سفرِ یورپ: سوئس وادی لاٹربرونن سے پیرس اور روم کی گلیوں تک


اس سال اگست میں، ایک فیلو شپ کے لیے بازل، سوئٹزرلینڈ میرا ٹھکانہ رہا۔ لیکن یورپ جیسی خوبصورت سرزمین پر رہتے ہوئے انسان اپنے تجسس کو کیسے روکے؟ چنانچہ میں نے زیورخ، برن، لاٹربرونن، جنگفرو، لوسرن، جنیوا، پیرس، میلان، روم اور جرمنی کے شہر فرائیبرگ جیسے مشہور مقامات کا سفر کیا۔ یہ ایک ایسا سفر تھا جو خوابوں کی طرح گزرا۔

یورپ میں سفر کرنا ایک فلم کے کردار کی طرح محسوس ہوا۔ وہاں کی خوبصورتی، صفائی اور لوگ۔ سب کچھ بے حد پرکشش تھا۔ ہر شہر کا اپنا ایک منفرد مزاج تھا، ہر شہر کا قدرتی حسن، عظیم الشان عمارتیں، اور سب سے بڑھ کر وہاں کے لوگوں کا زندگی کے لیے رویہ۔ سب کچھ عالی شان تھا۔

سوئٹزرلینڈ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سکون اس قدر تھا کہ یوں لگتا جیسے لاٹربرونن کی چراگاہوں میں چرنے والی بھیڑ بکریاں اور گائیں بھی دھیان لگا رہی ہوں۔ وہاں کے لوگ، چاہے مقامی ہوں یا پردیسی، سب صبر کی مجسم تصویر تھے، ان میں ایک فطری احترام پایا جاتا تھا۔

بازل شہر جہاں قدم رکھتے ہی ایک عجیب سا سکون آپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، جو ایک جدید جنت کی منظر کشی کر رہا تھا۔ وہاں کی صفائی ستھرائی اور لوگوں کا رویہ سب کچھ طلسماتی تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ میں ایک فلمی سیٹ پر موجود ہوں، جہاں ہر چیز ترتیب سے موجود ہے۔

رائن دریا، جو شہر کے بیچوں بیچ بہتا ہے، ایک داستان کی منظر کشی پیش کر رہا تھا اور شہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا تھا۔ شام کے وقت جب میں اس دریا کے کنارے بیٹھ کر خدا کی قدرت کا نظارہ کرتا تھا تو ایسا لگتا کہ میں ایک مصور کی پینٹنگ کا کوئی کردار ہوں۔

برن کی قدیم عمارتوں نے گویا ماضی میں دھکیل دیا، اور یوں محسوس ہوا کہ ماضی اور حال ایک ہی دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔

زیورخ میں قدم رکھتے ہی آپ کو محسوس ہو گا جیسے آپ کسی شاندار اور بے عیب، ترتیب سے بھرپور جہاں میں داخل ہو گئے ہوں۔ وہاں کی ہر چیز منظم، کارآمد اور گویا مستقبل کا منظر پیش کر رہی تھی۔

جنیوا کی تو ہوا میں بھی اخلاق و ادب شامل تھا۔ لوگ وہاں اپنی زندگیوں میں اس قدر مگن تھے کہ آپ کو دیکھ کر کوئی پروا نہیں کرتا کہ آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں۔ جھیل جنیوا کے درمیان موجود مشہور فوارے ”جنیوا واٹر“ کے سامنے کھڑے ہو کر دل میں خیال آیا، ”یہ کیا جادو ہے؟“ فوارے کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے وہ آسمان کی طرف اشارہ کر کے انسان کو اس کی عظمت اور بلندی کا احساس دلا رہا ہو۔

جرمن شہر فرائیبرگ کے ماحول کی رفتار میں ہلکا سا فرق محسوس ہوا۔ پرانے شہر کی گلیوں میں چلتے ہوئے جب نظر چھوٹی چھوٹی ندیوں اور جھیلوں پر پڑی جن کے کنارے بیٹھے لوگ جوتے اتارے اپنے پاؤں پانی میں ڈال کر کتابوں کا مطالعہ کر رہے تھے تو دل چاہا کہ تا عمر وہیں رہا جائے۔ مختلف دکانوں اور کیفے کی خوشبو نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ ایک انڈین کیفے میں بیٹھ کر کھانے سے سفر کا مزہ دوبالا ہو گیا۔

پیرس کا شمار دنیا کے سب سے دلکش شہروں میں ہوتا ہے، اور اس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے قدیم عمارتوں، جدید طرزِ زندگی اور وہاں کے لوگوں کی ملنساری نے مجھے حیران کر دیا۔ میں نے سب سے پہلے مشہور ایفل ٹاور کا دورہ کیا، جو پیرس کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ٹاور کی بلندی سے شہر کا منظر نہایت حسین تھا۔ اس کے بعد میں نے پیرس کے چھوٹے اور بڑے بازاروں کا رخ کیا۔ ہر بازار کی اپنی منفرد خوشبو اور رنگینی تھی۔ مقامی مارکیٹوں میں فرانس کی ثقافت کی جھلک مل رہی تھی۔ پیرس میں ہر گلی، ہر عمارت اور ہر منظر ایک الگ کہانی سنا رہا تھا۔

اس سفر کے آخری ہفتے کے دو دن میلان اور روم میں گزرے۔ میلان تاریخ اور جدیدیت کا حسین امتزاج ہے۔ ایک جھلک میں، میں نے اس شہر کے جلال کو محسوس کیا۔
سب سے پہلے میں نے میلان کے مشہور قلعے کا رخ کیا، جو اپنی شان و شوکت میں بے مثال تھا۔ قلعے کی دیوار بھی ماضی کے قصے سنا رہی تھی۔

میلان کیتھیڈرل کے سامنے کھڑے ہو کر جب میں چلتے پھرتے ہزاروں لوگوں کو دیکھ رہا تھا تو ایسا لگ رہا تھا کہ میرے لیے وقت رک گیا ہے۔ لیونارڈو داونچی کے عجائب گھر کا دورہ تو ایک لاجواب تجربہ تھا۔ اس عظیم فنکار کی تخلیقات کو قریب سے دیکھنا کسی خواب سے کم نہیں تھا۔ ہر فن پارہ گویا ایک راز تھا جو اپنی زبانی سب کچھ بیان کر رہا تھا۔ اسی شام میں نے روم کا رخ کیا۔

روم وہ شہر ہے جس کا نام سنتے ہی انسانی تاریخ دماغ میں گھومنے لگتی ہے۔ یہ شہر اتنا حیران کن ہے کہ چلتے پھرتے آپ کو اپنے وجود پر شک ہونے لگتا ہے۔ شہر کی گلیوں میں قدم رکھتے ہی لگتا تھا کہ یہ کوئی معمولی جگہ نہیں، بلکہ ایک تاریخ کی کتاب ہے جو ہر موڑ پر نئی کہانی سناتی ہے۔ جب میں روم میں تریوی فاؤنٹین پہنچا تو وہ منظر ناقابلِ فراموش تھا۔ سامنے عظیم مجسمے، اور ان سے بہتا ہوا پانی۔ جب اس کے چھینٹے میرے چہرے پر پڑے تو ایسا لگا یہ مجھے اپنی طرف بلا کر باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ فاؤنٹین کے ارد گرد دنیا کے ہر کونے سے آئے ہوئے لوگ، مختلف رنگ و نسل کے، مجھ سمیت اس منظر میں گم تھے۔

جب میں قدیم روم کی گلیوں میں ٹہل رہا تھا تو ایسا محسوس ہوا جیسے جولیس سیزر میرے ساتھ چل رہے ہیں، اور میں انہیں یقین دلا رہا ہوں کہ اگر بروٹس کی جگہ میں ہوتا تو ہرگز ایسا نہیں کرتا۔ یہاں کھڑے ہو کر یوں لگا جیسے میں وقت کی گردش میں پھنس گیا ہوں۔ لمحے کے لیے خیال آیا، ”اگر یہ عمارتیں بول سکتیں تو کیا کیا کہانیاں سناتیں!“ اس پورے علاقے کا سب سے بڑا شاہکار تھا کلوزیم، وہ عظیم میدان جہاں کبھی جنگجو اپنی جان کی بازی لگاتے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ تماشا دیکھنے آتے تھے۔ کلوزیم کے اندر داخل ہو کر میں نے اپنی آنکھوں سے وہ وسعت دیکھی۔ وہاں کھڑے ہو کر روم کی عظمت کا احساس ہوا۔

لیکن ان تمام مقامات میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں تھی، وہ لوگوں کا ذاتی خیال اور ان کی اپنی جگہ کا احترام تھا۔ چاہے یہ سوئٹزرلینڈ کی کسی ٹرین میں خاموش لمحہ ہو یا پیرس کی پرہجوم گلی، ایک غیر محسوس لیکن واضح اصول تھا کہ ہر شخص کو سکون کا حق حاصل ہے۔ کوئی آپ کی جگہ پر زبردستی قبضہ نہیں کرتا۔ نہ جسمانی طور پر اور نہ ہی نظریاتی طور پر۔ اور ہمارے ہاں کی طرح نہیں کہ جہاں ہر قدم پر محسوس ہوتا ہے جیسے ایک نہ ختم ہونے والا تماشا لگا ہوا ہو کہ ”کون کس کو دیکھ رہا ہے؟“ وہاں کے لوگ اپنی دنیا میں مگن تھے۔

یورپ کے ہر کونے میں، جنگفرو کی پہاڑیوں سے لے کر روم کے قدیم کھنڈرات تک، مجھے ایک عجیب سی امنگ اور سکون کا احساس ہوا۔ یہ سکون خاموشی سے نہیں بلکہ احترام سے پیدا ہوتا ہے۔ اختلافات کا احترام، وقت کا احترام، اور شخصیت کا احترام۔ یورپ صرف ایک جگہ نہیں ہے، یہ ایک تجربہ ہے۔ اور میرے جیسا شخص، جو روزمرہ کی تیز رفتار زندگی کا عادی ہے، وہاں یہ یاد دہانی ملی کہ کبھی کبھی بہترین کام یہ ہوتا ہے کہ ایک لمبی سانس لیجیے، قدم ذرا آہستہ کیجیے، اور منظر سے لطف اٹھائیے۔ چاہے وہ سوئس الپس کی خوبصورت وادی ہو یا روم کی گلیاں ہوں۔

Facebook Comments HS