ڈاکٹر نائیک کو ایک سیشن سعودی عرب میں بھی کرنا چاہیے


عالم اسلام کی جتنی بھی عظیم ہستیاں ہیں انہیں عالم اسلام کے مقدس ترین مقام سعودی عرب بھیجنا چاہیے تاکہ اہل عرب بھی ان کے فیض سے فیضیاب ہو سکیں۔ وہاں بھیجنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب گمراہی کے راستے پر چل پڑے ہیں، شہزادہ سلمان کا ویژن 2030 دراصل روشن خیالی کا ایک ایسا چارٹر ہے جس میں انٹر سولائزیشنل ایسی تمام خصوصیات موجود ہیں جو انہیں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کریں گی۔

جب ترقی یافتہ ممالک کا نام لیا جاتا ہے تو ان میں سر فہرست وہی ممالک آتے ہیں جہاں ”ایل جی بی ٹی“ کمیونٹی کے حقوق کو بھی بنیادی انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے اور ان کو قانونی لحاظ سے بھی مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

اگر مسلمانوں کی تعداد کی بات کریں تو بقول اہل ایمان و یقین ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے، اکیلے ڈاکٹر نائیک نے لاکھوں لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کیا ہے۔ تو کیوں نہ ان کی ذہنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے، ہماری رائے میں انہیں ایک سیشن کا بندوبست سرزمین مقدس میں بھی کرنا چاہیے تاکہ اہل عرب کی اصلاح ہو سکے۔ انہوں نے عرب کی پاکیزہ سرزمین پر ہر اس ثقافتی سرگرمی کی اجازت دی ہے جس کو دنیائے کفر میں نارمل سمجھا جاتا ہے اور انفرادی و نجی حق کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر نائیک ایسے مذہبی دیدہ وروں کا یہ خیال ہے عالم اسلام کی تباہی یا ترقی یافتہ دنیا سے پیچھے رہ جانے کی بنیادی وجہ دین سے دوری اور اہل کفار کی بے ہنگم تقلید ہے۔ ڈاکٹر نائیک کو برصغیر کے خطے میں مغز خوری کرنے کی بجائے اہل عرب کو دوبارہ سے اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔ چیپٹر نمبر فلاں، ورس نمبر دس اور حوالہ نمبر فلاں کا درس اہل عرب کو بھی دینے کی ضرورت ہے، انہوں نے وہاں جوئے خانے، شراب خانے، شو بزنس، موسیقی تک کی اجازت دے دی ہے۔

ہمارا بھلا ان کفریہ سرگرمیوں سے کیا سمبندھ؟

ہماری مذہبی تعلیمات میں تو اس قسم کی سرگرمیوں کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہے، اس لیے ڈاکٹر نائیک کو مکمل تیاری کے ساتھ عرب کی سرزمین پر بھی اپنے حوالوں کا پنڈورا باکس کھولنا چاہیے۔ ممکن ہے آپ کی پر مغز اور حوالوں سے بھرپور گفتگو سن کر وہ پھر سے صحیح معنوں میں مشرف بہ مذہب ہو جائیں اور گمراہی کے راستوں کو ترک کر کے پھر سے سچے مذہبی بن جائیں۔

کیا ڈاکٹر نائیک یا ان ایسے دوسرے علماء وہاں جاکر اہل عرب کی اصلاح کا بیڑا اٹھائیں گے؟

ہماری نظر میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو مشرف بہ اسلام کرنے کی بجائے اپنے گھر کی خبر لینے کی ضرورت ہے، سوچنا ہو گا کہ آ خر کس مجبوری نے عرب دنیا کو مختلف انداز میں سوچنے پر مجبور کیا ہے؟ جبری طور پر اپنا ہی راگ الاپنے والوں کو دوسروں سے ہم آہنگ ہونے پر کس نے مجبور کیا ہے؟ خواتین کو پردے کی پابندی سے خلاصی، ڈرائیونگ کرنے کی آ زادی اور آزادانہ سفری سہولیات ایسے اقدامات کن اخلاقی تعلیمات کی روشنی میں کیے گئے ہیں؟

ہمیں اسلام کی آ ماجگاہ میں یہ باتیں سننے کو کیوں نہیں ملتی کہ مذہب خطرے میں ہے، سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے وغیرہ۔ سوچنے والی بات ہے کہ ہم مذہبی معاملات میں اس قدر حساس کیوں ہیں؟ اس قسم کی جذباتیت و حساسیت ہمیں عرب دنیا میں نظر کیوں نہیں آتی؟ جس قدر مذہبی تبلیغ و تلقین کا بندوبست برصغیر کے خطے میں کیا جاتا ہے عرب دنیا میں ایسا چلن کیوں نہیں ہے؟

انہوں نے تو تبلیغی جماعت کے اپنے ہاں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور شنید ہے کہ پرتشدد قسم کا مذہبی رویہ رکھنے والے علماء دین خاص طور پر مولانا مودودی، سید قطب اور حسن البنا ایسی مذہبی شخصیات کی کتب تک پر پابندی عائد ہے۔ کیا اہل عرب دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں یا ہمارا مذہبی فہم ان سے اعلیٰ و ارفع ہو چکا ہے؟

Facebook Comments HS

One thought on “ڈاکٹر نائیک کو ایک سیشن سعودی عرب میں بھی کرنا چاہیے

  • 18/10/2024 at 2:07 شام
    Permalink

    کسی انسان کو جھوٹا کہلانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق آگے بڑھادے۔
    میں نا ڈاکٹر ذاکر کا معتتقد ہوں نا طارق جمیل یا طاہر القادری جیسے لوگوں کا۔
    لیکن آپ جیسے نام نہاد دانشور بھی قابل تعزیر ہیں۔

    کیا واٹس ایپ، یو ٹیوب یا فیس بک کے علاوہ آپ وہ جگہ بتا سکتے ہیں جہاں سعودی عرب میں جوا خانہ یا شراب خانہ سرکاری طور پر اجازت نامے کے ساتھ موجود ہو۔ سب فیک نیوز ہیں۔

    موسیقی، ڈانس، فلمیں یا سنیما سعودیہ میں پہلے بھی موجود رہے ہیں انڈین فلمیں تو معمولی بات ہیں یہاں مصری لبنانی فلمیں اور یورپی چینل پہلے بھی سیٹلائٹ یا دوسرے میڈیم سے دیکھے جاتے تھے۔ لوگوں نے تھیٹر اور منی سنیما پہلے بھی بنارکھے تھے۔ میچز میں فیملی کے ساتھ میچ دیکھنا ہو یا فنکشن کیا پاکستان میں یہ چیزیں نہیں ہوتیں اگر سعودیہ میں اب ہورہی ہیں تو کیا مشکل ہے َ؟

Comments are closed.