کیا تھا۔ اب سوچنا بنتا ہے کہ ہمارے علماء حضرات ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں دور اندیش ثابت ہوئے کہ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو جذباتیت سے ہٹ کر پہلے ہی پہچان لیا تھا۔ لیکن عوام نے ان کو اس وقت پہچانا جب وہ عوام کے قریب جا کر پبلک ڈبیٹ میں گئے۔
کئی لوگ کہتے ہیں کہ دورہ پاکستان ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لیے بڑا مایوس کن ثابت ہوا۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ اسلام کے قلعے پاکستان میں ان کو بڑی پذیرائی ملے گی۔ ان کو ہر معاملے میں مفت ٹریٹ کیا جائے گا۔ اور ان کو سرکاری بلکہ شاہی مہمان کا درجہ حاصل ہو گا۔ لیکن ان کو اس وقت سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ان سے بھاری بھرکم سامان لانے پر ہوائی جہاز والوں نے مناسب کرایہ طلب کیا جو ان کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ دوسرا جھٹکا اس وقت لگا جب ان سے ایک بہت بولڈ لڑکی نے بچوں سے متعلق ایک ایسا سوال پوچھ لیا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ کیونکہ وہ یہ مان کر چلے آئے تھے کہ پاکستان ایک اسلامی معاشرہ ہے اور اسلامی معاشرہ میں بچوں سے بدفعلی جیسے سنگین جرائم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا انہوں نے اپنے فہم کے مطابق جواب دیا کہ بہن آپ ایک اسلامی معاشرے پر الزام لگا رہی ہیں۔ کیونکہ اسلامی معاشرے میں تو ایسے کام نہیں ہوتے۔ جو آپ بتا رہی ہیں۔ لیکن اگر وہ کام ہو رہے ہیں تو وہ ایک اسلامی معاشرہ نہیں ہے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک دور پاکستان سے قبل خود کو کوئی بہت بڑی توپ سمجھتے تھے۔ یہاں آ کر ان کو باور کرایا گیا کہ وہ شاہ رخ خان اور ورات کوہلی جیسے سلیبرٹی ہیں اس موازنہ پر موصوف بڑے سیخ پا ہوئے اور ڈکی بھائی کو ٹرول کیا۔
یہاں آ کر ڈاکٹر صاحب کو ایک اور زوردار جھٹکا تب لگا جب انہوں نے بہ چشم خود دیکھا۔ کہ یہاں کے بڑے بڑے علمائے دین تو یوٹیوب کی کمائی پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر انہوں نے جھٹ پٹ نادر شاہی حکم جاری کر دیا کہ یوٹیوب سے کمانا حرام ہے۔
ڈاکٹر صاحب خود تو بہت بڑی پوزیشن پر ہیں۔ ان کو دنیا بھر سے چندے ملتے ہیں۔ ان کے پاس پیسوں کی کمی نہیں۔ یوٹیوب سے دو چار پیسے کمانا تو ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ وہ ان علماء کرام کے محسوسات کو سمجھ نہیں سکتے جن کی ساری دال روٹی کا خرچ یوٹیوب سے کمانے پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوٹیوب سے متعلق ان کے بیان کو مسترد کیا گیا۔ یہ چیز دیکھ کر ڈاکٹر صاحب کو جھٹکا لگا کہ ارے جس معاشرے کو میں اسلامی سمجھتا تھا وہ تو دراصل ایک خود غرض اور نفسانفسی سے بھرا ہوا معاشرہ ہے۔ اسی لیے انہوں نے بیان دیا کہ پاکستان کی شہریت میں تب قبول کروں گا جب پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان کو پندرہ ملکوں کی شہریت آفر ہو چکی ہے۔ غالباً ان پندرہ ملکوں میں صومالیہ، یمن، ایران، لیبیا سعودی عرب اور سوڈان وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ان کے اس دعوے کی تا حال کسی ملک نے سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی ہے۔
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے ملکوں میں ان کو بین کیا گیا ہے غالباً وہ کینیڈا، انگلینڈ، بنگلہ دیش اور سری لنکا نہیں جا سکتے اور خود بھارت میں بھی ان کو بین کیا گیا ہے اس کے علاوہ ملائشیا نے ان کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک دیگر مصلحین اور ماہرین علم الکلام کی طرح اسلام کی کئی توجیحات سائنس سے ثابت کرتے ہیں۔ جبکہ ایسا کرنا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ کیونکہ سائنس ایک شعوری اور ارتقائی عمل ہے۔ سائنس ایک جامد علم نہیں ہے۔ اس میں مسلسل تنوع اور تکمیل کا عمل جاری رہتا ہے۔ سائنس کا سفر بہتر سے بہتر کی جانب ہے۔ کل کو اگر سائنس نے اپنے پرانے نظریات کی تجدید کی اور نئے زاویے دریافت کیے تو ڈاکٹر ذاکر نائیک کیا کریں گے؟ کیا پھر سے اپنی نئی تشریحات کو سائنس کے مطابق ڈھالیں گے۔ اس طرح تو وہ مسلسل مذہب کو سائنس کی تشریح کا محتاج رکھیں گے۔
آخر میں ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب سے دست بستہ گزارش ہے۔ کہ ڈاکٹر صاحب سوشل میڈیا کا دور ہے ذرا ہاتھ نرم رکھیں۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ آپ حق بات نہ کہہ سکتے ہوں کیونکہ یہ اکیسویں صدی ہے اور دنیا بھر میں جہاں جہاں جمہوری حکومتیں قائم ہیں وہاں وہاں آپ بول سکتے ہیں۔ اگر آپ شائستہ الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار کریں گے تو کسی کو آپ سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ دین اسلام پھیلانے اور اپنا بینک بیلنس بڑھانے میں حکمت سے کام لیجیے۔ اپنی رائے کو حتمی اور حرف آخر جان کر مسلط مت کیجئے۔ اور ان کی بھی سنیے جو بڑے شوق سے آپ کی سنتے ہیں۔ تقابل ادیان کے نام پر غیر مسلموں کے جھوٹے خداؤں کو برا مت کہیں۔ تاکہ وہ آپ کے سچے خدا کو برا نہ کہیں۔ مطلب دوسرے ادیان کی ٹرولنگ سے باز آجائیں۔ دعوت تبلیغ کے ضمن میں اپنی بات کریں۔ نفرت انگیز اور تحقیر آمیز گفتگو اور تقریر سے اجتناب کریں۔ اس طرح دنیا بھر میں آپ کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔


