عمران، شہباز کی بے وقوفیاں اور اندھی تقلید کرتے عوام
پاکستان کی سیاست میں عمران خان اور شہباز شریف دو اہم سیاسی شخصیات ہیں۔ دونوں نے مختلف مواقع پر عوامی قیادت کی اور بڑے فیصلے کیے، لیکن ان کے فیصلوں میں کچھ ایسی بے وقوفانہ غلطیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے ملک کی سیاست اور عوام کو شدید متاثر کیا۔ ان کی حکومتوں کے دوران جو بے ضابطگیاں اور ناکامیاں سامنے آئیں، ان کے نتیجے میں عوام کی زندگیوں میں مسائل اور مشکلات بڑھتی گئیں۔ تاہم، دونوں رہنماؤں کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ایسے فیصلوں کے باوجود ان کی اندھی تقلید کرتی نظر آتی ہے۔
عمران خان نے کرکٹ سے سیاست میں قدم رکھا اور ایک نئے پاکستان کی امید کے ساتھ عوام میں مقبولیت حاصل کی۔ ان کی مقبولیت میں نوجوانوں کا بڑا حصہ شامل تھا جو کرپشن سے پاک اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب دیکھتے تھے۔ لیکن ان کی حکومت میں کئی بے وقوفانہ فیصلے سامنے آئے جنہوں نے ان کی مقبولیت کو نقصان پہنچایا۔ عمران خان کی حکومت نے معاشی سطح پر بڑی ناکامیاں دیکھیں۔ ان کی مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس نے عوام کی زندگی کو مشکل بنا دیا۔ وہ اپنے دور میں قرضے کم کرنے اور خودمختار معیشت بنانے کے دعوے کرتے تھے، لیکن عملی طور پر قرضے بڑھتے گئے۔
عمران خان کی غیر مستقل مزاجی اور ”یوٹرن“ لینے کی عادت نے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ اکثر ان کے بیانات اور اقدامات میں تضاد پایا گیا، جس سے ان کی قیادت پر سوالیہ نشان لگا۔
شہباز شریف اپنی انتظامی صلاحیتوں اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مشہور تھے۔ لیکن ان کے فیصلوں نے بھی کئی جگہوں پر عوامی مشکلات میں اضافہ کیا۔ شہباز شریف نے پنجاب میں بڑے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے شروع کیے، جیسے میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین۔ اگرچہ یہ منصوبے ترقی کی علامت تھے، لیکن ان پر آنے والی لاگت نے صوبے کے وسائل کو سخت دباؤ میں ڈال دیا۔ عوام کے بنیادی مسائل، جیسے تعلیم، صحت، اور مہنگائی، کو نظرانداز کیا گیا، جس سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہوئی۔ ان کے منصوبوں کے لیے بیرونی قرضے لینا پڑے، جس سے صوبائی اور قومی سطح پر قرضوں کا بوجھ بڑھا۔ یہ قرضے مستقبل کی معیشت پر دباؤ بنے اور ان کے طویل مدتی فائدے پر سوالات اٹھائے گئے۔
عمران خان اور شہباز شریف، دونوں کو اپنے اپنے حلقوں میں اندھی تقلید کرنے والے حامی ملے ہیں۔ عوام کا ایک طبقہ بغیر سوچے سمجھے ان کی ہر بات کو مانتا ہے اور ان پر تنقید کو دشمنی یا مخالفت سمجھتا ہے۔ عمران خان کے حامیوں کی بڑی تعداد ان کے وعدوں اور خوابوں کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھنے کے بجائے جذباتی وابستگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ مہنگائی اور حکومتی ناکامیوں کے باوجود وہ عمران خان کی حمایت میں مضبوطی سے کھڑے رہے، جو سیاسی شعور کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ شہباز شریف کے حامی بھی ان کی ترقیاتی پالیسیوں کو بہترین قرار دیتے ہیں، حالانکہ ان منصوبوں کا براہ راست فائدہ عوام کو کم ملا۔ ان کے حامی ان کی انتظامی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہیں، مگر ان کی حکومت کی ناکامیوں پر تنقید سے گریز کرتے ہیں۔
عوام کا سیاسی شعور کسی بھی جمہوری معاشرے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عوام کو سیاستدانوں کی اندھی تقلید کے بجائے ان کے فیصلوں پر تنقیدی نظر رکھنی چاہیے۔ سیاستدانوں کو محض جذباتی وابستگی کی بنیاد پر حمایت کرنا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے اور ملکی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زندگی کے حقائق کو دیکھتے ہوئے اپنے رہنماؤں کے فیصلوں کا تجزیہ کریں۔ ان کو چاہیے کہ وہ ہر سیاستدان کے وعدوں اور دعوؤں کو حقیقت کی روشنی میں پرکھیں اور ملکی مفاد کو ذاتی یا جذباتی وابستگی پر ترجیح دیں۔
عمران خان اور شہباز شریف، دونوں نے اپنے دور میں بے وقوفانہ فیصلے کیے جو عوام اور ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے۔ دونوں لیڈروں کے حامیوں کی اندھی تقلید نے ان کو احتساب سے بچایا اور مسائل کو مزید بڑھا دیا۔ عوام کو چاہیے کہ وہ سیاسی شعور کا مظاہرہ کریں اور اپنے رہنماؤں کے فیصلوں کو بغور پرکھیں تاکہ پاکستان کو بہتر مستقبل کی طرف لے جایا جا سکے۔


