مجید امجد اور سرمایہ دارانہ نظام

وسائل اور اختیارات کا حصول انسانی سرشت میں روزِ اوّل سے موجود ہے۔ یوں انسان نے قدرتی وسائل کے بعد اِنسانی وسائل سے استفادے کے لیے اجتماعی زندگی کی طرف قدم آگے بڑھایا۔ قبائلی نظام کو وسائل و اختیارات پر قبضے کی اوّلین کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ آبی ذخائر کے کناروں پر کھیتی باڑی کا آغاز نئے سماجی ڈھانچے کی بنیاد بنا اور اجتماعی زندگی کا تصور پیدا ہوا۔ اس اجتماعی زندگی کے تصور کے بطن سے بادشاہت نے جنم لیا۔ بادشاہت طاقت اور وسائل کا مرکز و محور بن گئی اور آہستہ آہستہ اپنے ہی لوگوں کا استحصال کرنے لگی۔ تاریخ عالم میں باقاعدہ اور منظم نظام زندگی بادشاہت سے تشکیل پایا ہے۔ فردِ واحد کو طاقت اور وسائل نے محدود نوعیت کی آزادی و خودمختاری ضرور دی لیکن زندگی کے معاملات پر حتمی گرفت قائم رکھی۔ روم، عراق، چین، ہندوستان سمیت دنیا کے تمام ملکوں میں اُمور سلطنت کا انداز قریب قریب ایک جیسا رہا ہے۔
انیسویں اور بیسویں صدی نے بادشاہت کے خاتمے اور کئی خطوں میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دیا۔ انقلاب برپا ہوئے اور امورِ سلطنت میں عوام کی رائے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ جمہوریت بہترین نظام حکومت سمجھا جانے لگا۔ باوجود اس کے عوامی نمائندگی سے امورِ سلطنت کا خواب پورا ہوا مگر اس نظام کی قباحتوں نے عوام کو حقیقی ثمرات سے دور رکھا۔ سرمایہ دارانہ ذہنیت نت نئے روپ میں سامنے آئی اور اُس نے کئی پیرہن بدلے، اختیارات اور وسائل پر قابض گروہ عوامی رائے عامہ کو اپنی مرضی سے تشکیل دینے لگے۔ یوں درحقیقت عام آدمی اپنے ارماں کو سینے میں دبائے ایوانوں کی غلام گردشوں میں سائل بن کر گھومتا رہا۔ زندگی کی ناہمواریوں میں مسرتوں کا فقدان چہروں کی پیلاہٹ کا موجب بن گیا۔ نظام زر کا شکنجہ ہر خاص و عام کو اپنی گرفت میں لے کر مرضی کے مطابق سکھ تقسیم کرنے لگا۔ جو ارماں کے تھکا دینے والے سفر کا ناگفتہ بہ احوال ہے۔ مجید امجد کی نظم ”جہان قیصر و جم“ میں اس المیے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ زندگی کی بنیادی سہولتوں کی ذمہ دار سٹیٹ ہوتی ہے مگر سہولت تو کجا ایوان میں بیٹھنے والے صرف سانسیں گن گن کر دیتے ہیں۔ نظم ایک بڑی بی بی اور شاعر کے مابین مکالمے کی صورت میں بیان کی گئی ہے اور اس کے آخری دو بند سرمایہ داری کے خلاف ایک للکار بن کر دلوں کو گرماتے ہیں۔
کسی کے ہانپتے ارماں جنھیں جگہ نہ ملی
نظام زر کے چمکتے ہوئے قرینوں میں
اب ایک دوزخِ احساس بن کے کھولتے ہیں
مرے تڑپتے ارادوں کے آبگینوں میں
پڑا رہے گا یونہی کب تک اے خسِ پامال
بلند محلوں کی رفعت نورد زینوں میں
عطا ہوا ہے تجھے بھی یہ حق مشیت سے
خراج مانگ بہاروں کی بادشاہت سے
زمین کے وسائل زمین پر بسنے والوں کی ملکیت ہیں۔ انھیں صرف چند ہاتھوں نے اپنے قبضے میں لے کر زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ہم جس خطے میں پیدا ہوتے ہیں اُس کے وسائل میں برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے علاوہ اُجرت سے ٹیکس کی صورت حکومت کو ادائیگی موجودہ نظام کا بھیانک چہرہ سامنے لاتی ہے۔ امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہو رہا ہے۔ مزید کسر ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ہائپر کنزیومر نے نکال دی ہے۔ کرنسی سے کریڈٹ کارڈ کا سفر طے ہو چکا ہے۔ مگر عوام اور ایوان میں فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے زندگی تیز تر ہو گئی ہے۔ اب خود اپنے لیے بھی وقت میسر نہیں ہے۔ سو خوشی کا عنصر زندگی سے منہا ہو رہا ہے۔
انسان اپنی ازلی حیثیت میں مٹی کے ذرے کی طرح ہے۔ وہ اپنی عزت کا خواہاں ہے جو اُسے دولت کے حصول، تہذیب کی چھب، سلطنتوں کی دھج میں نظر آتی ہے۔ انسان جس رفعت کو پا لے اور جتنا بھی بلند تر ہو جائے۔ بے ثباتی اور بے وقعتی کے احساس سے ماورا نہیں ہو سکتا ہے۔ ہر عہد کا انسان حصول دولت کے لیے ہر ضابطے کو پامال اور اُصول کو فراموش کرتا رہا ہے۔ زندگی دہائیوں میں مکمل ہوتی ہے اور زر و مال صدیوں کی منصوبہ بندی کے غماز ہیں۔ مجید امجد حکمت و دانائی سے اس طرف توجہ دلاتے ہیں اور اس مٹی کو مٹی سے کم تر ہونے کا درس دیتے ہیں جس کے نتیجے میں سننے والا (خدا) اُس کی سنتا ہے اور یوں جو خدا کے نزدیک ہو جاتا ہے وہ زر کی چکا چوند سے اندھا نہیں ہوتا ہے۔ نظم اور یہ انسان کا آغاز ان لائنوں سے ہوتا ہے۔
اور یہ انسان۔ جو مٹی کا اک ذرہ ہے
جو مٹی سے بھی کم تر ہے
اپنے لیے ڈھونڈے تو اُس کے سارے شرف
سچی تکریموں میں ہیں
لیکن یہ تکریمیں ملتی ہیں
زر کی چمک سے
تہذیبوں کی چھب سے
سلطنتوں کی دھج سے
نہیں!…. نہیں تو….. !
نظم ”دروازے کے پھول“ نظام کی قباحتوں کو واضح کرتی ہے۔ نظم کے آغاز میں کسی وکیل کی کوٹھی کے دروازے پر کھلے پھولوں کا ذکر ہے جسے روز گزرنے والے دیکھ کر حظ اُٹھاتے ہیں۔ پھر ایک روز اس دروازے کی جگہ گیٹ لے لیتا ہے اور چمکتے فرش اور گھومتے پہیے کی وجہ سے پھولوں کا قدرتی رنگ و حسن غائب ہو جاتا ہے۔ مجید امجد نوحہ کناں ہیں کہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں جن کا کسی کو احساس بھی نہیں ہوتا ہے۔ زندگی کی تازگی و رعنائی کے لیے کسی درجہ ضروری ہیں۔ زر بجا طور پر فطرت میں بگاڑ پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔
نظم ”یہی دنیا“ میں سیم و زر کے دیوتاؤں کو سیاہ قسمت غلاموں کے آقا کی صورت دکھایا ہے۔ جن کے آنسوؤں سے چراغ اُلفت روشن ہے۔ جو حب وطن کے جذبے سے سولی کو چوم کر گلے میں ڈالتے ہیں۔ مذہب فروش جن کی بوٹیاں نوچ کر کھاتے ہیں۔ اور تہذیب کے پروردگار گدھ کی صورت مردار کھاتے ہیں۔ مزدور اور دہقان زر کی بھٹی کا ایندھن بنتے ہیں۔ یہ نظم انسان پر ظلم کی داستان سناتی ہے۔ عام آدمی نہیں جانتا کہ حب الوطنی، مذہبی عقائد، تمدن کا بیوپار اور روزگار دراصل استحصالی نظام کو تقویت پہنچاتے ہیں اور صرف چند لوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
جس جگہ روٹی کے ٹکڑے کو ترستے ہیں مدام
سیم و زر کے دیوتاؤں کے سیہ قسمت غلام
جس جگہ حبِ وطن کے جذبے سے ہو کر تپاں
سولی کی رسَی کو ہنس کر چومتے ہیں نوجواں
جس جگہ انسان ہے وہ پیکر بے عقل و ہوش
نوچ کر کھاتے ہیں جس کی بوٹیاں مذہب فروش
جس جگہ دہقاں کو رنج و محنت و کوشش ملے
اور نوابوں کے کتوں کو حسیں پوشش ملے
نظم ”ایکٹریس کا کنکریٹ“ دراصل کنکریٹ کے پس پردہ سامان داد و دہش کا نوحہ ہے۔ یہ فلم کا کنٹریکٹ نہیں بلکہ لذتِ جنس کی دستاویز پر اقرار نامہ ہے۔ بظاہر فلم کی ایکٹریس اداکاری کا معاوضہ طے کرتی ہے لیکن حقیقت میں یہ جسم کا معاہدہ ہے جو بادی النظر میں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ یہ استحصالی نظام کا تہہ در تہہ پھیلا ہوا غیر مرئی سلسلہ ہائے دراز زندگی کے تمام شعبوں میں موجود ہے۔ اس کا اظہار تحریری نہیں ہوتا اور اس پر مکمل ایمانداری سے عمل ہوتا ہے۔ یہ دستاویز کا حصہ نہیں ہے مگر اسے دستاویز پر فوقیت حاصل ہے۔ نظم کا آخری بند اس صورتِ حال کی عمدہ عکاسی کرتا ہے۔
بس ایک شرط یہ گوہر سطور دستاویز
ذرا کوئی یہ وثیقہ رقم کرے تو سہی
اکائیوں کے اُدھر جتنے دائرے ہوں گے
اِدھر بھی اتنے ہی عکس ان برہنہ شعلوں کے
سرمائے کی کشش نے انسان سے شائستگی اور تہذیب کا ارتقا چھین لیا ہے۔ مادیت نے اُسے اقدار و روایات کو فراموش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سرمائے کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہے اور انسان احساس سے نمو پاتا ہے۔ سرمائے اور احساس میں جاری کشمکش بالآخر احساس کی شکست کا سبب بنتی ہے۔ اسی لیے انفرادی اور اجتماعی سطح زندگی کا ہر پہلو سرمائے سے بندھا نظر آتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان قناعت جیسی عظیم صفت سے محروم ہو جاتا ہے اور طمع و ہوس کی تکمیل کے لیے فطرت کو بھی تیاگ دیتا ہے۔ مجید امجد نے اس کیفیت کا عمدہ اظہار ان اشعار میں کیا ہے۔
پکارتی رہی بنسی، بھٹک گئے ریوڑ
نئے گیاہ، نئے چشمہ رواں کے لیے
تو روشنی کے ملیدے میں رزق کی خاطر
میں روشنائی کے گودے میں آب و ناں کے لیے
مجید امجد کا لہجہ عام طور پر شائستہ اور پُروقار رہتا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ مسائل پر گرفت کرتے ہیں مگر سنجیدگی برقرار رکھتے ہیں۔ نظم ”کمائی“ میں اُن کا لہجہ بے حد تلخ ہو گیا ہے اور ناآسودگی کی وجہ سے کمائی کو کوڑا کرکٹ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں اور اس کی وجہ دراصل سرمائے کی طاقت اور محنت کی بے وقعتی ہے۔
آج ہمارے لیے کتنے کرمنڈل بھیجو گے امرت جل کے؟
تب ایسے میں، کون یہ جانے، بندے
کون اس بھید کو پائے بندے
کون یہ دیکھے لہو کی لہر کا روغن تو
اس بھوجن کا رس ہے
وہ بھوجن جو کوڑا کرکٹ ہے اور جس کو کتے بھی نہیں کھاتے
غرض مجید امجد سرمایہ دارانہ نظام کی قباحتوں سے سخت خائف ہیں۔ جابجا سخت موقف اپناتے ہیں اور اس نظام کی خرابیوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے زندگی نت نئے مسائل کا شکار ہے۔

