سرسید ڈے تقریبات: کیا ہم سرسید کو اس سے بہتر خراج عقیدت پیش نہیں کر سکتے؟
ہر سال 17 اکتوبر کو دنیا بھر میں علیگ برادری اور عقیدت مندان سرسید بڑے تزک و احتشام کے ساتھ سرسید ڈے مناتے ہیں۔ سیاہ شیروانیاں زیب تن کی جاتی ہیں۔ ’پارٹنر‘ اور ’جگروں‘ کی ٹولیاں ”یہ میرا چمن ہے میرا چمن“ کا ورد کرتے ہوئے جوق در جوق جلسہ گاہ کا رُخ کرتی ہیں۔ روایتی تقاریر کے ساتھ تقریب کی شروعات ہوتی ہے جس میں مقررین ”ایک ہاتھ میں سائنس اور دوسرے ہاتھ میں قرآن“ کا فلسفہ سمجھانے کی اپنی حد تک پوری کوششیں کر رہے ہوتے ہیں۔ اس بات کی بھی یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ”ہندستان ایک دلہن کی مانند ہے اور ہندو اور مسلمان اس کی دو آنکھیں ہیں“ وغیرہ وغیرہ۔ جلسہ کی نظامت کر رہے شخص کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ پے درپے اشعار سے سامعین کو باندھ کر رکھے اور انھیں احساس دلاتا رہے کہ وہ علی گڑھ کی وراثت اور اس کی تہذیب کے سچے امین ہیں۔ ترانہ علی گڑھ اور ترانہ ملی سے تقریب میں چاشنی گھولنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ اور جب نغمہ سازوں کا گروپ جو ’ابر یہاں سے اٹھا ہے و ہ سارے جہاں پر برسے گا‘ کے تیز سُر اُٹھاتا ہے تو تالیوں کی اجتماعی تھاپ ایک ایسا سماں باندھتی ہے کہ ہر علیگ جھوم اٹھتا ہے۔ تقریب کی رومانیت اور جذبہ علیگیت اپنے شباب پر ہوتی ہے اور ایک احساس فخر ہر حساس دل علیگ کو تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ایک ایسی رومانوی دنیا کی سیر پر لے جاتا ہے جس کا تصور آج کی مادی اور بھاگ دوڑ کی زندگی میں محال ہے۔
پھر ’رسم دنیا‘ اور ’دستور‘ کی ادائیگی کا عمل شروع ہوتا ہے اور مومینٹو اور یادگاری تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں۔ مہمان خصوصی کے ساتھ تصاویر اتروانے کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اس دوران انواع و اقسام کے مغلئی پکوان اپنی خوشبوئیں بکھیر رہے ہوتے ہیں اور دہکتے ہوئے تندور نانوں، کبابوں اور باربیکیو کی لائیو تیاریوں کے عمل میں مصروف ہوتے ہیں جو مینو کا خاص اٹریکشن ہوتی ہیں اور بڑی ہنر مندی اور مہارت سے کیٹرر سے طے کی جاتی ہیں کہ بقول ماہرین سرسید ڈنر قورمے اور کباب کا اصل ذائقہ جب ہے کہ جب کرارا خستہ نان تندور سے براہ راست پلیٹ میں اُترے اور انگیٹھیوں سے بھاپ نکلتے کباب کے ساتھ مل کر شکم سے ہوتے ہوئے روح تک پہنچے۔
پروگرام کے اختتام پر منتظمین وقت کی تنگی اور قلت سامانی کے باوجود تقریب کی شاندار کامیابی پر مہمانو ں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اس عہدو پیماں کے ساتھ تقریب اپنے اختتام کو پہچنتی ہے کہ اگلے سال سرسید کو اس سے بہتر اور شایان شان خراج عقیدت پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یوں ایک ایسے مرد مجاہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا عمل اپنے انجام کو پہنچتا ہے جس نے مسلمانوں میں جدید تعلیم کا شعور پیدا کیا اور سائنسی طرز فکر اور عقلیت پسندی کی بنیاد ڈالی۔
آج سرسید ڈے ڈنر کا دائرہ وسیع ہو کر بین الاقوامی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ لندن سے نیویارک اور سڈنی سے دبئی تک علیگ برادری بڑی شان و شوکت سے سرسید ڈے مناتی ہے۔ ان تقریبات میں خطابات، عشائیے، اور ثقافتی پروگرام شامل ہوتے ہیں، جو اکثر ذاتی میل جول اور نمائشی تقریبات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان تقریبات کو اچھے خاصے وسائل اور وقت درکار ہوتا ہے۔ اگر پوری دنیا میں ہو رہے سرسید ڈے ڈنر کا جملہ تخمینہ لگایا جائے تو ایک محتاط اندازے کے مطابق بھی یہ کئی کروڑ میں جا پہنچتا ہے۔
اب سوال یہ پید ا ہوتا ہے کہ کیا یہ تقریبات سرسید کی فکر اور نظریے کے مطابق ہیں؟ کیا اس سے سرسید کے مشن کو کوئی تقویت مل رہی ہے، کیا ہم واقعی ان کی اصل تعلیمات کی پاسداری کر رہے ہیں، یا پھر ہم نے ان کے نظریات سے ہٹ کر ایک غیر ضروری رسم کو اپنا لیا ہے؟ اور کیا سرسید کو خراج تحسین پیش کرنے کا اس سے کوئی بہتر طریقہ ہو سکتا ہے اور سب سے اہم سوال یہ کہ اگر سرسید آج ہمارے درمیان ہوتے تو کیا وہ ان تقریبات کی اجازت دیتے؟
سر سید احمد خان ایک ایسے روشن خیال مفکر اور مدبر تھے جنہوں نے تعلیم کی طاقت کو مسلمانوں کی ترقی کا واحد ذریعہ سمجھا۔ انہوں نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج (جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا) کی بنیاد رکھی تاکہ مسلمان جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ وہ ذاتی نمود و نمائش اورشخصی تعریف و توصیف کے سخت مخالف تھے۔ ان کی زندگی سادگی، خدمت، اور عملیت کا نمونہ تھی۔ وہ ہمیشہ یہ بات دہراتے رہے کہ معاشرتی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے وقت اور وسائل کا بہترین استعمال تعلیم اور سماجی اصلاحات میں ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی تعریف و توصیف کی محفلوں یا تقریبات میں۔ بلکہ وہ ایسی محفلو ں ہی کے خلاف تھے جو فکر و آگہی سے خالی ہوں اور محض رسم دنیا نبھانے کے لیے سجائی گئی ہوں۔ سرسید کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ قوم کی ترقی کا واحد ذریعہ تعلیم ہے اور اسی لیے انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں مسلمانوں کو جدید تعلیم دلانے پر مرکوز کیں۔ وہ ذاتی تقریبات جیسے سالگرہ وغیرہ کو فضول خرچی اور غیر ضروری سمجھتے تھے، اور ہمیشہ یہی چاہتے تھے کہ ایسی تقریبات پر خرچ ہونے والے پیسوں کو قوم کی فلاح و بہبود، خصوصاً تعلیم کے فروغ میں صرف کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 1897 عیسوی میں ان کی 80 ویں سالگرہ منانے کی تجویز سامنے آئی تو انہوں نے اس کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ یہ پیسہ فضول میں ضائع کرنے کی بجائے مسلمانوں کی تعلیم اور بھلائی کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ ہاں! البتہ سرسیدکو ادارے کے یوم تاسیس منانے کے سے احتراز نہ تھا لیکن اس کا مقصدبھی ذاتی شان و شوکت یا نام ونمود کے بجائے تعلیمی ادارے کی کامیابیوں اور ترقی کی یادگار ہو، اور اس کے ذریعے لوگوں میں تعلیم کی اہمیت کا شعور بیدار کیا جائے۔ سرسید کا نظریہ تھا کہ ایسی تقریبات میں وقت اور وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے، اور انہیں تعلیمی مقاصد کی ترغیب کے لیے استعمال کیا جائے۔ غرض یہ کہ یومِ تاسیس منانے کا مقصد صرف رسمی تقریبات نہیں بلکہ تعلیمی مشن کو آگے بڑھانا اور لوگوں کو تعلیم کی اہمیت سمجھانا تھا۔
اب جب کہ تاریخی حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ سرسید اپنی پیدائش کا جشن منانے کے خود مخالف تھے اور دوسری جانب یہ تلخ حقیقت بھی ہم سب کے سامنے ہے کہ سر سید احمد خان کی وفات کے سو سال بعد بھی مسلمان تعلیمی پسماندگی اور معاشرتی پستی کا شکار ہیں تو ان کے نام پر لاحاصل محفلیں سجانے اور بے جا فضول خرچی کا بھلا کیا جواز بنتا ہے جب کہ ان وسائل کی قوم کو سخت ضرورت ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی شرح خواندگی آج بھی قومی اوسط سے کم ہے، اور کئی مسلم اکثریتی علاقوں میں اسکولوں اور تعلیمی اداروں کا فقدان ہے۔ وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ہمارے بچے بچیاں تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہمارے بعض تعلیمی ادارے مالی مشکلات کی وجہ سے بدحالی اوربد انتظامی کا شکار ہیں جنھیں ہمارے تعاون اور سرپرستی کی ضرورت ہے۔
سرسید ڈے تقریبات کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ علیگ برادری پوری دنیا میں ایک الیومنائی ایسوسی ایشن کی شکل میں ہر چھوٹے بڑے شہروں میں موجود اور ایک حد تک منظم بھی ہے۔ ادارے کے لیے ان کی محبت اور احساس ملکیت بھی قابل تقلید ہے۔ اس میں بھی شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ اکثریت کے اندر قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ بھی موجود ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ انھیں صحیح رہنمائی فراہم کی جائے اور ان کے جذبے کو نام و نمود کے بجائے کار خیر کے لیے استعمال کیا جائے۔ سینئر اور سنجیدہ علیگیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں پہل کریں اور سرسید ڈے تقریبات کی ازسر نو تشکیل اور اصلاح کا فریضہ انجام دیں۔ سرسید کے یوم پیدائش کی بجائے ادارے کے یوم تاسیس کا نیا سلسلہ شروع کیا جائے۔ پوری دنیا میں سرسید کے نام پر کھائے جا رہے ڈنر کے اخراجات کو اکٹھا کر سرسید کے یوم پیدائش پر ہر سال ایک نئے سرسید ماڈل اسکول کا سنگ بنیاد رکھا جا سکتا ہے خصوصاً ان پسماندہ علاقوں میں جو ابھی تک تعلیم کی روشنی سے محروم ہیں۔ علیگ برادری مشترکہ طور پر ایسے اسکالرشپ فنڈز قائم کر سکتی ہے جو پسماندہ مسلمانوں کے بچوں کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کرسکیں۔ نا صرف ان کی فیسوں کا انتظام کریں بلکہ انہیں تربیت اور رہنمائی بھی فراہم کی جائے تاکہ وہ قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا سلسلہ دوبارہ سے شروع کیا جائے تاکہ تعلیمی بیداری کی نئی لہر پید ا کی جا سکے۔ آئیے ہم سب مل کر اس سرسید ڈے پر یہ عہد کریں کہ سرسید کے نظریا ت کی پاسدار ی محض ان کا ذکر کر کے نہیں بلکہ ان کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کر کے اور اپنی توانائی اور وسائل تعلیم کے فروغ میں لگا کر کریں گے۔ ملکی حالات کی سنگینی ہم سے یہ مطالبہ کر تی ہے کہ ہم تقریبات سے نکل کر عملی اقدامات کی طرف پیش قدمی کریں کہ یہی سرسید کے مشن کی حقیقی ترجمانی ہوگی، یہی ان کی روح کی تسکین کا سامان ہو گا، یہی سرسید کو سچا خراج تحسین ہو گا۔
(مضمون نگا ر انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کی مشرق وسطیٰ شاخ کے سابق کنوینر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ طلباء یونین کے سابق نائب صدر ہیں )


