ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کروڑوں لوگ کیسے مسلمان کیے

ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب نے کروڑوں لوگوں کو مشرف با اسلام کیا۔ ان کی اس شاندار کامیابی پر سوائے قائد اعظم، علامہ اقبال اور مفتی منیب الرحمٰن کے باقی سب لوگ خوش ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ شاندار کامیابی اسلام پر اپنے کامل یقین، اعلی اخلاق اور کامیاب ڈرامہ بازی کے زور پر حاصل کی ہے۔
ابھی کی مثال لے لیجیے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے پاکستان میں کچھ مزید اسلام پھیلانے کی خاطر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرکاری دعوت قبول فرمائی۔ وہ اس نیک مشن پر گھر سے نکلے، سالم ٹانگہ کرایا اور ائرپورٹ پہنچے۔ وہ پاکستان حکومت کے سرکاری مہمان ہونے پر بجا طور پر خوش تھے۔
ڈاکٹر صاحب اسلام کے بہت بڑے عالم ہیں اس لئے خدا پر توکل کے ساتھ ساتھ بہت سارا ساز و سامان بھی ساتھ لے کر سفر پر نکلتے ہیں۔ ائرپورٹ پر پہنچے تو پتہ چلا کہ ان کے پاس ایک ہزار کلو گرام ایکسٹرا وزن ہے۔ ایکسٹرا سامان کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرکاری ائر لائن پاکستان انٹرنیشنل کے قاعدے اور قوانین کے تحت ڈاکٹر صاحب کو کچھ ادائیگی کرنا تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو البتہ بہت اعتماد تھا کہ وہ کوئی چکر چلا لیں گے اور ایکسٹرا سامان کا کرایہ ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ ان کی توقع کے برعکس ائر لائن نے قاعدے اور قانون کے مطابق ان سے ادائیگی کا مطالبہ کر ڈالا۔
ڈاکٹر صاحب ایک بہت بڑے عالم دین ہیں۔ ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ عام لوگوں کی طرح قانون پر عمل کریں گے، نامناسب نکلا۔ یہ یقیناً ان کی شان، رتبے اور عادات کے خلاف تھا۔
ڈاکٹر صاحب بہت بڑے مبلغ ہونے کے ناتے قانون کے سامنے انسانوں کی برابری (یا یوں کہیے کہ صحیح العقیدہ مردوں کی آپس میں برابری) اور انصاف کا درس دیتے ہیں لیکن خود تو اس کا شکار نہیں ہونا چاہتے تھے۔ اس لیے ائر لائن کی ڈیمانڈ نے انہیں دکھی کر دیا۔ انہوں نے پی آئی اے کے کسی بڑے افسر سے سفارش کی درخواست کی۔ وہ افسر جو ان کا مرید تھا اس نے ان کو پچاس فیصد تک کی رعایت دے دی۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب پی آئی اے سے غیر قانونی رعایت نہ ملنے پر بہت دکھی اور ناراض ہوئے۔
ڈاکٹر صاحب نے واضح الفاظ، اونچی آواز اور بھرپور اعتماد کے ساتھ بتا دیا کہ وہ ایک عام آدمی نہیں ہیں۔ وہ قوانین جو سب لوگوں کے لئے بنائے گئے ہیں ان پر عمل کرنا ڈاکٹر صاحب کی بے عزتی ہے۔ ائرپورٹ پر ڈاکٹر صاحب کے اخلاق کا مظاہرہ ہزاروں لوگ دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کا پیسے بچانے کے لیے لوگوں سے سفارشیں کروانا ان کی سادگی اور پاکیزگی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ ائر پورٹ پر موجود لوگ فوراً مسلمان ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ ائرپورٹ پر ان کے اچھے اخلاق اور صالح اعمال کی وجہ سے ہزاروں لوگ مسلمان ہو گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے قانون کے مطابق ائر لائن کو پیسے ادا نہ کرنے کی ایک اور جگاڑ نکال لی۔ اس جگاڑ کا ذکر انہوں نے اپنے ایک بیان میں بھی کر دیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب جب پاکستان آئے تو انہوں نے تبلیغ شروع کر دی۔ جس کا انہیں اور ان کے سننے والوں کو بے پناہ ثواب مل رہا تھا۔ انہوں نے لوگوں سے سوالات لیے اور مشکل سوالات کے جوابات نہایت شائستگی سے دیے۔ سوالات کے جوابات کے ساتھ ساتھ کچھ اضافی رہنمائی اور مدد بھی فرمائی۔ سوال کرنے والوں کو بتایا کہ وہ جاہل ہیں، مرتد ہیں اور یہ کہ اتنا مشکل سوال اٹھانے پر انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب کے اس رویے سے متاثر ہو کر ہزاروں لوگ مزید مسلمان ہو گئے۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے ہر ایونٹ اور ہر تقریر میں عورتوں کو ان کا اصلی مقام یاد دلایا اور حاضرین مجلس سے بھرپور داد اور چندہ وصول پایا۔ ان کا ماننا ہے کہ عورت عورت ہی ہوتی ہے چاہے آٹھ سال کی ہو یا ساڑھے آٹھ سال کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انڈیا میں جب ہندو لوگ انہیں تقاریر کے لیے بلاتے ہیں تو وہ عورتوں کو سٹیج سے دور کر دیتے ہیں تاکہ ڈاکٹر صاحب ہلچل سے محفوظ رہیں اور انہیں ڈاکٹر کے پاس نہ جانا پڑے۔ پاکستان میں یہ احتیاط ملحوظ خاطر نہیں رکھی گئی اور ایک یتیم خانے میں چھوٹی لڑکیوں کو سٹیج کے قریب کھلا چھوڑ دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کو ان یتیم بچیوں کے شر سے بچنے کے لیے بھاگنا پڑا۔ بچیاں تو شاید تھوڑی کنفیوز ہوئیں اور اپنے سر پر سینگ ڈھونڈ رہی تھیں لیکن ڈاکٹر صاحب کا ایمان بچ گیا۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اس شرعی عمل سے انصار عباسی صاحب خوش ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے، البتہ، ٹی وی اینکر عورتوں کو انٹرویو دیے اور اس کے فوراً بعد وہ اپنا چیک اپ کرانے ہسپتال چلے گئے۔ ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں نے انہیں لاہور کے مشہور اور سستے حکیم اسی سالہ تجربہ کار بنگالی بابا کے پاس جانے کا مشورہ دے دیا جس پر ڈاکٹر صاحب نے عمل بھی کیا۔
ڈاکٹر صاحب کے عورتوں اور بچیوں کے متعلق اس رویے کی وجہ سے بھی کئی ہزار لوگ ساری دنیا میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ بہت سے سیانے لوگوں نے تو یہ بھی کہا کہ انہوں نے عام آدمی کی طرح اسلام قبول نہیں کیا بلکہ مبلغ اسلام بنیں گے تاکہ انہیں قانون اور اخلاق سے ڈاکٹر ذاکر جیسی چھوٹ مل سکے اور عام لوگوں کی طرح غربت کی زندگی سے چھٹکارا پا سکیں۔
ڈاکٹر صاحب کے پاکستان کے دورے سے سیکولر لبرل لوگوں کو شدید اخلاقی شکست کا سامنا ہے۔ یہ وہی گروہ ہے جو لوگوں کے دھڑا دھڑ اسلام میں داخل ہونے کو شک اور حیرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ مسلمانوں کے کون سے وصف دیکھ کر لوگ مشرف با اسلام ہو رہے ہیں۔ اب ان کی بولتی تو بند ہوئی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے عالمی شہرت یافتہ مبلغ کا اخلاقی نمونہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ۔

