خیبر پختونخوا سے خیبر کا اخراج


جب 2010 میں این ڈبلیو ایف پی کا نام خیبر پختونخوا میں تبدیل کیا گیا، تب میں کالج میں فرسٹ ائر کا طالب علم تھا۔ اُس وقت بھی مجھے حیرت ہوئی کہ خیبر اور پختونخوا کو جوڑنے کا کیا مقصد تھا، کیونکہ دونوں کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں تھا۔ تاہم، یہ تبدیلی ایک آئینی ترمیم کے ذریعے عمل میں لائی گئی اور اسے پشتون قومیت کے جذبات کی عکاسی کے طور پر قبول کیا گیا۔ اب، جب خیبر کو پختونخوا کے نام سے نکالنے کی تجویز سامنے آئی ہے، تو یہ حیرت ایک بار پھر میرے ذہن میں آتی ہے، لیکن اس بار اس کی نوعیت مختلف ہے۔

خیبر اب محض ایک ضلع نہیں رہا؛ حالیہ پشتون قومی عدالتی جرگے کے بعد ، جس میں لاکھوں پشتونوں نے خیبر میں جمع ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی، یہ ایک تاریخی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ اجتماع نہ صرف خیبر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ پشتون قوم اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے۔ اس تناظر میں، خیبر کی حیثیت کو مزید سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم میگنا کارٹا کی مثال دیکھیں، جب عوامی حقوق کی بنیاد رکھی تھی۔

اسی طرح، خیبر بھی پشتونوں کی مشترکہ جدوجہد کی علامت بن چکا ہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی مقام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نظریے کی صورت اختیار کر چکا ہے جس کا مقصد پشتون قوم کے حقوق اور شناخت کی حفاظت کرنا ہے۔ ایسے میں، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا خیبر کو نام سے نکالنے کی یہ تجویز محض ایک سیاسی اقدام ہے، یا اس کے پیچھے کوئی گہری حکمت عملی پوشیدہ ہے؟ مزید برآں، یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ اگر یہ قومی جرگہ خیبر میں نہ ہوتا تو کیا یہ تجویز بغیر کسی اعتراض کے اتنی جلدی منظور ہو سکتی تھی؟

اس کے علاوہ، یہ تجویز ابھی آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنی، لیکن قومی اسمبلی میں اس پر کوئی باضابطہ اعتراض نہ ہونے اور اس کی ٹائمنگ ایسے وقت میں جب خیبر میں پشتون قوم کی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا، کچھ اور اشارے دیتی ہے۔ آخر میں، اگر یہ تجویز پشتونوں کے موجودہ مسائل جیسے معاشی بدحالی، سکیورٹی چیلنجز، اور سیاسی عدم استحکام کے حل میں کوئی مددگار ثابت نہیں ہو رہی، تو پھر اس کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ یہ امکان موجود ہے کہ یہ اقدام پشتونوں کی اجتماعی شناخت اور ان کی نئی سیاسی تاریخ کو پس منظر میں ڈالنے کی کوشش ہو

Facebook Comments HS